ماسٹر جی کو لیاری میں مولانا کرامت حسین کی جھگّی تلاش کرنے میں خاصی دشواری ہوئی، حالانکہ بتانے والے نے بالکل صحیح پتہ بتایا تھا کہ جھگی بجلی کے کھمبے نمبر 23 کے عقب میں کیچڑ کی دلدل کے اس پار ہے۔ تین سال سے کھمبے بجلی کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ پتے میں اس کے بائیں طرف ایک بھُوری بھینس بندھی ہوئی بتائی گئی تھی۔ سڑکیں نہ راستے۔ گلیاں نہ فٹ پاتھ۔ ایسی بستیوں میں گھروں کے نمبر یا بورڈ نہیں ہوتا۔ ہر گھر کا ایک انسانی چہرہ ہوتا ہے۔ اسی کے پتے سے گھر ملتا ہے۔ کھمبا تلاش کرتے کرتے انھیں اچانک ایک جھگی کے ٹاٹ کے پردے پر مولانا کا نام کرامت حسین سرخ روشنائی سے لکھا نظر آیا۔ بارش کے ریلوں نے بد خط لکھائی کو خطِ غبار بنادیا تھا۔ کراچی کا یہ سب سے پسماندہ علاقہ سطح سمندر اور خطِ ناداری ( Poverty Line ) سے گزوں نیچے تھا۔ سمندر کا حصہ ہوتے ہوتے اس لیے رہ گیا تھا کہ درمیان میں انسانی جسموں کا ایک ڈھیٹ پشتہ کھڑا ہو گیا تھا۔ زمین سے ہر وقت کھاری پانی رِستا رہتا تھا جو لکڑی اور لوہے کو چند مہینوں میں گلا دیتا تھا۔ ہوا میں رُ کے ہوئے سمندری پانی کی سڑاند بسی ہوئی تھی جو سڑی ہوئی مچھلی کی بدبو سے بھی بدتر تھی۔ چاروں طرف ٹخنوں ٹخنوں بج بجاتا کیچڑ۔ خشک زمین کہیں نظر نہ آئی۔ چلنے کے لیے لوگوں نے پتھر اور اینٹیں ڈال کر پگ ڈنڈیاں بنالی تھیں۔ ایک نو دس سال کی بچی سر پر خود سے زیادہ بھاری گھڑا رکھے، اپنی گردن اور کمر کی جنبش سے پیروں کو ڈگمگاتے پتھروں پر اور گھڑے کو سر پر بیلنس کرتی آ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر پسینے کے ریلے بہ رہے تھے۔ راستے میں جو بھی ملا اس نے بچی کو احتیاط سے چلنے کا مشورہ دیا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پانچ چھ اینٹوں کا ٹریفک آئی لینڈ آتا تھا، جہاں جانے والا آدمی کھڑے رہ کر آنے والے کو راستہ دیتا تھا۔ جن پڑھنے والوں نے اس زمانے کی بہار کالونی، چاکی واڑہ اور لیاری نہیں دیکھی وہ شاید اندازہ نہ کرسکیں کہ انسان ایسی گندی، اگھوری حالت میں نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے بلکہ نئی زندگیوں کو جنم بھی دے سکتا ہے۔ ایسا تعفن، ایسی بھیانک غلاظت تو مشرقی پاکستان میں بھی نظر نہ آئی۔ ** اردو ادب میں طنز و مزاح کے سرمایہ مشتاق احمد یوسفی نے لیاری کی یہ دل خراش تصویر 1950 اور 1960 کے دوران اپنی کتاب "آبِ گم"میں کھینچی ہے</b>.یہ دل بہت رنجیدہ ہوتا ہے.جب ہم دیکھتے ہیں کے ہمارے ہم وطن لیاری میں آج بھی اسی حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں، لیاری، اپنی مرکزیت کے باوجود، ہمیشہ کراچی کا نظر انداز، کمزور اور پچھڑاہوا علاقہ رہا ہے . ذوالفقار علی بھٹو 1960ء کے آخر میں ایک مقبول رہنما کے طور پر سامنے آئے -کراچی کے علاوہ ہر جگہ وہ انتہائی مقبول تھے . لیکن کراچی میں لیاری والوں نے بھٹو کو اپنا نجات دہندہ مانااور اپنے خوابوں کو ان کے حوالے کر دیا 1980 میں بھٹو کی پیپلزپارٹی نے کراچی سے تقریبا تمام نشستیں کھو دی تھیں لیکن لیاری کی نشست جیت لی. 1971 کےالمناک سانحہ کے بعد، پیپلزپارٹی نےوفاق اور سندھ میں حکومت قائم کی. پیپلزپارٹی کےاقتدار میں آنے سے 5 سال بعد بھی لیاری کا وہی حال تھا جو پیپلزپارٹی کے اقتدارمیں آنے سے پہلے تھا. لیاری ١١ سالہ فوجی دور میں بھی محروم ہی رہا ،جماعت اسلامی کےمیئر لیاری کے رہائشی عبدالستارافغانی نےاپنی پہلی مدت میں لیاری کےلئے کچھ راحت کا سامان کیا، لیکن پیپلز پارٹی کے مکمل نظرانداز کرنے کے باوجودلیاری نے وفاداریاں نہیں بدلیں . پیپلزپارٹی 1988ء میں مرکزاورصوبے میں اقتدار میں واپس آتی ہے، لیاری اب بھی "کرشماتی رہنما" بینظیر بھٹو کے لئے اقتدار کا سر چشمہ تھا ، جبکہ باقی کراچی مکمل طور پر مختلف سمت پرتھا ،نئی ابھرتی ہوئی طاقت ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونو لیاری سے لاتعلق تھے . پیپلزپارٹی کے 1990 میں اقتدار کھونے سے 1993 میں واپسی تک لیاری ایک چٹان کی طرح پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا تھا .مگر پیپلزپارٹی نے بھی لیاری کے مسائل حل نہ کرنے کی روش برقرار رکھی . 90 کے دہائی میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان مسلسل "نورا کشتی" جاری رہی اور مشرف کی آمریت میں ان دونوں نےملک سے راہ فراراختیار کر لی. مگر جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے حکومت کی تبدیلی سے لیاری کے حالات میں کوئی فرق نہیں آیا. اسی دور میں کراچی نے ایم کیو ایم کی شکل میں غیر معمولی سیاسی طوفان دیکھا. وہ کراچی سے ووٹ اور نشستوں کا ایک بڑا حصہ حاصل کرتے ہیں. چوںکہ لیاری ایم کیو ایم کا حلقہ نہیں ہے، اس لئے ان کو لیاری کی فکر بھی نہیں . مشرف، ابتدائی طور پرخود چیزوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اور ایم کیو ایم کو بے حد طاقت نہ صرف کراچی میں بلکہ اس کے علاوہ اندروں سندھ وہ دوسرے گروپوں کے ساتھ طاقت کا اشتراک کرتے ہیں.اس قوت کے ساتھ ان کو چاہئے تھا کہ کراچی کو بنیادی ڈھانچہ، سماجی - اقتصادی اور تعلیمی ترقی دی جاتی، لیکن ہم نے دیکھا، کہ کچھ پل اور زیر زمین گزرگاہوں کے سوا، وہ کراچی کو جو کچھ واقعی اس کی ضرورت تھی، نہیں دے سکے . "ہماری یپسندیدہ" پیپلز پارٹی 2008 میں اقتدار میں واپس آتی ہے، ایک بار پھر دونوں مرکز اور سندھ میں.اورایم کیو ایم کے ساتھ کراچی اور صوبے میں اشتراک کرتی ہے .اس کے بعد کے پانچ سال کراچی کی تاریخ کے لئے خوفناک وقت تھا . ہر دن درجنوں ہلاکتوں، دن دہاڑےڈاکہ ،اغوا اور موبائل چھینے سے شاید ہی کوئی شخص محفوظ رہا ہو .ایک مکمّل لاقانونیت تھی ، مسلح گروہوں کی شہر پر قبضہ کی جنگ میں بے پناہ عام شہریوں کا جان و مال کا نقصان ہوا .جب یونیفارم پولیس افسران اور رینجرز کو بھی قتل کیا جا رہا ہو تو ایک عام شہری کس طرح اپنی حفاظت کی توقع رکھے؟ دہشت گردوں کے حملے کراچی کے لئے ایک دوہراعذاب تھے ، دہشت گرد نہ صرف حکومتی عمارتوں کو نشانہ بناتے ، بلکہ عوامی مقامات اور رہائشی عمارتوں کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا . اس خوفناک دور میں ہزاروں معصوم شہریوں نے اپنی زندگی کھو دی. لیاری بھی ایک ہولناک دور کا سامنا کر رہا تھا .گینگ وار اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اور کوئی بھی محفوظ نہیں تھا. پانچ سالہ معصوم شہریوں کے قتل عام کے بعد، مسلم لیگ (ن) مرکز میں طاقت حاصل کر لیتی ہے لیکن مصیبت زدہ سندھ کو پیپلزپارٹی کے رحم و کرم پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے . ذوالفقارعلی بھٹو اور ان کی جانشینوں نے، اپنا وعدہ پورا کیا ! کہ وہ لیاری کو تو ترقی نہ دے سکے مگرانہوں نے باقی کراچی کو لیاری بنا دیا ۔ ایک بہت خوبرو شاہزادی نےایک نہایت بد صورت کا رشتہ اس لئے ٹھکرایا کہ وہ بے حد کریہ صورت تھا۔ اس شخص نے انتقاما شہزادی کے منہ پر تیزاب پھینک ڈالا - نتیجہ یہ نکلا کہ بدصورتی میں شہزادی اور نوجوان دونوں ایک جیسے ہوگئے - کراچی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا - لیاری کو بہتر کرنے کے بجائے بقیہ کراچی کے منہ پر تیزاب انڈیل کر سب کو ایک جیسا کردیا - غریب کراچی والو، آپ کے پاس دنیا کے غلیظ اور آلودہ ترین شہر میں رہنے کا 'اعزاز' ہے. جہاں اگر ایک مہینے میں ایک بار آپ کے گلی کا کوڑاکچرااٹھا لیا جاۓتو آپ اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں! ذرا سی بارش کے بعد ناظم آباد، شمالی ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا اور گلشن اقبال کی سڑکیں بلوچستان کے پہاڑوں کی پگ ڈنڈیوں کی یاد دلاتی ہیں. کلفٹن کےعلاقہ میں بھی سڑکوں پر گٹر بپھرے رہتے ہیں . شہر کے معروف تجارتی مراکز میں پارکنگ کی جگہ نہیں ہے . رہائشی علاقوں میں اونچی اونچی تجارتی عمارتوں کی تعمیرکے لئے قوانین موجود نہیں ہیں. جہاں لوگ دفاترجانے کے لئے بسوں کے چھتوں پر سفرکرتے ہیں. اس کے بعد یہاں کے ہسپتال، اسکول، پولیس اسٹیشن، شہری مراکز ، جن کے بارے میں کچھ نہ کہنا ہی بہترہے. جب شہریوں کو معیاری تعلیم، صاف سڑکوں، ٹریفک مینجمنٹ، پانی کی فراہمی، بڑے پیمانے پر ٹرانزٹ اسکیم، اور اس کی حفاظت اور سیکورٹی سے محروم کر دیا جائے تو اب وہ بھی ٹریفک سگنل پر رکنے جیسے کسی بھی قانون کی پیروی نہیں کرتے، اپنے گھروں اور دکانوں میں غیر قانونی تعمیرات ، بجلی کہ کنڈا کا استعمال کرتے ہوئے، عوامی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے رشوت دینے،یا اورکسی قانون کی خلاف ورزی جہاں وہ کرسکتے ہیں کرتے ہیں . جس کراچی نے ، بہترین شعرا، مصنفین، فنکار، سائنسدان، ماہر تعلیم ، رہنما اور تاجرپیدا کیے ، اب یہ ایک کچی بستی میں بدل گیا ہے. جیسا کہ احمد جاوید (کراچی کےعظیم سپوتوں میں سے ایک اور جو اب پر امن لاہور میں رہتے ہیں ) نے صحیح مشاہدہ کیا ہے، ہم گھٹیا لوگ بن گئے ہیں. شکریہ پیپلز پارٹی شکریہ ایم کیو ایم "کراچی کو ایک گھٹیا شہر بنانے کا"



Comments
Post a Comment