صنعاء ( مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں 26افراد ہلاک اور نائب وزیرسمیت 60زخمی ہوگئے۔متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بیان کی گئی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن کے عدن ائرپورٹ کو اْس وقت نشانہ بنایا گیا جب سعودی عرب سے ایک طیارہ نئی تشکیل پانے والی یمنی حکومت کے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو لے کر ہوائی اڈے پہنچا تھا۔عوام کی بڑی تعداد بھی یمنی حکومت کے اراکین کے استقبال کے لیے موجود تھی۔جیسے ہی نوتشکیل شدہ یمنی حکومت کے ارکان طیارے سے باہر نکلے یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ ائرپورٹ پر بھگدڑ مچ گئی ۔وزیراعظم معین عبدالملک سعید سمیت کابینہ کے دیگر وزرا کو ائرپورٹ سے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ۔حملے کے وقت سعودی عرب کے یمن میں سفیر محمد سعید الجبیر بھی ائرپورٹ میں موجود تھے۔یمن کے نائب وزیر برائے کھیل و نوجوانان حمزہ الکمالے کا کہنا ہے کہ نائب وزیر ٹرانسپورٹیشن بھی زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حملے کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ہمیں حوثی باغیوں پر شبہ ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی کی حکومت اور علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے درمیان مل کر حکومت چلانے کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے بعد کابینہ کے ارکان سعودی عرب سے واپس آرہے تھے۔ایس ٹی سی جنوبی یمن کی آزادی کے لیے تحریک چلاتی رہی ہے تاہم حوثی باغیوں کے خلاف حکومت کے ساتھ ہے اور اس معاہدے سے یمن جاری متعدد تنازعات میں سے ایک کے ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

Comments
Post a Comment