کراچی کے ممتاز اور سینئر صحافی نصراللہ چودھری کو
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پانچ برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ نصراللہ
چودھری کو گزشتہ برس8 نومبر کو ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ نصراللہ
چودھری کی گرفتاری کے وقت نہ صرف ان کے گھر کی بلکہ ان کے والد کے گھر کی بھی
تفصیلی تلاشی لی گئی تھی۔ صحافیوں کے سخت احتجاج کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا
گیا تو ان پر واحد الزام یہ تھا کہ ان کے گھر سے ممنوع لٹریچر برآمد ہوا ہے۔ یہ
ممنوع لٹریچر 2012 میں چھپنے والے ایک جریدے پر مشتمل تھا۔ یہ جریدہ اب بھی شائع
ہوتا ہے اور اس کے ایڈیٹر اور پبلشر کو بھی نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں
کوئی تنبیہ جاری کی گئی ہے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نصراللہ چودھری مسلسل اپنے کیس
کی پیروی کر رہے تھے۔ ایک عام تاثر یہ تھا کہ چونکہ کیس بدنیتی پر مبنی ہے اس لیے
عدالت سے جلد ہی خارج ہوجائے گا تاہم اس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد یہ یقین راسخ ہوگیا
ہے کہ پاکستان میں عدالتیں آزاد نہیں ہیں بلکہ انہیں جو املا دیا جاتا ہے، وہی
فیصلہ آجاتا ہے۔ کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار وکلا رہنماؤں نے بھی نصراللہ
چودھری کیس پر صحافیوں سے اپنی گفتگو کے دوران کیا ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز صورتحال
ہے کہ ایک صحافی کو اس الزام میں سزا دے دی جائے کہ اس کے پاس کچھ ایسا مواد موجود
ہے جو سرکاری عمال کی نگاہوں میں دہشت گردی پر مشتمل ہے۔ اگر ایک صحافی کے پاس
مواد موجود نہیں ہوگا تو وہ کس طرح سے عوام کے سامنے درست صورتحال پیش کرسکے گا۔
نصراللہ چودھری کو سزا دلوانے میں متحرک سرکاری عمال کیا یہ چاہتے ہیں کہ ان کا
دیا گیا املا من و عن اخبارات شائع کردیا کریں۔ ان سرکاری عمال کا املا بھی اگر
چھاپ دیا جائے تو کچھ عرصے کے بعد یہ اسی املا کی بنیاد پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ
قائم کرسکتے ہیں۔ اس طرح جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے بارے میں مواد کی موجودگی
بھی ممنوع لٹریچر قرار پاتی ہے۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے بارے میں ہم تسلسل سے
نشاندہی کرتے آرہے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں جاکر ان فیصلوں کی اکثریت کو منسوخ
کردیا جاتا ہے۔ خاص طور سے خصوصی عدالتوں میں دیے گئے فیصلے اعلیٰ عدلیہ میں جاکر
یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ آخر کیا
وجہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو منسوخ یا تبدیل کردیتی ہے۔ کیا
خصوصی عدالتوں کے جج نااہل ہیں یا پھر وہ انتہائی دباؤ کا شکار ہیں۔ دونوں ہی
صورتیں انصاف کے لیے زہر قاتل ہیں۔
Comments
Post a Comment