کابینہ مشن - عبوری حکومت اور قیام پاکستان کابینہ بر صغیر میں اسلام کے احیاء اور آزادی کی تحا ریک ( نجیب ایوبی) قسط نمبر- (76)
کابینہ
مشن -
کابینہ
مشن -
عبوری
حکومت اور قیام پاکستان:بر
صغیر میں اسلام کے احیاء اور آزادی کی تحا
ریک (
نجیب
ایوبی)
قسط
نمبر-
(76)
1945میں
سرکار برطانیہ نے فیصلہ کیا کہ وائسرائے
لارڈ دیول کی انتظامیہ میں تمام تر
ہندوستانی ممبران کو شریک رکھا جائے اور
سیاسی جماعتوں اور ان کے نمائندوں کا
تناسب ہندو ذات کے اونچے لوگوں کے برابر
ہوگا -
ان
تجاویز پر بات چیت کے لئے جون 1945
میں
شملہ کے مقام پر کانفرنس رکھی گئی ،جو
شملہ کانفرنس کے نام سے یاد کی جاتی ہے -
اس
کونسل میں پانچ مسلم ممبران کو شامل کرنے
کی تجویز تھی -
ظاہر
ہے مسلم لیگ کو یہ حق تھا کہ وہ پانچوں
مسلم ممبران کا تقرر کرے مگر کانگریس نے
زور لگایا کہ ایک نمائندہ وہ بھی منتخب
کر کے بھیجیں -
جس
پر مسلم لیگ نے سخت موقف اختیار کیا مسلم
لیگ کا موقف تھا کہ مسلمانوں کی نمائندہ
جماعت مسلم لیگ ہے لہذا مسلم ممبران کو
بھیجنے کا حق صرف مسلم لیگ کو حاصل ہونا
چاہیے -
اسی
مخاصمت میں یہ کانفرنس کسی نتیجے پر پہنچے
بغیر ناکام ہوگئی -
اس
کانفرنس کی ناکامی نے اس تاثر کو بہت
مستحکم کیا کہ خطے میں مسلمانوں کی واحد
نمائندہ جماعت صرف اور صرف مسلم لیگ ہی
ہے -
اگرچہ
شملہ کانفرنس میں یہ فیصلہ تو نہیں ہوا
تھا کہ مسلم لیگ واحد نمائدہ جماعت ہے مگر
پھر بھی اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا گیا
46-
1945میں
مسلم لیگ کے دعوے کو جانچنے کے لئے عام
انتخابات کا اعلان کیا گیا -انتخاب
ہوئے جس میں مسلم لیگ نے اپنے دعوے کے
مطابق مرکزی اسمبلی میں تیس میں سے تیس
مسلم نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی -اور
صوبائی نشستوں میں نوے فیصد مسلم امیدواروں
کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کامیابی ملی
-
اس
حیرت انگیز کامیابی سے یہ بات عیاں کردی
کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت
ہونے کا حق رکھتی ہے -
اپریل
1946
میں
قائد اعظم نے مرکزی و صوبائی اسمبلی ممبران
اور اراکین کا مشترکہ اجلاس دہلی میں طلب
کیا -اسی
اجلاس میں حسین شہید سہروردی نے وہ قراداد
پیش کی جس میں شمال مغربی اور شمال مشرقی
اکثریتی مسلم علاقوں پر مشتمل آزاد مملکت
کا مطالبہ کیا گیا تھا -
قید
اعظم ایک لمحہ بھی ضا یع کے بغیر سرکار
برطانیہ پر اپنا دباؤ بڑھاتے جارہے تھے
-
یہ
قرارداد بھی اسی جارحانہ حکمت عملی کا
ایک نمونہ تھی -
1945 کو
برطانیہ میں ہونے والے انتخابات میں لیبر
پارٹی برسر اقتدار آگئی -
اس
نومنتخب حکومت نے تین اراکین پر مشتمل
ایک وفد ہندوستان روانہ کیا تا کہ یہاں
پر پھیلی ہوئی سیاسی بے چینی کا جائزہ لیا
جاسکے اور متعلقه اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد
میں لیا جاسکے -
اس
مشن کے اراکین نے کانگریس اور مسلم لگی
رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں
مگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے -
چناچہ
16
مئی
1946
کو
اپنے پلان کردہ منصوبے کا اعلان کیا جسے
کابینہ مشن منصوبے کے نام سے یاد کیا جاتا
ہے اس منصوبے کے اہم نکات اس طرح تھے *
برصغیر
میں ایک یونین قائم کی جائے گی -
اور
اس کا دائرۂ کار امور خارجہ ، دفاع، آمد
و ترسیل پر مشتمل ہوگا *یہ
شعبہ جات مرکز اور صوبوں میں قائم ہوں گے
*
صوبوں
کو اکتیار ہوگا کہ وہ اپنا مشترکہ گروپ
بنا لیں اور گروپ کو اپنا دستور بنانے کا
اختیار بھی حاصل ہوگا *ہر
دس سال کے بعد صوبوں کو اختیار ہوگا کہ وہ
آئیں میں تبدیلی یا ترامیم کا مطالبہ
کرسکتا ہے اسطرح جنوبی ایشیا کو تین حصوں
میں تقسیم کردیا گیا گروپ (الف
)
یو
پی ، بہار ، اڑیسہ ، سی پی ، بمبئی ،اور
مدراس پر مشتمل تھا گروپ (
ب
)
میں
پنجاب، سندھ، اور سرحد شامل تھے گروپ (
ج
)
بنگال
، اور آسام کے صوبے پر مشتمل تھا یہ تقسیم
ایک انوکھی نوعیت کے وفاق پر مبنی تھی جسے
سہ گانہ وفاق کہہ سکتے ہیں کابینہ مشن کی
ڈکٹیٹ کردہ تجویز میں یہ نکتہ بھی شامل
تھا کہ جو جماعت ان تجا ویز کی تسلیم کرلے
گی اسے عبوری حکومت بنانے کا حق دیا جائے
گا -
اندر
خانہ یہ بات واضع تھی کہ لیبر پا ڑتی کا
جھکاؤ کانگریس کی طرف ہے اس لئے کانگریس
کو خوش کرنے کی خاطر جان بوجھ کر مسلم لیگ
کو دوسرے نکات میں الجھا کر کانگریس کو
حکومت بنانے کی دعوت دے دی گئی -
اور
کانگریس نے عبوری حکومت بنالی -
کانگریس
نے مسلم لیگ کے ساتھ کچھ مفاہمت استوار
کر رکھی تھی عبوری حکومت بنا کر کیونکہ
کانگریس نے بد عہدی کا مظہرہ کیا تھا جس
پر مسلم حلقوں میں بے چینی پھیل گئی اور
ملک میں فسادات اور فرقہ وارانہ کشیدگی
پھیل گئی -
ان
فسادات کا دائرۂ پورے ہندوستان کو اپنی
لپیٹ میں لے چکا تھا جس پر وائسرائے کو
اپنی غلطی کا احساس ہوا -اور
اس نے مسلم لیگ کو حکومت میں شا مل ہونے
کی باقاعدہ درخوا ست کی -
یہ
عبوری حکومت چودہ وزیروں پر مشتمل تھی جس
میں چھ کانگریس کے وزیر تھے پانچ مسلم لیگ
اور تین وزیر براہ راست وائسرائے کے تجویز
کردہ تھے -اس
عبوری حکومت کے اندر بہت سے معاملات پر
اسقدر بے اعتمادی اور اختلاف تھے کہ یہ
عبوری حکومت بری طرح ناکام ہوگئی -
1947 میں
سرکار برطانیہ نے لارڈ دیول کو مسلسل
سیاسی ناکامیوں پر واپس برطانیہ بلا لیا
اور اس کی جگہ لارڈ ماونٹ بیٹن کو نیا
وائسرائے بنا کر بھیجا گیا -
لارڈ
ماونٹ بیٹن کانگریس کے رہنماؤں سے خفیہ
ملاقاتیں کرتا اور رات کی نشستوں میں شراب
و جام کے دور چلتے -
اس
کا رویہ کانگریس کے ساتھ نہایت دوستانہ
اور مسلم لیگ کے ساتھ مخاصمانہ تھا -
ان
تمام چیزوں کے باوجود وہ یہ بات اچھی طرح
جان چکا تھا کہ برصغیر کی ہندو اور مسلم
کی بنیاد پر تقسیم اب ناگزیر ہوچکی ہے -
اس
کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن دوبارہ برطانیہ
گیا جہاں اس نے اپنے منصوبے پر حکومت کی
منظوری حاصل کی -
اور
پھر 3
جون
1947
کو
اپنے نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا
کہ برصغیر کو دو علیحدہ علیحدہ مملکتوں
میں تقسیم کردیا جائے گا -
ان
مملکتوں کو ابتداء میں نو آبادیاتی حیثیت
حاصل ہوگی -
پنجاب
اور بنگال کو دو دو حصوں میں تقسیم کردیا
جائے گا -
اور
اس کے لئے دو غیر جانبدار حد بندی کمیشن
قائم کئے جائیں گے -
سرحد
اور سلہٹ میں عوامی آرا لینے کے لئے استصواب
کروایا جائے گا -
جبکہ
سندھ اور اسم کی صوبائی اسمبلیاں اپنے
مستقبل کا فیصلہ خود کریں گی -
کہ
وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں -
ریاستوں
کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے
کسی بھی آزاد مملکت کا ہش بن سکتے ہیں -
لارڈ
ماؤنٹ بیٹن کے اس منصوبے کو کانگریس اور
مسلم لیگ دونوں نے کچھ رد و کد کے بعد
ناگواری کے احساس کے ساتھ قبول کرلیا کہ
ان حالات میں اس کے سوا کوئی مناسب حل
دکھائی نہیں دے رہا تھا -
آخر
کار 14
اگست
1947
کو
ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد دنیا
کے نقشے پر پاکستان کاقیام عمل میں آیا -
(جاری
ہے )
Comments
Post a Comment