کراچی جسے بجا طور پر علم اور ادب کا گہوارہ کہا جا سکتا ہے اس شہر کی ایک پہچان تو عروس البلاد کی رہی ہے جو اب گزشتہ تین دھائیوں سے معدوم ہوتی جارہی ہے - مگر ایک اور اعزاز اس شہر کے پاس الحمدللہ اب بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ شہر ناپرساں کراچی اردو ادب کے حوالے سے جہاں ماں کی آغوش ہے وہیں پدرانہ شفقت اور برادرانہ رواداری کا زندہ مظہر بھی ہے - خاص طور پر علم و ادب کی ترویج ، اس کی آبیاری اور اردو زبان کے بناؤ سنگھار میں کراچی والوں کا کردار ناقابل فراموش ہے -
خسرو ، میر ،غالب ،مصحفی ، ذوق ، بیدل ، رسوا ، سودا ، مجروح ، اقبال ، فیض ، ساحر ، ناصر کاظمی ،فراز اور ان جیسے بیشمار اساتذہ کرام کی نظر کرم کے بعد بھی اردو زبان کی وہی چاشنی ، دلکشی اور لذت پہلے ہی کی طرح تروتازہ رہی - جس کی بنیادی وجہ اردو سے محبت رکھنے والے محبان کی ذاتی دلچسپی ہے -جب ہم زبان کی بات کرتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم کسی مخصوص علاقے یا مخصوص تہذیب کو کسی حاشیے میں قید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں - اردو ہر اعتبار سے دنیا بھر میں بسنے والے افراد کی رابطے کی زبان ہے - اور رابطے کی زبان کی خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ وہ جس جس اسٹیشن پر قیام کرتی ہے وہاں کی سوغات کو اپنے ساتھ لیکر آگے کا سفر جاری رکھتی ہے - اردو زبان بولنے اور اور کو پروان چڑھا نے میں اپنا کردار ادا کرنے والوں کا بھی یہی کام کیا کہ انہوں نے راستے میں آنے والے ہر علاقے کی سوغات کو اپنا زاد سفر بنانے کا کام جاری رکھا - میں بلامبالغہ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ نجی سطح پر اردو ادب کی جو خدمت کی گئی ہے اس کا عشر عشیر بھی سرکاری سطح پر نہیں دکھائی دیا - اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ شہر کراچی میں تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور کمرشل ازم کی بہتات نے جہاں معاشرے کی عمرانیات تہذیب و معاشرت کو مجروع کیا وہیں شعر و سخن کو بھی بہت بڑے نقصان سے دوچار کیا- مگر میں حیرت زدہ ہوں کہ اس اخلاقی زبوں حالی، بول چال ،رکھ رکھاؤ اور خاندانی روایات کے تیزی سے آنے والے انحطاط کے باوجود شہر میں کم و بیش دو سو سے زیادہ ادبی انمجنین ، اور ادارے موجود ہیں جہاں باقائدگی کے ساتھ سینکڑوں سے زیادہ ادبی محافل ، مشا عروں اور تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے - کچھ ادبی انجمنیں جن کا ماضی میں بہت شہرہ تھا تو اب معاشی بوجھ تلے دب کر یا پھر اپنے سرپرستوں کے انتقال کر جانے اور ان کے بیرون ممالک چلے جانے کے سبب ان کے شامیانے اجڑ چکے -
ایسے حالات میں جو شاعر ان کو بچانے کے لئے اٹھا اس کو اغواء کرکے مینا بازار کے عقوبت خانے میں " ہیلی کاپٹر " تک بنا دیا گیا - وہ تو بھلا ہو جناب عبید اللہ علیم اور کراچی کے بیس پچیس شعرا کرم کا جو مشاعرہ پڑھتے ہی نو دو گیارہ ہونے کے بجائے" نائن - صفر " چلے گئے اور بڑی منت سماجت کے بعد اغوا شدہ شاعر کو بازیاب کروا کے "ہیلی پیڈ" سے اتروانے میں کسی نہ کسی طرح کامیاب ہوئے - ان شدید ترین ذلت آمیز حالات کے باوجود ہماری پیاری اردو زبان نے سر اونچا رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا ہوا ہے - ایک نام تو ماشاللہ یونیکیرئینز کا ہے جس میں جناب پیرزادہ قاسم صاحب اور جا معہ کراچی کے سابقین نے مل کر بنایا اور جناب مرحوم اظہر عباس صا حب شامل ہوئے اور ان کی کوششوں سے معروف سماجی اور صنعتی شخصیات نے ساکنان کراچی کے نام سے سالانہ عالمی مشاعرے کی مستحکم روایت ڈالی - جو بعد میں کسی قدر سیاسی آلودگی کا بھی شکار ہوئی مگر پھر بھی ایک بہت احسن کام تھا جو اب تک جاری ہے - وہ الگ بات ہے ابتداء میں ان عا لمی مشا عروں میں ہزاروں افراد اپنے ساتھ گاؤ تکیے ، چائے کے تھرماس اور یہاں تک کہ اپنے اہل خانہ بھی لاتے مگر اب عالم یہ ہے کہ اب پنڈال کی پچاس فیصد کرسیاں ان پر بیٹھے بے ذوق اور صرف مشاعرہ دیکھنے آئے ہوئے حاضرین کو کوس رہی ہوتی ہیں تو بقیہ خالی کرسیاں ماضی کے سامعین کو یاد کرکے " یاد ماضی عذاب ہے یارب " کورس کی صورت گنگناتی ہیں - عالمی مشاعرے کو اس نوبت تک لانے میں ساکنان کراچی سے زیادہ منتظمین اور سرپرستوں کا قصور ہے - سیاسی دباؤ اور " پرچیوں - پرچوں اور گانے والوں " نے شعرو سخن سے زیادہ شر و سخن کا کردار ہے - اس پر مزید یہ کہ شعرا کی بھرمار اور سب کو پڑھانے کا جنون- خارجی دباؤ کا شکار منتظمین سمیت بہت سے عوامل شامل تباہی ہیں - پھر ایسا عروج بھی ملا کہ شاعری اتنی آساں ہوگئی کہ مصداق" مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں " ایک دو تین - چارپانچ چھ سے لیکر آٹھ نو دس گیارہ تک بحر اور وزن میں شمار ہوا - اردو ہندی فلموں نے شاعری کو قبول عام بخشا - دے چما- آج ہے جمعہ - تک ہر آ ڑھا ترچھا مصرعہ ردیف اور قوافی میں استمعال ہوتا تو ہم نے دیکھا - کچھ یادیں ماضی کی بھی دیکھیں جب بہت بڑے نام تھے جیسے کہ 1980 کی ابتداء میں سادات امروہہ کے نام سے ایک اچھا نام سامنے آیا جنہوں نے لگاتار دو بہت اچھے مشاعرے منعقد کئے - مگر بعد میں وہ بھی گہنا گئے - اس وقت تو حبیب بنک نے مالی تعاون کیا تھا - مگر اس کے بعد سرپرستوں کی جانب سے سرد مہری دکھائی دی - آرٹس کونسل کراچی نے اس روایت کو زندہ رکھا ہے اور بہت دھوم دھڑلے سے ہر سال اس کا اہتمام کیا جاتا ہے - باتیں تو اس حوالے سے بھی بہت ہوتی ہیں مگر یہاں کون سا ایسا کام ہے جس پر بات نہ ہوتی ہو - اسی طرح پی آئ اے میں جب تک پیاسی کی یونین تھی تو ان کا بھی ایک سا لانہ مشاعرہ ہوا کرتا تھا یا پھر پی ایس او کا بھی ایک مشاعرہ بڑے پیمانے پر ہوتا رہا - (یہ اس وقت کی بات ہے جب ان اداروں میں سرکاری مداخلت بوجھ نہیں بنی تھی ) اس زوال پزیری کے باوجود الحمدللہ اردو مشاعرہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے - مگر کیسے ؟ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے - آخر وہ کیا چیز ہے جس نے شاعر اور اس سے وابستہ مشاعرے کو زندہ رکھا - ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ سرکاری سرپرستی اور ذرا ئع ابلاغ -- معاف کیجئے گا اگر ہم ایسا سمجھ رہے ہیں تو یہ خام خیالی ہے - جس چیز نے اردو ادب شاعر اور مشاعرے کو تابندہ رکھا ہے وہ ہے صرف اور صرف " اس زبان سے محبت " محبت نہ تو سرکاری سرپرستی میں پیدا ہوسکتی ہے نہ ہی ذرا ئع ابلاغ سپورٹ سے - جس سال ہائے گزشتہ کی میں بات کر رہا ہوں ان میں میڈیا نے انتہائی درجے کی بے رغبتی دکھائی اور سرکار تو اپنی سرپرستی سے آگے کا سوچ ہی نہیں سکتی - ہاں غیر سرکاری اور نجی اداروں کے زور پر کچھ ہورہا ہے تو وہ بھی اے پلس مراعا ت یافتہ جسے آسان زبان میں " چھٹے ہوئے " یا سلیکٹڈ شعرا کے لئے - جینوئین اور پیدائشی شاعر بے چارہ اپنے ادبی مقام کے حصول کے لئے پی ٹی وی پروڈیوسر کے آگے پیچھے کیونکہ نہیں بھا گ سکتا تھا لہذا اپنی "کٹیا " اور اپنے حلقہ محروماں تک محدود رہا - یہ اس کی بدقسمتی سے زیادہ نا لائقی گردانی گئی - خیر چھوڑئیےد ل جلانے کی باتوں میں کیا رکھا ہے - آئیے گفتگو کرتے ہیں ان اچھائیوں کی جو اردو مشاعرے کی روایت کو جلا بخش رہے ہیں اور کیسے بھی ہوں حالات شادمان ہیں ہم " کا نعرہ مستانہ بلند کر رہے ہیں - جیسا کہ ابتداء میں کہہ چکا ہوں کہ ان بیشمار ادبی انجمنوں میں جو ایک بات قدر مشترک دیکھی وہ یہ کہ ان میں اس تنظیم کا سرپرست تاحیات ہوتا ہے اور اس کی کمیٹی مرنے کے بعد میں لیٹر ہیڈ کی لوح پر زندہ رہتی ہے - لوگوں کو آگے بڑھانے کا عمل تو دور کی بات خود" آگے بڑھنے " کا عمل بھی قدرتی طور پر رک گیا ہے - مگر ایسے زمین جنبد نہ جنبد گل محمد ماحول میں بھی قدرت نے کمال معجزہ دکھلا یا کہ کراچی کی ایک ادبی تنظیم "بزم شعرو سخن " نے اپنے انتخابات کروانے کا اعلان کیا - اس ادبی انجمن کو قائم ہوئے بمشکل دیڑھ سال ہی ہوا - قصہ یہ تھا کہ ہمارے ماضی کے ایک دوست نے ارادہ کیا کہ اپنے بچھڑے ہوئے حلقہ یاراں مجتمع کیا جائے - خیال تو بہت اچھا تھا - مگر کیسے اور کیونکر ؟ واٹس ایپ نے یہ گتھی بھی سلجھا دی اور پھر دوستوں میں قدر مشترک نکالی گئی - چناچہ واٹس ایپ پر دوست جمع ہوتے چلے گئے - امریکہ -برطانیہ -ہندوستان اور لاطینی امریکہ سعودی عربیہ خلیجی ممالک غرض کڑی سے کڑی ( پیش لگا کر پڑھنے کی کوشش بھی نہ کریں ) اور لڑی سے لڑی ملتی چلی گئی - یوں ایک نام " بزم شعرو سخن " تجویز کیا گیا -( کراچی کے اساتذ ہ شعرا کرام کو واٹس ایپ کی اہمیت اور اس کے فوائد سے آگاہ کرکے ان کو جدید ٹول سے متعارف کروانے کا کام کتنا مشکل ہوسکتا ہے اس کا اندازہ وہ ساتھ بآسانی لگا سکتے ہیں جنہوں نے اپنے دادا کو ٹیوشن پڑھائی ہو ) پھر اسا تذہ شعرا ، اور پھر اردو ادب کے شوق میں مبتلا مریضوں کو ڈھونڈھا گیا - اور ہوتے ہوتے بلآخر یہ گروپ کراچی کے ایک بہت بڑے ادبی حلقے کی شکل اختیار کرگیا - اس تمام تر جدوجہد کا سہرا ہمارے پیارے " سرفراز عا لم " کو جاتا ہے - پھر مرد درویش جناب طارق جمیل بھولے والا جیسے سرپرست ادب کی سربراہی میں بزم کو باقاعدہ ایک تنظیم کے قالب میں ڈھالا گیا - یہ مزدوری اور اینٹ گارہ جوڑنے کا کام نہایت مشکل ہوتا ہے - جسے دوستوں نے اپنے خون پسینے اور محبت و خلوص کے ساتھ استوار کیا - اے ایک سال کے قلیل عرصے میں بے شمار ادبی تقاریب اور محافل نے کراچی کے تمام ہی ادبی اداروں کی توجہ اپنی جانب منبذول کروالی - ڈاکٹر آفتاب مضطر کو ڈاکٹر کی ڈگری تفویض ہونے پر نشان کمال دینے کے لیے شاندار تقریب کا انعقاد اور مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا - یہ اپنی نوعیت کی منفرد تقریب تھی - امریکہ سے آئے ہوئے جناب خالد عرفان صاحب کے اعزاز میں مشا عرہ ، بیشمار چھوٹی بڑی شعری محافل ، تحریک نفاذ اردو کے تعاون سے واٹر بورڈ میں اردو کو دفتری زبان بنانے کے اعلان پر اس وقت کے ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الحق عثمانی کو یادگاری شیلڈ دینے کی تقریب اور اسی طرح کی بہت سی شاندار تقاریب کے انعقاد کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک سے آئے ہوئے دوستوں شعرا اور ادیب حضرات کے اعزاز میں نشستیں چلتی رہیں - بھائی سرفر از عالم اور طرق جمیل بھولا والا نے دن رات ایک کرکے اگست میں یوم آزادی مشاعرے کا اعلان کیا اور یوں ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوگیا - بناء کسی مالی تعاؤن اور سرپرستی کے اتنان بڑا پروگرام اعلان کی حد تک تو ہوسکتا تھا عملی طور پر ممکن نہ تھا - مگر عزم و ہمت کے سامنے تو ہمالیہ بھی آنے سے خوف کھاتا ہے - اپنی اپنی جیبوں سے مستعار لئے مال سے دل کے سخی کراچی میں ایک یادگار آزادی مشاعرہ کرنے میں بھی کامیاب ہوئے اور واقعتا اس کامیاب مشاعرے نے بزم شعرو سخن کا نام بہت آگے بڑھا یا - ابھی اس ٹیم نے پوری طرح اس کامیابی کے مزے بھی نہیں اڑائے تھے کہ جنرل سکریٹری جناب سرفراز عالم نے بزم کے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے اپنی سبکدوشی کا عندیہ دیدیا - لاکھ سمجھایا کہ بھائی کبھی ایسا ہوا ہے کہ جو بزم جمائے وہی دوسروں کے لئے جگہ بنائے ؟ فی زمانہ لوگ مرنے کے باوجود جگہ خالی نہیں کرتے ؟ آپ ہیں کہ صرف ایک سال میں نے الیکشن کی بدعت شروع کر رہے ہیں ، ؟ مگر بھائی سرفراز کے فیصلے اور اعلان میں کوئی لچک دکھائی نہیں دی -چار و ناچار ان کی ضد اور اصولی موقف کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے - اور اسطرح شعر و ادب کی تاریخ میں ایک منفرد روایت قائم ہوئی کہ نہایت سلیقہ مندی اور شفا فیت کے ساتھ پہلے سالانہ انخابات منعقد ہوئے - مجلس مشاورت کے جملہ اراکین صدر ، جنرل سکریٹری کے عہدے کے لئے اپنے حق رائے دہی کو استمعال کرنے کا حق رکھتے تھے - بیرون ملک مشاورت کے اراکین کے لئے واٹس ایپ پر ارے مانگ لی گئی تھی - حاضر افراد نے بیلٹ پپپر کی مدد سے اپنی رائے دی اور یوں اس سال کے لئے نئے عہدہداران کو باقاعدہ ووٹ کے ذریعے منتخب کیا – منتخب ہونے والوں میں ” صدر بزم جناب طارق جمیل ، جنرل سیکریٹری جناب خالد میر ، نائب صدور ڈاکٹر سہیل اختر اور امجد محمود اور ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبید ہاشمی شامل ہیں - بہت بھری پتھر ہے جو سرفراز عا لم بھائی نے اپنی ٹیم کے لئے رکھ چھوڑا ہے - امید ہے کہ اس ٹیم کے منتخب افراد اس بھری پتھر کو محض چوم کر نہیں چھوڑیں گے - بلکہ اس پودے کی آبیاری کرتے رہیں گے جسے بھائی سرفراز عا لم اور طارق جمیل بھولا والا نے لگا یا ہے- کون کہہ سکتا ہے کہ اس طرح کی مخلص ترین ٹیم کے ہوتے ہوئے میری پیاری اردو کو کوئی خطرہ ہے ؟کراچی کی حد تک تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہاں ماضی قریب کی سیاسی گھٹن اور خوف نے بڑے پیمانے پر مستقلا ہونے والی ادبی سرگرمیوں کو ہمکنے اور چہکنے سے روکنے میں اپنا بھرپور مدافعانہ کردار ادا کیا - مجھے تو ایک ایسا مشاعرہ بھی یاد ہے جسے باوجود بھولنے کی کوشش کے میں اپنے ذہن سے محو کر ہی نہیں سکتا، ایسا بھی تھا جس میں پاکستان میں اردو زبان کی" آبرو اور مان" جناب جون ایلیا کو" ڈنڈا ڈولی " ہوتے اور مار کھاتے اپنی گنہگار آنکھوں نے خود د یکھا -جون بھائی کا قصور یہ تھا کہ وہ مہمان خصوصی کے استقبال کے لئے اپنی نشست سے نہیں اٹھے - اوردرویش جون بھائی اپنے بڑے بھائی جناب رئیس امروہوی کے قاتلوں کی تعظیم کے لئے بھلا اٹھتے بھی تو کیسے ؟
Comments
Post a Comment