ہم بحیثیت قوم عجب لوگ ہیں۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ ہمارا طرہ امتیاز ہے۔ ہمیں ذرا سی بات اچھی لگے تو تالیاں بجانے لگتے ہیں اور جب کوئ بات پسند نہ آئے تو پھر بولنے والے کا جینا حرام کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اسی طرح ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ عمران خان کی تقریر پر ایسے رتب السان ہیں کہ جیسے اس تقریر نے ریڈیکل اسلام کہنے والوں کا گلا گھونٹ دیا ہو اور انہوں نے آئندہ یہ جملہ دوہرانے سے رجوع کرلیا ہو یا پوری دنیا نے مودی کی آر ایس ایس جیسی انتہا پسند تنظیم سے تعلق پراور کشمیر میں اس کے کئے ہوئے فسطائیت اور ظلم و جبر کے لامتناہی سلسلے کی مذمت کردی ہو۔۔۔!
یا ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو پوری شدت سے اس تقریر کی ہجو میں ان انتہاوں پر ہیں کہ میں نہ مانوں کے مصداق اس کوشش میں لگے ہیں کہ یہ تقریر کسی لحاظ سے ہماری ترجمانی نہیں کر رہی ہے اور اس تقریر کی وجہ کر ہم اس سے بھی گئے جو ہمارے پاس تھا۔۔۔۔۔
دراصل ان دو انتہاوں کے درمیان بھی بہت کچھ ہےجس پر سوچا اور بولا جاسکتا ہے ۔۔۔۔
پہلا سوال تو یہ ہے کہ یو این او میں اس طرح کی تقریروں سے اس سے قبل کچھ حاصل ہوا ہے کہ اب حاصل ہوگا؟
دوسرا سوال ہماری short memory رکھنے والوں سے ہے کہ کیا اس سے پہلے ان موضوعات پر UNO میں اس طرح کی یا اس سے بہتر تقریر ہمارے اپنے اپنے وقت کے سربراہ نے نہیں کی؟
یوں تو پاکستان کے کئ سربراہ مملکت گزرے ہیں کہ جن کی تقریر قابل ستائش ہے لیکن مثال کے طور پرلوگوں سے صرف اتنا عرض ہے کہ بی بی بینظیر کی تقریر کو سن لیں تو دنگ رہ جائیں گے اور اگر ضیاءالحق کی تقریر سن لیں تو پھر کچھ کہنے کو رہ نہیں جائے گا۔اس بات کا خیال رہے کہ گفتگو تقریر کی ہورہی ہے اور بس۔
سوال پھر وہیں کھڑا ہے کہ اچھی تقریر سے، وہ بھی اس فورم پر، کیا ابتک کچھ حاصل ہوا ہے یا نہیں؟
اصل بات تو یہ ہے کہ، موجودہ حکومت یا اس سے قبل دوسری حکومتوں نے ان مسائل پر کیا ٹھوس اقدام کئے اور کیا اہداف حاصل کئے اور اس کے حصول کے لئے سوائے کشمیر کمیٹی بنانے کے علاوہ کیا حکمت عملی طئے کی؟؟ تو جواب اچھی تقریر کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔۔۔!!!
اب موجودہ حکومت سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں جو دھرنوں سے لے کر ماہ و سال کے اواخر تک نہ جانے کتنی اچھی تقریروں کا ریکارڈ رکھتی ہے یہ اور بات کہ عمل کا معاملہ یا تو خالی ہے یا اس کے برعکس۔۔۔۔۔!!!!
آپ خود ہی دیکھ لیں کہ ختم نبوت کے حوالے سے قادری شہید کے معاملے پر بیان ہو یا آسیہ نامی عورت کا ملک سے بحفاظت با ہر نکالنے پر بیان۔۔۔۔ اب کوئ بتائے کہ ہم بتائیں کیا؟؟؟؟؟؟ ذہن کی بالیدگی کے لئے یہ چھوٹا سا آئینہ ہے ورنہ تو مثالیں بے شمار ۔۔۔۔۔۔!!!!
بات کو سمیٹتے ہوئے بس اتنا کہنا ہے کہ تقریر اچھی تھی یا بری یہ بحث میری نظر میں بے معنی ہے کیوں کہ دنیا جو کچھ کہہ رہی ہے اس سے وہ خوب واقف ہے کہ وہ کیا کہہ رہی ہے اور کیوں کہہ رہی ہے اور ان کے اہداف کیا ہیں؟ ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ آخر کیا معاملہ ہے کہ یہ طاقتیں جب چاہتیں ہیں اپنے مفاد میں ہمیں مجاہدین بنا دیتی ہیں اور جب چاہتیں ہیں دہشت گرد ۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر ہماری سادا لوحی دیکھئے کہ ہم اس بات پر بغلیں بجا کر خوش ہو جاتے ہیں کہ تقریر بہت اچھی کی یا تھی۔۔۔۔۔شاید ہم بھول چکے ہیں کہ عبداللہ بن ابئی اور حسن بن صباح بھی اپنے حساب سے بہت لوجیکل اور اچھی تقریر کیا کرتا تھا اور ایک اچھی تعداد میں اپنے حواری جمع کرلئے تھے۔
مقصد یت اور حکمت عملی کے بغیر زبانی جمع خرچ تو اس سے پہلے بھی بہتوں نے کئے ہیں۔۔!!!!
میرے بزرگوں اور دوستوں یہ بہت کڑا وقت ہے یہ وقت کسی پر کیچڑ اچھالنے یا کسی کی مدح سرائ کا نہیں بلکہ آنکھیں کھولنے کا ہے کہ کس طرح بیرونی طاقتیں اور اندرونی لبرل طبقہ ہمارے درمیاں دین اور امہ کے حوالے سے کس طرح ذہنی و فکری انتشار اور confusion پیدا کر رہا ہے۔ اسلام اور مسلمان کے لبادے میں کس طرح حسن بن صباح کا کردار ادا کرکے ہمیں مغرب کا غلام بنانا چاہتاہے اور ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے مگر ہماری آنکھوں پر طمع و لالچ کی پٹی ایسی بندھی ہے کہ ہم محظ دنیاوی مفادات سے ہٹ کر آگے دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔!!
ہمارے لئے اس وقت کا یہ بہت بڑا چیلینج ہے؟؟؟ اور ہمیں اپنی توجہ اس پر دینی ہے اور اپنے تمام ذرائع کو بروکار لاکر ایسی حکمت عملی طئے کرنی ہے کہ قوموں میں اپنا مقام بناسکیں اور یہ امر حکومت کے کار پردازوں کا ہے۔۔۔۔جس کی بظاہر کوئی سبیل نظر نہیں آرہی۔۔۔۔۔!!!!
تقریر کے حوالے سے موجودہ حکومت کے تقریروں پر ایک طائرانہ نظر برادر مقصود کے قلم سے۔۔۔۔۔۔ جو مجھے بڑا متوازن لگا پیش خدمت ہے ۔۔۔۔۔۔
تقریر واقعی اچھی تھی۔
خان صاحب کا اصل مسئلہ تقریر ہے ہی نہیں۔ موٹیویشنل اسپیکر کا مسئلہ تقریر کرنا ہوتا ہی نہیں، ڈلیور کرنا ہوتا ہے۔ موٹیویشنل اسپیکر "ارب پتی بنے کے سو طریقوں" کے موضوع پر دھواں دھار تقریر کرے گا اور بعد میں تقریر کرنے کے معاوضے کے لئے انتظامیہ کے کے حضور حاضر ہو گا۔ وجہ یہ کہ موٹیویشنل اسپیکر کا ہدف دوسروں کو وقتی طور پر ابھارنا ہوتا ہے، خود قیادت کرنا یا ڈلیور کرنا نہیں ہوتا۔
تقریر تو خان صاحب تب بھی بڑی اچھی کرتے تھے جب وہ اداروں کی بالا دستی اور فوج کے احتساب کے نعرے لگاتے تھے،
تقریر ان کی وہ بھی بہت اچھی ہوتی تھی جب وہ نیٹو سپلائی بند کرنے اور وار آن ٹیرر سے نکلنے کی باتیں کرتے تھے،
تقریریں وہ بھی کچھ کم نہ تھیں جب وہ کسی لوٹے کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ دینے کی قسمیں اٹھاتے تھے،
تقریریں وہ بھی بڑی زبردست تھیں جب وہ الطاف حسین کو پھانسی لگوانے سے پہلے چین سے نہ بیٹھنے کے دعوے کرتے تھے،
تقریر تو وہ بھی بڑی پرسوز تھی جب وہ سول بالادستی کو اپنا نصب العین بتاتے تھے،
تقریریں وہ بھی غضب تھیں جب وہ حضرت عمر کا معاشی اور عدالتی ماڈل پاکستان میں نافذ کرنے کی باتیں کرتے تھے،
تقریریں تو وہ بھی کمال تھیں جب وہ اربوں ڈالر واپس لانے، مہنگائی کم کرنے، کاٹیج انڈسٹری لگانے، پچاس لاکھ گھر بنانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو واپس لا کر نوکریاں دینے کی باتیں کرتے تھے۔۔۔
خان صاحب کا مسئلہ تقریریں ہیں ہی نہیں، ان کا مسئلہ ڈلیور نہ کرنا ہے۔ اب جو بندہ خود کہے "مجھے فخر ہے کہ میں یو ٹرن کا وزیر اعظم ہوں" اس کی تقریر کا کیا اعتبار؟#

Comments
Post a Comment