بحریہ آئکون ٹاور سمیت کلفٹن کی تمام ناجائز تعمیرات کے خلاف بڑی کروائی -سندھ بھر میں تمام سرکاری اراضی واگزار کرنے کا حکم، قبضوں کا ریکارڈ طلب

 




کراچی (کورٹ رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے کراچی کے مختلف معاملات پر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سندھ بھر میں سرکاری زمینوں کو واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے قبضوں کی رپورٹ طلب کرلی۔ساتھ ہی چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے طویل سماعت کے دوران ایک مرتبہ پھر حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، وفاقی حکومت کی زمین کنٹونمنٹ ایریا کو کیسے فروخت کرسکتے ہیں، کیا ملک میں کوئی قانون نہیں ہے، کیا کوئی نہیں دیکھ رہا۔عدالت نے صوبے بھر کی گرین بیلٹ بحال کرنے ،کھیل کے میدانوں، پارکس سے تجاوزات ،محکمہ جنگلات کی زمینوں سے قبضہ ختم کرانے اور ان پر دوبارہ درخت لگائے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ محکمہ آبپاشی کی زمینوں سے بھی قبضہ ختم کرانے کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سرکاری زمینوں سے تجاوازات کے خاتمے کے لیے انسداد تجاوزات مہم جاری رکھی جائے۔بدھ کو عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے زمینوں کے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے، کڈنی ہل پارک، متروکہ املاک کی زمین، ڈی ایچ اے، کلفٹن کے رہائشیوں کو پانی کی عدم فراہمی، کے پی ٹی کی زمین، رائل پارک ریزیڈنسی، پی اینڈ ٹی کالونی میں غیرقانونی تعمیرات سمیت مختلف معاملات کو سنا۔ دوران سماعت صوبے بھر کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق جب معاملہ آیا تو سینئر رکن بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔ان کی پیش کردہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ صوبے بھر کے اندر 7 کروڑ دستاویزات کو کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا بات کررہے ہیں، آج بھی ہائی کورٹ میں جعلی دستاویزات کے کیس دائر ہورہے ہیں، اس پر رکن نے کہا کہ جعلی دستاویزات بڑی حد تک بننا ختم ہوچکے ہیں، سیکورٹی پرنٹنگ پریس سے دستاویزات بنوائی جارہی ہیں، ہر کاغذ پر پرنٹنگ آئی ڈی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جعلی دستاویز میں نے خود پکڑی ہے اور منسوخ کی ہے، تمام مختیار کاروں کے پاس جو ریکارڈ ہے وہ ہمارے ریکارڈ سے میچ کرایا جاتا ہے، اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ٹھٹھہ کی زمینوں کے ریکارڈ میں بہت گڑ بڑ ہے، ہر ایک نے اپنی مرضی کے دیہہ بنائے ہوئے ہیں۔اس پر سینئر رکن نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے نذر لغاری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی جنہوں نے بڑی تعداد میں جعلی انٹریز کی نشاندہی کی ہے، ایک ہزار سے زائد جعلی انٹریز ختم کردی گئی ہیں، 1100 سے زائد انٹریز عدالتی جائزے میں ہیں جبکہ بہت ساری جعلی انٹریز بلاک کردی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 1985ء سے اب تک 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد بوگس انٹریز کی نشاندہی کی گئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سینئر رکن بورڈ آف ریونیو سے پوچھا کہ سندھ میں سرکاری زمین بچی ہے یا نہیں، جس پر رکن نے جواب دیا کہ صوبے کی بہت سرکاری زمین پڑی ہے، عدالت عظمیٰ نے ہماری بہت مدد کی ہے تاہم اس موقع پر انہوں نے سرکاری زمینوں پر تجاوزات ہونے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ انسداد تجاوزات فورس روزانہ کارروائی کر رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپرہائی وے پر جاکر دیکھیں 10، 10 منزلہ عمارتیں بنی ہوئی ہیں، سرکاری زمینوں پر تجاوزات بھری پڑی ہیں، پورے پورے شہر آباد ہوچکے ہیں، یونیورسٹی سے آگے جائیں غیر قانونی تعمیرات ہی تعمیرات ہیں، ملیر میں جاکر دیکھیں تجاوزات ہی تجاوزات ہیں، سرکاری زمین پر کثیرالمنزلہ عمارتیں بن گئی ہیں، گزشتہ روز بھی ریلوے کا کیس جب چلا تو پتا چلا کہ سرکاری زمین پر عمارت بن چکی ہے،نوری آباد سے آگے تک قبضے ہو چکے ہیں۔عدالتی ریمارکس پر رکن نے کہا کہ ہم نے کام کیا ہے اور بھی کام کریں گے، مختار کاروں کے خلاف بھی کاروائیاں کی ہیں۔ چیف جسٹس نے رکن بورڈ آف ریونیو کو سرکاری زمین سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ، ساتھ ہی کہا کہ جس سرکاری زمین پر قبضہ ہے وہ تمام ختم کرائیں۔بعد ازاں پر عدالت نے سینئر رکن کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔سماعت کے دوران کڈنی ہل پارک پر قبضے کا معاملہ ایک مرتبہ پھر زیرغور آیا، جہاں عدالت نے وہاں سے قبضہ ختم کرانے کی ہدایت کی وہی شہری تنظیم نے یہ مؤقف اپنایا کہ کڈنی ہل پارک کی زمین پر فرحان سوسائٹی کے 24 گھر تعمیر ہیں۔شہری تنظیم کا مؤقف تھا کہ پارک کی زمین پر اوورسیز سوسائٹی نے بھی قبضہ کر رکھا ہے، فرحان سوسائٹی نے پارکس کے 4 پلاٹس پر 24 گھر بنا رکھے ہیں، گھر نمبر 81 سے 111 تک پارک کی زمین پر تعمیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے اس پر رپورٹ بنا دی تھی جبکہ فرحان سوسائٹی کو 30 دن میں خالی کرنے کا نوٹس دے دیا ہے جبکہ جھگیاں خالی کرانے کے لیے 7 دن کا نوٹس دیا گیا ہے۔اس پر عدالت نے کہا کہ حکم نامہ پرانا ہے تو اب کیوں نوٹس دیے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ سب ملے ہوئے ہیں، پارک زمین وا گزار کرائیں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ عدالت نے فرحان سوسائٹی اورسیز سوسائٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی، مزید یہ عدالت نے کمشنر کراچی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔عدالت میں طویل سماعت کے دوران ڈی ایچ اے، کلفٹن کے رہائیشیوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی کا معاملہ بھی آیا، جہاں سی او کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم واٹر بورڈ پر انحصار کرتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ واٹر بورڈ پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، کچھ پتا ہے آپ کو؟ جب پانی نہیں آتا تو ایک میجر جاتا ہے اور واٹر بورڈ والوں کا پانی بند کردیتا ہے، کوئی میجر ڈی ایچ اے میں رہتا ہو اور اسے پانی نہ ملے پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے لان اور گارڈن کے لیے بھی پانی ہوتا ہے، آپ لوگوں نے 2 لائنیں بنائی ہوئی ہیں، ایک مختص لائن ہے جس میں پانی آتا ہے اور دوسری لائن میں پانی نہیں آتا، ہم جیسے لوگوں کے لیے وہ لائن ہے جس میں پانی نہیں آتا اور ٹینکر سے ہی پانی خریدتے ہیں۔اس موقع پر عدالت نے پوچھا کہ ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو کتنے پانی کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی واٹر بورڈ پانی کی تقسیم کا مکینزم بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے 2ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران سپرہائی وے پر متروکہ املاک کی زمین پر قبضے سے متعلق بھی معاملہ زیرغور آیا۔ وکیل متروکہ املاک نے عدالت کو بتایا کہ دیہہ گجرو سپر ہائی پر متروکہ املاک کی زمین پر قبضہ شروع ہوچکا ہے، سب کچھ سندھ حکومت کے اجازت نامے سے ہورہا ہے، ہم خالی کرانے جاتے ہیں تو ہم پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کیا کریں، ہم ڈنڈا چلائیں کیا جو آپ کے اختیارات ہیں وہ استعمال کریں، کیا یہ لوگ آپ سے زیادہ طاقت ور ہیں۔اس پر وکیل نے کہا کہ ابھی جس 3ایکڑ پر قبضہ ہوا ہے، ایس ایچ او اور پولیس کی نگرانی میں چار دیواری تعمیر کرائی گئی ہے، آپ بورڈ آف ریونیو سے ریکارڈ منگوالیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بورڈ آف ریونیو ایسا ایسا ریکارڈ لے آئیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے، اس پر وکیل نے کہا کہ ہمیں پولیس اور سینئر رکن بورڈ آف ریونیو کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کریں۔بعد ازاں عدالت نے عدالت نے متروکہ املاک کے وکیل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ میں مائی کلاچی روڈ پر کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا معاملہ بھی زیرسماعت آیا، کے پی ٹی کے وکیل یاور فاروقی نے کے پی ٹی کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ کے پی ٹی کے نئے چیئرمین نے چارج لے لیا ہے اور الاٹیز کی نظر ثانی کی درخواست مسترد ہو چکی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تو پھر زمین کو کب تک بحال کریں گے، جو زمین خالی کرائی ہے وہاں پلاٹیشن کریں، منگریوز لگائیں، 2ہفتوں کا وقت دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ زمین کو سمندر کی سطح کے برابر کریں۔اس موقع پر الاٹیز کے وکیل ارشد طیب علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ متعلقہ فورم پر کیس کے فیصلے کرنے کی ہدایت دی جائے، ساتھ ہی منیر اے ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں نے عدالت کی جانب سے کے پی ٹی زمین خالی کرانے کے حکم پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے۔دوران سماعت وکیل الاٹیز نے کہا کہ زمین کے پی ٹی کو واپس کردی گئی ہے لیکن ہمیں کیس چلانے کا ایک موقع دیں۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے کے پی ٹی کو زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے سے روک دیا تھا۔عدالت میں سماعت کے موقع پر پلانٹیشن (شجرکاری) کی ہدایت پر وکیل کے پی ٹی نے کہا کہ شجرکاری کے لیے ہمیں مہلت دی جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جتنی تیزی سے پلاٹ بیچے تھے اتنی تیزی سے شجرکاریبھی کریں۔بعد ازاں عدالت نے چیئرمین کے پی ٹی کو 2 ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ساتھ ہی عدالت نے کے پی ٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بنا لی۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران الہ دین پارک سے متصل رائل پارک ریزیڈنسی کے الاٹیز کی درخواست بھی سنی گئی، اس دوران کمشنر کراچی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ریزیڈنسی کے 3 ٹاور اور گرادیے ہے مزید 2 ٹاور گرادیں گے اور زمین کلیئر کرکے عدالت میں رپورٹ جمع کرادیں گے۔ الاٹیز کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ رائل پارک الاٹیز کو اب تک رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی،141 کروڑ روپے کی رقم الاٹیز کو ادا کرنی ہے، ایک بلڈر لندن میں اور ایک بلڈر دبئی میں مقیم ہے، پیسے کیسے لیں؟ بلڈرز نے 40 سے 50 کروڑ زمین پر لگادیے ہیں، 80 سے 90 کروڑ جیب میں لے کر گھوم رہے ہیں، بلڈر کا دوسرا پروجیکٹ کریک سائٹ شاپنگ مال کے نام سے فیز 8 میں زیر تعمیر ہے۔اس پر عدالت نے کمشنر کراچی کو بلڈرز کا زیر تعمیر شاپنگ مال تحویل میں لینے کا حکم دے دیا، ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ جب تک بلڈرز الاٹیز کی رقم واپسی نہ کریں پروجیکٹ پر کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔مزید یہ کہ رائل پارک سے دونوں ٹاور اور ملبہ ایک ماہ اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کمشنر کو ہدایت کی کہ رائل پارک ریزیڈنسی کی جگہ پارک تعمیر کریں تاکہ عام عوام کو تفریح کے لیے ایک مقام میسر آسکے۔اس موقع پر عدالت نے کمشنر کراچی سے پوچھا کہ شاہراہ قائدین کا کیا کیا آپ لوگوں نے؟ اس پر کمشنر نے کہا کہ تجاوزات ختم کردی گئی ہیں، غیر قانونی دکانیں گرادی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مزار قائد کے گرد کثیر تعداد میں شجرکاری کریں ورنہ مزار کی دیواریں خراب ہوجائیں گی، اس پورے علاقے کو خوبصورت بنائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگوں نے نالے کو اتنا چھوٹا کردیا ہے کہ بارش میں ابل پڑتا ہے، اسی برساتی نالے میں گٹر کا پانی بھی جارہا ہے آپ لوگوں نے کیا کردیا ہے ؟ آپ لوگوں نے اپنا کوئی چکر چلایا ہے، نالہ چھوٹا کردیا سڑک بنادی، یہی کام شہید ملت روڈ پر ہوا ہے سڑک برباد کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ قائدین پر سارے ڈینٹر، پینٹر بٹھا دیے، شورومز کھول دیے، گھروں پر سب بنادیا، سندھی مسلم سوسائٹی میں اونچی اونچی غیر قانونی عمارتیں بنا دیں۔اس پر کمشنر نے کہا کہ ایک 4 منزلہ عمارت نالے پر تعمیر ہوئی ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ لوگ کرکیا رہے ہیں؟ قانون کے مطابق کارروائی کریں، آپ کے لوگ ملے ہوتے ہیں، پیسے کھاتے ہیں ورنہ ایسی ہی نہیں بن جاتی عمارتیں۔بعد ازاں عدالت نے نالے پر قائم رہائشی عمارت کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔ اس کے علاوہ سماعت میں پی اینڈ ٹی کالونی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق جب معاملہ اٹھایا گیا تو عدالت نے وہاں سے تمام غیرقانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے کہا کہ پی اینڈ ٹی کالونی وفاقی ادارے کی زمین ہے، کسی پرائیویٹ پارٹی کو الاٹ نہیں کی جاسکتی، پی اینڈ ٹی کالونی کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی اینڈ ٹی کالونی کے حالات ابتر ہوچکے ہیں، پل کے پاس بنی ہوئی عمارات کو منہدم کریں۔ساتھ ہی عدالت نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے نمائندے سے پوچھا کہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں نیول سوسائٹی بنانے کی اجازت کس حیثیت میں دی، کنٹونمنٹ بورڈ کسی کو زمین کیسے بیچ سکتا ہے، کارساز پر بھی یہی کیا ہے ،کیااس مقصد کے لیے زمین دی گئی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ کیسے کنٹونمنٹ ایریا کو فروخت کرسکتے ہیں، کیا ملک میں کوئی قانون نہیں ہے کیا، کوئی نہیں دیکھ رہا آپ کو؟ آپ سے سوال کررہے ہیں جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ پی این ٹی کالونی وفاقی حکومت کی زمین ہے، کیسے تعمیرات کی اجازات دے سکتے ہیں، آپ کے افسران کیسے اجازت دے رہے ہیں، دہلی کالونی، پنجاب کالونی، پی اینڈ ٹی کالونی، سب کو شہر کی خراب جگہیں بنا دیا گیا ہے، کس طرح کے ’درندے‘ لوگ ہیں، ہر10 گھر کے بعد ایک بڑی عمارت کھڑی ہے لوگوں کی رازداری ختم ہوگئی ہے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر 2 ماہ بعد آتے ہیں ایک نئی 10 منزلہ عمارت کھڑی ہوتی ہے، شہر کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے، آپ کو لوگوں کا احساس نہیں ہے،8، 8، دس دس منزلہ عمارتیں بنادی ہیں پانی ہے نہیں، بجلی ہے نہیں، یہ لوگ کیا کریں گے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ پی اینڈ کالونی کو ایک بڑی کچی آبادی میں تبدیل کردیا گیا ہے، یہاں 250 سے زیادہ کثیرالمنزلہ عمارتیں بنادی گئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ کہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی زمین پر کیسے نیوی ہاؤسنگ سوسائٹی بنادی گئی ہے، بتایا جائے؟ زمین پر نجی عمارت نہیں بن سکتی ہے،کنٹونمنٹ بورڈ میں جو پرائیوٹ پراپرٹیز بنادی ہے اس کے حوالے سے حکم جاری کریں گے، ساتھ ہی عدالت نے اٹارنی جنرل برائے پاکستان کو نوٹس بھی جاری کردیا۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے طویل سماعت کے دوران ’ہائپر اسٹار‘ کی زمین کی مبینہ غیرقانونی تبدیلی سے متعلق بھی درخواست زیرغور آئی جس پر عدالت نے ہائپر اسٹار کے مالکان کو نوٹس جاری کردیے۔مزید برآں کراچی جم خانہ میں تعمیرات کا معاملہ بھی آیا، جہاں وکیل جم خانہ نے کہا کہ یہ مقام ثقافتی ورثہ ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ قصر ناز کی طرف کیا بنا رہے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ اس طرف پہلے سے جو چیزیں بنی ہوئی ہیں وہی ہیں، کراچی جیم خانہ میں کوئی نئی تعمیرات نہیں ہورہی ہیں، ٹینس کورٹ اوپر بنائیں گے۔جس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اوپر کہاں آسمان میں لے جائیں گے، عدالتی بینچ کے رکن کے اس ریمارکس سے کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ٹینس کورٹ کو اوپر کیسے لے جاسکتے ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ ووڈن فلور لگتا ہے، عالمی معیار کا ہوگا۔اس دوران وکیل نے مزید بتایا کہ ہم نے ملک کے نامور آرکیٹیکچرز سے رابط کیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ تو کام کریں، کس نے روکا ہے، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے حکم امتناع دے رکھا ہے، ہم کام کرتے ہیں، ہمارا سامان اٹھا کرلے جاتے ہیں۔وکیل کی بات پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ نے سڑک پر عمارت کھڑی کردی ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ ہم نے ان لوگوں کے خلاف اینٹی کرپشن سے رجوع کیا تھا، ہم نے کمشنر کے لوگوں کو ممبرشپ نہیں دی اسی لیے یہ سب ہو رہا ہے۔وکیل نے کہا کہ ایک معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، یہاں درخواست دائر کرکے حکومت سندھ نے جم خانہ کی تعمیرات رکوا دی ہے، مذکورہ عدالت سندھ ہائیکورٹ کو حکم دے کہ وہ کیس سن کر فیصلہ کردیں۔ بعد ازاں عدالت نے کہا کہ ہمیں اور ایڈووکیٹ جنرل کو اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ دیں، جس پر وکیل نے کہ کہ ہم نے ایڈووکیٹ جنرل کو رپورٹ کی نقل دی ہوئی ہے۔



Comments

Post a Comment