اللہ کی ایجنسی ۔۔!!! نجیب ایوبی

"بلدیہ فیکٹری کے دو سو پچاس مزدوروں اورکراچی کے ہزاروں بے گناہوں کے خونِ ناحق کے نتیجے میں ظالم اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں ظالموں کو اپ اپنی کمین گاہوں میں بھی عافیت نہیں ملنے والی!!! " یہ بات کہتے ہوئے اس کی کھنڈار آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ پیشانی پر سلوٹیں ابھر نے لگیں اور لزرتے ہونٹوں کے ساتھ اس بزرگ نے اہنے شہید بیٹے کا قصہ چھیڑ دیا ۔۔۔
یہی قصہ میں اس کی زبانی پہلے بھی کئ مرتبہ سن چکا تھا ۔۔۔مگر آج جب میں اس سے ملا تو وہ بہت مختلف لگا ۔۔ اس کا بیٹا حافظ قرآن تھا ۔محلے کی مسجد میں باقاعدگی سے ہر سال تراویح پڑھاتا ۔۔دن میں بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کرتا اور شام کو اپنے چچا کے میڈیکل اسٹور پر بیٹھا ہوا دکھائ دیتا۔ دو بہنوں کا اکلوتا بھائ اور ماں باپ کا سہارا ۔۔۔ معقول آمدنی تھی ۔۔اور گزارا اچھا ہو رہا تھا ۔۔۔ فیکٹری میں الیکٹریشن تھا۔ وقوعہ کی صبح ناشتے کے بعد نیا سفید جوڑا پہن کر اپنی ماں سے پوچھا ۔ماں کیسا لگ رہا ہوں ۔ ماں نے کہا ۔۔بالکل شہزادہ!... فیکٹری جانے کا وقت ہوچکا تھا ۔ آج تنخواہ ملنے کا دن تھا ۔۔۔ماں سے چلتے چلتے کہا، اماں آج دیر ہوجائے گی. چاچا کو کہہ دینا دکان نہیں آؤں گا ۔۔۔یہ اس کا معمول تھا کہ تنخواہ والی شام تین چار دوست عیاشی کرتے تھے ۔۔ان کی عیاشی تھی. صابری کی نہاری یا برنس روڈ کے کباب ۔! یہ آخری گفتگو تھی جو مرتضی بے اپنی ماں سے کی ۔۔۔فیکٹری چلا گیا ۔۔۔ پھر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے آچکا تھا ۔ایک مرتضی ہی نہیں جانے کتنے بچے تھے جو اپنی ماؤں سے آخری بار ملے اور پھر ان کی راکھ تک کا پتہ نہیں چلا ۔ شام کو جب گھروں میں اطلاعات ملنی شروع ہوئیں تو ہر فرد نے فیکٹری کا رخ کیا ۔۔۔فیکٹری کو چاروں جانب سے آگ اور ایم کیو ایم کے کارکنوں نے گھیرا ہوا تھا آگ کی لپٹیں آسمانوں کو چھو رہیں تھی اور ایم کیو ایم کے مسلح نوجوان لواحقین کو فیکٹری میں داخل ہونے سے روک رہے تھے کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ فیکٹری میں لگی آگ کو کیسے بجھایا جائے ۔۔ اسی اثناء میں مرتضی فیکٹری کے گیٹ تک پہنچا اور ایک عورت کو کاندھے پر اٹھا کر گیٹ پر چھوڑ کر واپس اندر چلا گیا گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا ۔نہ کوئ اندر جا سکتا تھا ۔نہ ہی کوئی باھر نکل سکتا تھا ۔۔مرتضی شاید کسی کی بچانے دوسری مرتبہ فیکٹری میں گیا ۔ پھر واپس نہ آسکا ۔۔ اس کے باپ کو دوسرے دن ایک سفید چادر میں کچھ ہڈیاں ۔کچھ راکھ کا ڈھیر اس خاندان کے حوالے کیا گیا ۔۔یہ کہہ کر کہ یہ مرتضی کی لاش ھے ۔۔شناخت کرکے تدفین کردیجئے ۔۔۔ اور اسطرح ڈھائ سو نوجوان ۔مرد عورتیں ۔بچیاں زمین میں مل کر خاک ہوگئے ۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ان کی زبان بند کروا دی تھی ۔لواحقین جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کہہ سکتے تھے ۔۔۔ مگر آج محمد صابر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا ۔۔اس نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو چھ سال سے اس کے سینے میں لاوا بن کر ابل رہا تھا ۔ صابر کہتا ھے کہ اللہ تعالیٰ کی ایجنسی کے سامنے کسی ایجنسی کی مجال نہیں کہ وہ یہ کریڈٹ لے کہ.ایم کیو ایم کا زوال ہماری کوشش سے ممکن ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے رسی کھینچنے کا آغاز کر دیا ھے ۔۔۔اب انتظار کرو بھیانک انجام کا ۔۔

Comments