این اے 75ڈسکہ کا ضمنی انتخاب کالعدم،دوبارہ پولنگ کا حکم- وزیر اعظم کا فیصلہ ماننے سے انکار ,الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

 




الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے75 ڈسکہ میں حالیہ ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخاب کرانے کا باضابطہ فیصلہ دیدیا ہے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس ضمن میںآرڈر جاری کیا گیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی طرف سے فیصلے میں کہاگیا ہے کہ فریقین کی جانب سے دیے گئے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ ریٹرننگ آفیسر اور کمیشن کی طرف بذات خود مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 19 فروری کو ضمنی انتخاب کے دوران حلقے میں امیدواروں اور ووٹرز کو حق رائے دہی کیلیے آزادنہ ،منصفانہ و سازگار ماحول فراہم نہیں کیا گیا اور متعلقہ حلقے میں انتخابات دیانتداری سے آزادانہ اور شفاف انداز میں منعقد نہیں ہوئے ،،لڑائی جھگڑے اور تشدد ہوا، فائرنگ کی گئی جس سے2 افراد کا قتل اور لوگوں کے زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے جس کے باعث ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا اورامن و امان کی صورت اور ماحول خراب ہوگیا۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر حالات کے نتیجے میں انتخابی عمل شکوک و شہبات اور غیر یقینی کا شکار ہوگیا ۔کمیشن آئین کے آرٹیکل 218 (3) میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق (9)ایک کے تحت حاصل اختیارات کو عمل میں لاتے ہوئے حلقہ این اے75 (سیالکوٹIV) میں 19 فروری 2021 کو ہونے والے ضمنی انتخابات کو کالعدم قرار دیتا ہے اور 18 مارچ 2021 کو پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیتا ہے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائیگا۔حکم نامے پر چیئرمین الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجا ، رکن جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی ،رکن جسٹس (ر) ارشاد قیصر رکن نثار احمد رکن درانی اوررکن شاہ محمد جتوئی کے دستخط موجود ہیں ۔الیکشن کمیشن میں مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں مسلم لیگ (ن)کی امیدوار نوشین افتخار نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی تھی، جن کے نتائج روکے گئے تھے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے این اے 75 مبینہ انتخابی دھاندلی کیس کی سماعت کی۔ سماعت میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار کی نمائندگی کرنے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جن پولنگ اسٹیشن کے پریزائڈنگ افسران غائب ہوئے وہاں پولنگ کی شرح 86 فیصد تک رہی۔ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ معاملے کی تہہ تک تحقیقات کریں کہ ڈی ایس پی ذوالفقار ورک کی دوسری مرتبہ تعیناتی کا کون ذمہ دار ہے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدوار کے سب سے بڑے سپورٹر نے کہا تھا کہ یہ ڈنڈے اور سوٹے کا الیکشن ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گاؤں میں ڈنڈے سوٹے تو ویسے بھی چل جاتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے رکن سندھ نے کہا کہ ویڈیو سے لگتا ہے ڈنڈے سوٹے کا لفظ محاورے کے طور پر بولا گیا تھا۔وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ غیر متنازع تمام 337 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کو روکا گیا۔وکیل نے کہا کہ نوشین افتخار نے ریٹرننگ افسر (آر او) کو جو درخواست دی اسے پڑھا جائے، نوشین نے 23 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی جبکہ آر او نے بھی اپنی رپورٹ میں بیس پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تاخیر سے پہنچنے اور صرف 14 پر ری پولنگ کی تجویز دی۔دریں اثناء الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر 4مارچ 2021 کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ رینج کو ان کے موجودہ عہدوں سے تبدیل کرکے گوجرانوالہ ڈویژن سے با ہر بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔الیکشن کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ اور اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کو معطل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ ذیشان جاوید لاشاری ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، حسن اسدعلوی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ،آصف حسین اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ، ذوالفقار ورک ڈی ایس پی سمبڑیال اور محمد رمضان کمبوہ ڈی ایس پی ڈسکہ کو معطل کیا جائے اور ان کو آئندہ کیلیے کسی الیکشن ڈیوٹی پر مامورنہ کیا جائے۔ ان تمام افسران کے خلاف الیکشن کمیشن خود انکوائری کرے گا یا وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کو انکوائری کرانے کا حکم دے گا جس کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔



وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، ڈسکہ ضمنی انتخاب پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان


February حکومت نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق این اے 75 ڈسکہ کے الیکشن پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد حکومت متحرک ہوگئی ۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس منعقد ہوا ۔ وزیر اعظم اور ترجمانوں کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بریفنگ دی گئی ۔ ڈسکہ کے ضمنی انتخابی نتائج کے بارے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے قانونی اور آئینی پہلوئوں پر مشاورت کی گئی ۔ ترجمانوں کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کو فیصلے کو چیلنج کرنے پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ علی اسجد ملہی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔علی اسجد ملہی ڈسکہ این اے 75 سے تحریک انصاف کے امیدوار ہیں ۔فیصلے کو چیلنج کرنے کے حوالے سے مزید مشاورت ہوگی۔وفاقی کابینہ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کے نئے معاہدے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ارکان کو سینیٹ انتخابات کی حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کابینہ ارکان سینیٹ انتخابات میں اپنا فعال کردار ادا کریں، وفاقی وزراء بھی ارکان اسمبلی سے رابطے کریں۔ وزیر اعظم کا اس موقع پر کہنا تھاکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو دورہ سری لنکا پر بھی اعتماد میں لیا۔علاوہ ازیںوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام اور کورونا وبا کے اثرات سے بحالی کے لیے تعمیراتی شعبے کا فروغ کلیدی اہمیت کا حامل ہے ،تمام چیف سیکرٹری صاحبان منظوریوں کے عمل پر مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ یہ عمل کسی بھی قسم کی تاخیر کا شکار نہ ہو ، نئی سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ موجودہ غیر منظور شدہ یا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے حوالے سے بھی مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں ملک میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور مختلف منصوبوں کی منظوریوں کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کم آمدنی والے افراد کے لیے حکومت کی جانب سے سماجی تنظیم اخوت کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے اخوت کو پانچ ارب روپے فراہم کیے گئے تھے۔ اس منصوبے کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اخوت کو مزید پانچ ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اخوت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے ان کو مزیددو ارب روپے درکار ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے فراہم کر دیے جائیں گے ۔ آباد کے نمائندے کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سندھ میں کم و بیش 258منصوبے منظوریوں کے منتظر ہیں۔ آباد کی جانب سے وزیرِ اعظم سے درخواست کی گئی کہ وفاقی حکومت زیر التوا منصوبوں کی منظوریوں کے عمل کو تیز کروانے کے حوالے سے معاونت فراہم کرے ۔ وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی کہ زیر التوا منظوریوں کے عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے نہ صرف معاشی عمل تیز ہوگا بلکہ صوبے کی عوام کو نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ لہذا اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ دریں اثنا ء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستقبل کی ضروریات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جانی چاہیے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں، کھیت سے مارکیٹ تک اشیا کی منتقلی اور دیگر عوامل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا جائے ،کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں اشیا ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، سید فخر امام، مشیر ڈاکٹر عشر ت حسین، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، بنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر مزید کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے، صوبوں کے درمیان رابطے مزید مستحکم کیے جائیں تاکہ قیمتوں میں فرق ختم کیا جا سکے۔قبل ازیںوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ راوی سٹی منصوبہ لاہور شہر کی رہائشی و دیگر ضروریات پوری کرنے کیلیے نہایت اہم منصوبہ ہے، ا س سے معاشی سرگرمیوں کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے لاہور میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام اور راوی سٹی منصوبے کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کو والٹن لاہور میں قائم ہونے والے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔



Comments