کراچی میں گزشتہ روز سینٹرل پولیس آفس کے سامنے خود کو آگ لگانے والا معطل سب انسپکٹر مظفر علی چانڈیو انتقال کرگیا ، سب انسپکٹر کی نماز جنازہ گلشن حدید فیز 2 میں ادا کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق آئی آئی چند ریگر روڈ پرواقع سینٹرل پولیس آفس کے سامنےگزشتہ روز معطل سب انسپکٹر نے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی جس کے باعث وہ جھلس کرشدید زخمی ہو گیا تھا جبکہ متوفی سب انسپکٹر کے بھتیجے صفدر علی چانڈیو نے بتایاکہ سب انسپکٹر مظفر علی چانڈیو کا رات گئے دوران علاج انتقال ہوگیا ہے۔
بھتیجے صفدر علی چانڈیو کا کہنا ہے کہ مظفر چانڈیو نے مرنے سے قبل تنگ کرنے والے 4 پولیس اہلکاروں و افسران کو نامزد کیا ہے جبکہ آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی کو ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اورانکوائری کی جائے کہ آخرکیا محرکات تھے کہ سب انسپکٹرنے یہ انتہائی اقدام اٹھایا ہے۔
یاد رہے پیر کو میٹھادر تھانے کے حدودآئی آئی چندریگرروڈ پرواقع سینٹرل پولیس آفس کے سامنے پولیس سب انسپکٹرنے خود پرپیٹرول چھڑک کرخود سوزی کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران جھلس کرشدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال کےبرنس وارڈ منتقل کردیا گیا جہاں پولیس سب انسپکٹرکی شناخت مظفرعلی چانڈیو ولد محمد علی کے نام سے کرلی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ پولیس کے ایک با وردی سب انسپکٹر نے محکمانہ مسائل سے تنگ آکر کراچی میں سینٹرل پولیس آفس کے سامنے خود کو آگ لگائی تھی اور متوفی سب انسپکٹر مظفر چانڈیو سندھ پولیس کے محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن میں تعینات تھا جو سندھ کے میرپور خاص ضلع سے تعلق رکھتا ہے۔
خیال رہے مظفر چانڈیو 1997 ءمیں لاڑکانہ سے پولیس میں بھرتی ہوا تھا، مبینہ طور پر سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر اس کی سروس بک میں دو درجن سے زائد بیڈ انٹریز موجود ہیں جو سرکاری ملازم کے لیے اچھی نہیں سمجھی جاتیں۔
Comments
Post a Comment