رواں سال کراچی میں دہشت گردی کے ایسے واقعات بھی ہوئے جوتفتیشی اداروں کیلیے نہ صرف کڑاامتحان بنے بلکہ ان کی کارکردگی پرسوالیہ نشان چھوڑگئے۔ 2019ء میں کراچی میں اہم شخصیات پرحملے ہوئے۔قتل وغارت کے واقعات کے دوران ا غواکیاگیالاشیں ملیں اوربم بھی برآمدکیے گئے۔لیکن کوئی کیس نمٹ نہ سکا۔2019ء کی ابتداسے چندروزقبل ہی دہشت گرد اپنا کھاتاکھول چکے تھے،ایم کیوایم کے رہنماعلی رضاعابدی کوقتل کیاگیاتفتیش کے دوران3سہولت کاپکڑے گئے لیکن کوئی حملہ آورتاحال گرفتار نہ کیاجاسکا۔ڈیفنس ہی میں کاربم دھماکابھی پراسراررہا۔ جس کامعما تاحال حل نہ ہوسکا۔بائیس مارچ کومعروف مذہبی اسکالرمفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملہ ہوا،فائرنگ کے نتیجے میں محافظ سمیت 3افرادلقمہ اجل بنے،لیکن کیس کی تفتیش میں تاحال پیش رفت نہ ہوسکی،اٹھائیس اگست کوبوٹ بیسن کے قریب پارک سے3افرادکی تشدد زدہ لاشیں ملنے کامعمابھی تاحال کسی انجام کونہ پہنچا، اکتیس اگست کوقائدآبادسے بارودسے بھری موٹرسائیکل ملی،دہشت گردکیسے فرارہوئے تاحال معلوم نہ ہوسکا۔پانچ اکتوبرکوعزیزآبادمیں پی ٹی آئی کارکن آصف چکلی ٹارگٹ کلنگ کانشان بنا،اس کیس کی گتھی بھی تاحال نہ سلجھ سکی جبکہ نواکتوبرکوخدادادکالونی میں اہم کیسوں کی تفتیش کرنیوالے پولیس انسپکٹرغوث عالم ٹارگٹ کلرزکانشانہ بنے۔ سی سی ٹی وی بھی ملی مگرپولیس اپنے پیٹی بندبھائی کوانصاف نہ دلاسکی۔گیارہ مئی کو کوبسماجبکہ تیس نومبرکودعا منگی نامی لڑکیاں ڈیفنس سے اغواکرلی گئیں۔تاوان کی ادائیگی کے بعدمغویوں کی بازیابی ممکن ہوئی،اغوا برائے تاوان کی دونوں وارداتیں تفتیشی اداروں پرسوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں۔2019ء بھی گزر گیا لیکن کراچی میں موٹرسائیکل لفٹنگ میں کمی نہ آ سکی، صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوئی حکمت عملی کام نہ آئی ، گزشتہ برس ہر روز 74موٹرسائیکلیں چوری اور چھینی جا رہی تھیں یہ تعداد بڑھ کر 83سے تجاوز کر گئی جبکہ مسروقہ موٹرسائیکلوں میں سے صرف 7.4فیصد موٹرسائیکلیں ہی برآمدکی جاسکیں۔2019ء میں بھی شہر قائد کے باسیوں سے انکی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھینی اور چوری کی گئی شہریوں کو گزرنے والے سال میں بھی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا،، لٹیروں نے 27ہزار 808شہریوں کو موٹرسائیکلوں سے محروم کر دیا،ابتدائی تین ماہ میں اوسطا یومیہ 70سے زائد موٹرسائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں جبکہ اپریل ، مئی اور جون میں یہ شرح بڑھ کر 82.5تک پہنچ گئی،جولائی ، اگست اور ستمبر میں اوسطا ًشرح مزید بڑھ کر 88.2تک پہنچ گئی جبکہ اکتوبر اور نومبر میں موٹرسائیکل لفٹنگ کی یومیہ اوسط 95تک پہنچ گئی،اس طرح موٹرسائیکل چوری اور چھیننے کی وارداتوں کی یومیہ اوسط 2019ء میں 83.2رہی جبکہ اسکے برعکس صرف 7.4فیصد موٹرسائیکلیں ہی برآمد کی جاسکی ہیں۔
رواں سال کراچی میں دہشت گردی کے ایسے واقعات بھی ہوئے جوتفتیشی اداروں کیلیے نہ صرف کڑاامتحان بنے بلکہ ان کی کارکردگی پرسوالیہ نشان چھوڑگئے۔ 2019ء میں کراچی میں اہم شخصیات پرحملے ہوئے۔قتل وغارت کے واقعات کے دوران ا غواکیاگیالاشیں ملیں اوربم بھی برآمدکیے گئے۔لیکن کوئی کیس نمٹ نہ سکا۔2019ء کی ابتداسے چندروزقبل ہی دہشت گرد اپنا کھاتاکھول چکے تھے،ایم کیوایم کے رہنماعلی رضاعابدی کوقتل کیاگیاتفتیش کے دوران3سہولت کاپکڑے گئے لیکن کوئی حملہ آورتاحال گرفتار نہ کیاجاسکا۔ڈیفنس ہی میں کاربم دھماکابھی پراسراررہا۔ جس کامعما تاحال حل نہ ہوسکا۔بائیس مارچ کومعروف مذہبی اسکالرمفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملہ ہوا،فائرنگ کے نتیجے میں محافظ سمیت 3افرادلقمہ اجل بنے،لیکن کیس کی تفتیش میں تاحال پیش رفت نہ ہوسکی،اٹھائیس اگست کوبوٹ بیسن کے قریب پارک سے3افرادکی تشدد زدہ لاشیں ملنے کامعمابھی تاحال کسی انجام کونہ پہنچا، اکتیس اگست کوقائدآبادسے بارودسے بھری موٹرسائیکل ملی،دہشت گردکیسے فرارہوئے تاحال معلوم نہ ہوسکا۔پانچ اکتوبرکوعزیزآبادمیں پی ٹی آئی کارکن آصف چکلی ٹارگٹ کلنگ کانشان بنا،اس کیس کی گتھی بھی تاحال نہ سلجھ سکی جبکہ نواکتوبرکوخدادادکالونی میں اہم کیسوں کی تفتیش کرنیوالے پولیس انسپکٹرغوث عالم ٹارگٹ کلرزکانشانہ بنے۔ سی سی ٹی وی بھی ملی مگرپولیس اپنے پیٹی بندبھائی کوانصاف نہ دلاسکی۔گیارہ مئی کو کوبسماجبکہ تیس نومبرکودعا منگی نامی لڑکیاں ڈیفنس سے اغواکرلی گئیں۔تاوان کی ادائیگی کے بعدمغویوں کی بازیابی ممکن ہوئی،اغوا برائے تاوان کی دونوں وارداتیں تفتیشی اداروں پرسوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں۔2019ء بھی گزر گیا لیکن کراچی میں موٹرسائیکل لفٹنگ میں کمی نہ آ سکی، صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوئی حکمت عملی کام نہ آئی ، گزشتہ برس ہر روز 74موٹرسائیکلیں چوری اور چھینی جا رہی تھیں یہ تعداد بڑھ کر 83سے تجاوز کر گئی جبکہ مسروقہ موٹرسائیکلوں میں سے صرف 7.4فیصد موٹرسائیکلیں ہی برآمدکی جاسکیں۔2019ء میں بھی شہر قائد کے باسیوں سے انکی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھینی اور چوری کی گئی شہریوں کو گزرنے والے سال میں بھی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا،، لٹیروں نے 27ہزار 808شہریوں کو موٹرسائیکلوں سے محروم کر دیا،ابتدائی تین ماہ میں اوسطا یومیہ 70سے زائد موٹرسائیکلیں چھینی اور چوری کی گئیں جبکہ اپریل ، مئی اور جون میں یہ شرح بڑھ کر 82.5تک پہنچ گئی،جولائی ، اگست اور ستمبر میں اوسطا ًشرح مزید بڑھ کر 88.2تک پہنچ گئی جبکہ اکتوبر اور نومبر میں موٹرسائیکل لفٹنگ کی یومیہ اوسط 95تک پہنچ گئی،اس طرح موٹرسائیکل چوری اور چھیننے کی وارداتوں کی یومیہ اوسط 2019ء میں 83.2رہی جبکہ اسکے برعکس صرف 7.4فیصد موٹرسائیکلیں ہی برآمد کی جاسکی ہیں۔
Comments
Post a Comment