Skip to main content
جدہ :سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا ذاتی محافظ قتل : قتل ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے : سعودی حکام
سعودی
عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز
کے ذاتی محافظ اورانتہائی معتمد ساتھی
میجر جنرل عبدالعزیز الفغم کو قتل کردیا
گیا۔ سعودی سرکاری ٹیلی وژن نے اس حوالے
سے بتایا کہ شاہ سلمان کے ذاتی محافظ کی
ہلاکت ذاتی تنازع کے باعث ہوئی تاہم اس
کی تفصیلات کے بارے میں نہیں بتایا گیا
اور نہ ہی اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ
واقعہ کب پیش آیا، جائے وقوع تک میڈیا
کو رسائی نہیں دی گئی۔برطانوی خبررساں
ادارے کے مطابق یہ واقعہ جدہ میں پیش آیا
جہاں سعودی حکومت موسم گرما میں موجود
ہوتی ہے۔ دوسری جانب مکہ ریجن کے پولیس
کے ترجمان نے بتایا کہ میجر جنرل عبدالعزیز
جدہ میں شاہی محل سے چند کلومیٹر فاصلے
پر اپنے دوست کے گھر گئے تھے جہاں مبینہ
طور پر ان کا اپنے دوست کے ساتھ جھگڑا ہوا
جس پر طیش میں آکر اْن کے دوست نے گولی
مار دی۔سعودی پولیس کا مزید کہنا تھا کہ
جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر مبینہ قاتل
کو گرفتاری دینے کو کہا گیاتاہم انکار پر
سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس کے نتیجے
میں قاتل بھی ہلاک ہوگیا، فائرنگ کے تبادلے
میں5سیکورٹی
اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ میجر جنرل عبد
العزیز الفغم اس سے قبل سابق شاہ عبداللہ
کے محافظ کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں
اور شاہ سلمان کے دور میں بھی اپنی خدمات
جاری رکھیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق
ایک اور سعودی اور فلپائنی کارکن بھی
فائرنگ میں زخمی ہوا ہے ۔میجر جنرل
عبدالعزیز سعودی عوام میں بھی معروف تھے
ان کے قتل سے پورے سعودی عرب میں سکتے کی
کیفیت محسوس کی گئی ہے۔ سرکاری سعودی خبر
ایجنسی اور حکام مزید تفصیلات سے آگاہ
نہیں کررہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس
واقعے پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ
یہ کسی عام فردکا قتل نہیں ہے ۔ سعودی عرب
کے حکمران کا ذاتی محافظ تھا جس کے اختیارات
اس قدر تھے کہ جس کو چاہے بادشاہ سے ملنے
سے روک دے۔ وہ کسی کو بھی زبردستی روک سکتے
تھے۔ اس سطح کے افسر کے قتل پر محض یہ کہنا
کہ ذاتی تنازع تھا اور اس کے بعد قتل بھی
دوسرے عالمی واقعات کی طرح مار دیا گیا۔آنے
والے دنوں میں اس واقعے کے اثرات ظاہر ہوں
گے۔
Comments
Post a Comment