بحریہ ٹاؤن : جو ناممکنات میں تھا -#حل _صرف _جماعت_اسلامی ;;;;;;; تحریر ؛ کاشف حفیظ

 


جو ناممکنات میں تھا
وہ ممکنات میں بدل گیا
جس کا تصور بھی نہیں تھا
وہ حقیقت میں بدل گیا
وہ کمزور و ناتواں تھے۔
مگر اللہ کی رحمت پہ کامل یقین رکھتے تھے
انہوں نے خالصتا للہ اور فی اللہ فیصلہ کیا کہ
مظلوموں کی مدد کیلئے اٹھیں گے
اور پھر ہوا یوں کہ
اللہ ان کا پشتیبان بنا گیا
اور پھر
ایسے میں ان پر عزم اور بےغرض افراد پہ
مالک دوجہاں کی بیکراں رحمت نے سائیہ التفات و برکت قائم کر دیا

================


یہ مسئلہ کراچی کی اپر مڈل اور مڈل کلاس کا تھا
جن کو سب نے دھوکہ دیا تھا
کوئ ان کی آواز بننے کو تیار نہ تھا
بحریہ ٹاؤن کا طاقتور اور بدمست ہاتھی سامنے کھڑا تھا
اس کی دولت کی چمک نے سب کی آنکھیں خیرہ اور زبانیں بند کر دی تھیں
تمام متاثرین بحریہ ٹاؤن مایوسی کے عمیق اندھیرے میں گم سم کھڑے تھے
کہ
ان کا رابطہ پبلک ایڈکمیٹی سے ہوا
اور ان سے داد رسی کی درخواست کی
=================


ایک دن محترم سیف الدین ایڈوکیٹ۔سربراہ پبلک ایڈکمیٹی نے ادارہ نور حق میں امیر جماعت کے کمرے کا دروازہ کھول کر کمرے میں مشاورت میں مشغول امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سے پوچھا
بحریہ ٹاؤن کے مسئلے پہ کیا کرنا ہے؟
فوری تفصیلی مشاورت ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ بحریہ ٹاؤن کے مظلوموں کے ساتھ پبلک ایڈکمیٹی اور جماعت اسلامی صرف ساتھ ہی نہیں بلکہ فرنٹ سے قیادت کرے گی

====================

پھر ناممکنات و ممکنات کی
اور
اگر مگر سے آزاد ہوکر
ایک شاندار مگر عزم جدوجہد
اللہ کے سہارے شروع ہوئ
اور اللہ کی رحمت و استعانت سے بند دروازے کھلتے چلتے گئے
تکبر و غرور کے بت ٹوٹتے چلے گئے
بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ
کو اک نیا تجربہ ہوا کہ
کچھ دیوانے ہیں۔
جن کو خریدا نہیں جا سکتا
جو بغیر کسی ذاتی غرض اور مفاد کے
مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی
ہمت و جرات رکھتے ہیں
جو بے مول ہیں
پھر
مذاکرات کی طویل میز سجتی ہے
جس میں گفتگو اصولوں کی بنیاد پہ ہوتی ہے
اور پھر
خوشخبریاں آنا شروع ہو گئیں

===================

الحمدللہ
آج سے پبلک ایڈکمیٹی کے ذمہ داران کے ہاتھوں کروڑوں روپوں کے پے آڈرز بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کو ادارہ نور حق میں دئیے جانے شروع ہوگئے ۔
جن کے چیک باونس ہوئے تھے ۔ انکو بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ سے بات کرکے پے آڈرز دلوائے گئے ۔

==================
الحمدللہ۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے
جس پہ جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے ۔
جس پہ جماعت اسلامی کا کارکن جتنا بھی فخر کرے وہ بھی کم ہے

یقینا ۔ انہی کاوشوں کی بدولت شہر کراچی میں جماعت اسلامی کے قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔

بس یہ خبر ۔

ہرہر فرد تک پہنچائیے اور سمجھائیے کہ

#
حل _صرف _جماعت_اسلامی

Comments