غزنیسے ملنے والی خبروں کے مطابقافغانستان میں فوجی اڈے پر خودکش حملے میں31 کمانڈوز ہلاک اور 24زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ حملہ مشرقی صوبے غزنی کے صدر مقام غزنی شہر کے نواحی علاقے قلعہ جوز میں ہوا جو گزشتہ چند ماہ کے دوران سب بڑا حملہ ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق صوبےغزنی کےنواح میں واقع قلعہ جوز کےعلاقے میں فوجی اڈے میں بارود سے بھری ملٹری گاڑی داخل ہوئی اور رہائشی کمروں کے قریب زوردار دھماکے سے پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 31کمانڈوز ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے، افغانستان کے مشرقی غزنی میں ہونے والا خودکش حملہ حالیہ چند ماہ کے دوران افغان سکیورٹی فورسز پر خونریز ترین حملہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاہے کہ حملے میں بارود سے بھری ملٹری گاڑی استعمال کی گئی جسے فوجی بیس میں داخل کرکے رہائشی کمروں کے قریب زور دار دھماکے سے اڑیا دیا گیا۔غزنی میں اسپتال کے ڈائریکٹر باز محمد ہمت نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام سیکورٹی اہلکار ہیں۔ دوسری جانب صوبے زابل کے کونسل سربراہ کے قافلے پر بھی خود کش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں صوبائی کونسل چیف کے 3 محافظ ہلاک ہوگئے اور 12 افراد زخمی ہیں۔ حملے میں زابل کے کونسل سربراہ محفوظ رہے۔ دونوں خود کش حملوں کی ذمے داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عالمی خبر رساں ادارے کی جانب سے رابطہ کرنے پر حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
Great information
ReplyDelete