ایک کروڑ نوکریاں _ پاکستان اسٹیل کے ساڑھے 4ہزار ملازمین برطرف-نیشنل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند جبری برطرفیوں پراحتجاج
کراچی(صباح نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اسٹیل ملز کے4 ہزار544ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔ترجمان اسٹیل ملز کے مطابق پے گروپ 2، 3، 4اورجے اوز کو نوکریوں سے برخاست کیا گیا ہے جبکہ اسسٹنٹ منیجر اور ڈویژنل منیجر کو بھی برطرف کردیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ڈی سی ای، ڈی جی ایم، منیجرز بھی نوکریوں سے برطرف کیے گئے ہیں اور ملازمین کو بذریعہ ڈاک برطرفی کے خطوط ارسال کردیے ہیں۔ترجمان کے مطابق اسٹیل مل کے اسکول و کالج کے اسٹاف کو برطرف نہیں کیا گیا جبکہ ڈپارٹمنٹس کے کارپوریٹ سیکرٹریز کو برطرف نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ رواںبرس9جون کو وفاقی کابینہ نے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارغ کرنے کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کی تجویز کی منظوری دی تھی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 جون 2020ء کے اجلاس میں پاکستان اسٹیل کے 9 ہزار سے زاید ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر فارغ کرنے کی سفارش کی تھی۔اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک پیکج کے تحت اوسطاً23لاکھ فی ملازم ملیں گے،جس کی زیادہ حد70سے80لاکھ بھی ہے۔علاوہ ازیں ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو فارغ کیے جانے کے لیے گزشتہ روز سی ای او سیکرٹریٹ میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس کی صدارت سی ای او اسٹیل مل نے کی۔دوسری جانب ادارے سے فارغ کیے جانے کی اطلاع ملتے ہی تمام ملازمین اور ٹریڈ یونینز میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی اور ملازمین میں اشتعال پھیل گیا ہے۔
کراچی: پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین جبری برطرفیوں پر حکومت سے مایوس اور سراپا احتجاج ہیں، نیشنل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیل مل کے ملازمین نے جبری برطرفی پر نیشنل ہائی وے کو بلاک کرکے احتجاج کیا، جس کےباعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی، مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسٹیل ملز کے اسٹیک ہولڈرز گروپ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ آٹے چینی سے بڑے مافیا کا ہے،اس مافیا نے 2006میں ملز کے نقصانات ایف بی آر کو ٹیکسوں اور ملز بندش سے درآمدات کی مد میں 12ارب ڈالرز کا نقصان پہنچایا،پاکستان اسٹیل مل بند ہوکر بھی یومیہ 10کروڑ روپے کھارہی ہے،ملز کے نقصانات 2019کے آڈٹ اکاؤنٹ میں 2سو ارب اور واجبات 3سوارب سے زائد ہیں،لیکن احتساب نہیں ہورہاہے۔
اسٹیل مل کے ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے کہ وفاقی حکومت نے قلم کی ایک جنبش سے ساڑھے 4ہزار ملازمین کے مستقبل کو داؤ پر لگادیا ہے، وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر برائے منصبوبہ بندی اسد عمر کی یقین دہانی کے باجود ناانصافی کی گئی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسٹیل مل کے ملازمین کی برطرفی کی اچانک خبر ملتے ہی ایک ملازم صدمے سے جاں بحق ہوگیا۔
Comments
Post a Comment