آپ سب کی یاد داشتوں میں کچھ ایسی یادیں ضرور ہوں گی ، جن کو آپ کبھی بھی نہیں بھول پاتے ، چاھتے ہوے بھی نہیں. یادوں کے اس سرمایے کو انسان اپنے فارغ اوقات میں تصرف میں لاتا ہے ، اور پھرایسے میں یا وہ اپنے ماضی کےکسی عشق کی داستان کا رانجھا ہوتا ہے یا پھر بچپن کے دنوں کا الہڑاور شرارتی بچہ یا -----کوئی اور ،
عمر کے ادھیڑحصّے میں کئی یادیں میرا تعاقب کررہی ہیں ، بیک وقت بہت سی ، ایسا لگتا ہے کہ میں کسی ایسے ڈپارٹمنٹل اسٹور میں ہوں جہاں " یادوں" کی ریا ئتیی سیل کا بورڈ آوایزاں کردیا گیا ہو ، اور میں یادوں کے کاؤنٹر پر کبھی اس یاد کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو کبھی دور پڑی یاد کو ہاتھ سے پکڑ کر قریب لاتا ہوں . ایک ساتھ اتنی ڈھیر ساری یادوں کو دیکھ کر میری خوشی کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے ، جو ادھیڑ عمری کی نقدی رکھتا ھو . یہ کیا ؟ یادوں کے شیلف میں گرد سے اٹی ہوئی'' شابو '' کی یاد ! میری نظریں سب کوچھوڑ چھا ڑ کے " شا بو'' پر ٹک جاتی ہیں. شابو .... ، میرا اور شابو کا ساتھ بہت زیادہ تو نہیں تھا ، لیکن جتنا بھی تھا ، اب تک قائم ہے . شابو کی یاد کم کم آتی ہے ،مگر جب بھی آتی ہے میرے اعصاب پر سوار ہوجاتی ہے ، پھر بہت دیر تک شابو میرے ساتھ رہتا ہے ، پھر میں شابو کو تنگ کرتا ہوں ، وہ برا نہیں مانتا ، میں شابو کی گیند چھپا دیتا ہوں ، شابو پھر بھی ناراض نہیں ہوتا ، میں گیند کو زوردار ہٹ لگا کر میدان میں پھینک دیتا ہوں ، شابو دوڑ کر گیند کے پیچھے بھاگ جاتا ، اور کہیں سے بھی گیند ڈھونڈھ کر دوبارہ میری جانب اچھال دیتا . حالانکہ اس کو معلوم ہوتا کہ میں دوبارہ گیند کوہٹ لگا دوں گا . شابو اور میں دونوں ایک دوسرے سے بہت مانوس تھے . ہمارا گھر شفٹ ہوا ، ہم اپنے نۓ مکان میں منتقل ھوے ، گاڑی سے سامان اتر رہا تھا ، مزدور سامان اتارتے جاتے ، میں اور میری چھوٹی بہن ہلکا پھلکا سامان جیسے تکیے ، کرسیاں ، برتن اور چادریں وغیرہ گھسیٹ گھسیٹ کر نیے مکان میں پہنچا رہے تھے ، میں نیں دیکھا کہ ایک انجانا لڑکا بہت محنت کے ساتھ بھاری سامان بھی گھسیٹ کر ہماری مدد کر رہا ہے .... میں تو اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھا . مگر وہ سب سے بےنیاز صوفہ ، کرسی ، برتن ، بجلی کا پنکھا ، غرض جو اس کے ہاتھ لگتا ، پوری کوشش کرتا کہ بہ حفاظت گھر کے اندر پہنچا دے . ہماری امی نے اس بچے کا نوٹس کیا ، اور کہا کہ بیٹا آپ کا نام کیا ہے ، کہاں رهتے ہو ؟ اس سے پہلے کہ وہ بچہ کوئی جواب دیتا ، ایک خاتون سامان پھلانگتے، ہما رے گھر میں داخل ہوئیں ، اور امی کو سلام کیا ، پھراس بچے کی جانب دیکھ کر بولیں '' شابو '' کب سے غائب ہو ، بتا کے تو جایا کرو '' پھر ہماری امی سے مخاطب ہوئیں اور بولیں '' معاف کرنا بہن ، میرا بیٹا ہے '' شابو '!' نام تو شعیب رکھا تھا ، پیار سے شابو ہی پکارتے ہیں، ذہنی طور پر معذور ہے ، مگر تکلیف نہیں پہنچا تا ، اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اور کوئی بہن بھائی نہیں ہے اس کا ، اس لیے بچوں کو دیکھ کر مچل جاتا ہے " .... وہ شابو کے بارے میں بتاتی چلی گئیں ..... پھر تو شابو ہماری پوری فیملی کا دوست بن گیا ... بس وہ دن اور آج کا دن نہ شابو کو بھول پاتا ہوں نہ اس کی یاد کو ---- میری اور شا بو کی عمر میں فرق ہوگا بھی تو کوئی دو یا تین سالوں کا ، شابو عمر میں مجھ سے چھوٹا تھا ، مگر بھاری ، بلکہ موٹا کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا ، گورا رنگ ، گول مٹول چہرہ ، ا یسے سب ہی بچوں کے چہرے باالعموم ایک جیسے ہی ہوتے ہیں ، چدہری بال ، جیسے جیسے انکل سرگم کے بال ہوں ، بلا کا طاقتور ، کوئی لڑائی میں اس سے جیت ہی نہیں سکتا تھا ، گیند پکڑ لے اور نہ دینا چاہے تو کوئی زبردستی چھین نہیں سکتا تھا . محبت کرنے والا ... شابو ذہنی معذور بچوں کے اسکول میں میں جانے لگا تھا ، روزصبح اس کی اسکول کی ویگن گلی میں آتی ، شابو جیسے کئی بچے اس میں پہلے سے موجود ہوتے ، شابو جیسے ہی ویگن دیکھتا ، اس کے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکلنی شروع ہوجاتیں ، گویا وہ سب دوستوں کو ویلکم کر رہا ہو ، یا اپنی زبان میں سلام دے رہا ہو، شابو کی خوشی دیدنی ہوتی ، پھر سہہ پہر وہ ویگن دوبارہ واپس آتی ، شابو جب ویگن سے اترتا تو ویگن میں بیٹہےدوسرے '' شابو'' اسی طرح کی آوازیں نکالتے ، جیسے کہ خدا حافظ کہہ رہے ہوں . شابو شام سے ہی ہمارے ہان آجاتا ، ہمارے گھر میں شابو کے لیے کوئی روک ٹوک نہیں تھی ، گھر کا دروازہ اگر کھلا رہ جاتا تو شابو دبے قدموں ، گھر میں آجا تے، کبھی باورچی خانے میں ، کبھی کمروں میں ، وہ مجھ کو تلاش کر رہے ہوتے ، تاکہ کرکٹ بھی کھیل سکیں .... شروع کی بات اور تھی ، میرا کوئی اور دوست نہیں تھا ، جب میں شابو کے ساتھ گیند، گیند کھیل لیتا تھا ، مگر اب محلے میں میرے اور بھی دوست تھے ، اور میرے جیسے ہی تھے ، لہٰذا میں شابو کا انتظار کئے بغیر باہر نکل جاتا ، مغرب تک خوب کرکٹ ہوتی ، شابو محسوس کرنے لگا تھا کہ میری دلچسپی اب شابو میں کم اور دوسرے لڑکوں میں زیادہ ہو گیئ ہے ...مگر وہ اظہار کیسے کرتا ؟ بولنا اسے آتا ہی کہاں تھا ، غان ، غوں ، شا شا بوبا ، شام . ماں ،ہپ بھااں وغیرہ بول لیتا تھا ... جس کا مطلب یا تو شابو کو معلوم ہوتا یا پھر شابو کی امی کو ...ہاں یہ ضرور تھا کہ شابو مجھے ڈھونڈھتا ہوا میدان میں آجاتا ... میں شارٹ مارتا تو بھاگ کر دوسرے لڑکوں سے پہلے گیند قابو کرلیتا ، پھر تھرو کرنے کے بجاتے میرے ہی ہاتھ میں لاکر دیتا .... سب شور کرتے کہ گیند چھوڑ دو ، رن بن رہے ہیں ، مگر شابو کسی کی سنے تب نان ، شابو کو تو بس گیند میرے ہی ہاتھ میں دینی ہوتی تھی ، گیند دے کر شابو اتنا خوش ہوتا کہ بے اختیار تالیاں بجانے لگتا .---شابو کا بس یہی کھیل تھا ، گیند اٹھا کر لانا ، اور میرے ہاتھوں میں دے دینا ، یا پھر اگر گیند کسی کی چھت پر چلی جاتی تو شابو کو کندھوں پر چڑھا کر چھت پر بھیجا جاتا ، شابو بلا خوف وخطر گیند اتار لاتا ، اور پھر تالیاں بجاتا . کوئی لمبا شارٹ ماردے ، اور گیند جھاڑیوں میں چلی جاتے ، تب بھی شابو اپنی خدمات پیش کردیتا ، چاہے اس کے ہاتھ پیروں پر کا نٹے ہی کیوں نہ لگ جایئں .. شابو ان سب چیزوں ، تکلیفوں سے بےپرواہ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلتا .. اور مغرب سے ذرا پہلے تک ہمارے ہی ساتھ رہتا ، پھر ہم اپنے گھر آجاتے اور شابو اپنے گھر چلا جاتا - اس شام بھی ایسا ہی کچھ تھا ... شابو پہلے ہمارے گھر آیا ، مجھے نہ پا کر وو میدان میں آگیا ، پھر گیندیں بھی لاتا رہا ، تالیاں بھی بجاتا رہا .. ہماری ٹیم بیس رن سے ہر رہی تھی ، شابو بھی اس یقینی ہار پر افسردہ سا لگ رہا تھا ، کیوں کہ اس کی تالیوں میں وہ تڑک نہیں تھی جو ہر مرتبہ ہوتی تھی ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں بیٹنگ کررہا تھا ، شابو دور بیٹھا میرے شارٹ کا انتظار کررہا تھا ، میں نے آنکھیں بند کرکے زوردار بلا گھمایا ، پھر خوب شور مچا ، کسی نے کہا چھکا ہوا ہے ، کسی نے کہا آوٹ ہے ، گیند کسی کے گھر میں گیئ ہے ، مغرب کا جھٹ پٹا چھا نے لگا ، مخالف ٹیم کے لڑکے گیند ڈھونڈھ رہے تھے ، ہم میچ ہارنے کی ذلت سے بچنے کی خوشی منا رہے تھے ... مغرب کی اذان ہوگیئ ---- سب گھروں کو لوٹ آئے.... بہت دیر بعد شابو کی امی ہمارے پاس آئیں ، گھبرائیں ہوئی تھیں ، بولیں ، " شابو'' کو دیکھا ہے ؟ مغرب سے گھر نہیں آیا ؟ '' میں نے کہا ، '' ہمارے ساتھ ہی تھا ، کرکٹ بھی کھیلی تھی .... '' ''مگر وہ اب تک گھر نہیں آیا ؟ '' شابو کی امی بہت پریشان تھیں ، ہماری امی نے ان کی تسلی کروانے کی کوشش کی ، پھر مجھے کہا '' یاد کرو ، آخری مرتبہ کہاں دیکھا تھا ، '' بہت دیر سوچنے کے بعد میرے ذہن میں بھیانک خیال آیا ..''. اوہ'' میرے منہ سے اس سے زیادہ کچھ نہیں نکل پایا میں ننگے پیر ہی گھرسے باہر نکل پڑا ،میں گلی گھپ اندھیرا ، ''ٹھہرو کہاں جا رہے ہو ، میں بھی آتی ہوں ،" میری امی بولیں بٹیا ،ٹارچ لانا ، میری امی ، شابو کی ماں ، بہن ،، محلے کے دوسرے لوگ ،کچھ لڑکے..... سب میرے پیچھے چل دئے ، میں اپنے پیچھے کی آوازیں سن رہا تھا ، ''سب دیکھ لیا ہے ، کہیں نہیں ملا ،'' یہ ہمرے محلے کے رفیق بھائی کی آواز تھی '' مسجد میں ا علان بھی کروادیا ہے ، پتا چل جے گا ، انشا الله " مزمل صاحب کہ رہے تھے ''اس کے گلے میں تو بلا بھی ہے نان ؟ کسی کو ملے گا تو پہنچا دے گا '' مظفر بھائی نے بھی تسلی کروائی میرے پیچھے سب میدان میں آچکے تھے ، کہاں دیکھا تھا ؟ ''وہ آخری مرتبہ میں نے شا رٹ مارا تھا گیند حوضی میں گری تھی ، میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا ، مگر'' شابو'' کو سب معلوم ہوتا ہے'' ، ''کہاں ہے حوضی ؟'' ''وہ رہی '' سب لالٹین کو روشنی میں حوضی کے قریب آگیے ، کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، ''لالٹین قریب کرو''، ''تم اندر جاکر ٹٹولو'' ، ''پانی گہرا ہے'' ، ''دھیان سے ''، مختلف آوازیں آرہی تھیں امجد بھائی حوض میں اتر چکے تھے ہاتھ پر ڈال کر کچھ اندازہ لگا رہے تھے ،'' لالٹین قریب کرو'' امجد بھائی یہ کہہ کر پانی میں اتر گئے امجد بھائی تھوڑی دیر بعد جب حوضی سے باہر نکلے تو" شابو'' بھی باہر آگیا ، خاموشی کے ساتھ ، ہاتھوں میں مضبوطی سے گیند تھامے ہووے ، جیسے کہ میرے ہاتھ میں ہی دے گا -- اور پھر تالیاں بجاتے گا ! ''شابو " میرا شابو ، اب بھی جب شابو یاد آتا ہے میں خود"' شابو'' بن جاتا ہوں ، تالیاں بجا کر، گیند دبا کر --
Comments
Post a Comment