مولانا ابولکلام آزاد - آزادی کا متوالا - آزادی کا مخالفب -ر صغیر میں اسلامی احیاء اور آزادی کی تحا ریک ( نجیب ایوبی) قسط نمبر-70‎ (دوسرا حصہ )



مولانا ابولکلام آزاد کی ہمہ گیر شخصیت کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن پر مولانا کے انتقال کے بعد سے لیکر اب تک مبا حث جاری ہیں - لیکن ان کی شخصیت اور کی صلاحیتوں پر کسی نے آج تک الگ رائے نہیں دی - بلاشبہ وہ بہت عمدہ ترین صلاحیت کے حامل فرد تھے - ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی سیاسی زندگی بہت سے حوالوں سے زیر بحث اور موزوع گفتگو رہی - مولانا آزاد ایک عرصے تک سر سید احمد خان کے خیالات سے کافی متاثر رہے اور اپنے مضامین میں جو ان کے پرچے میں شائع ہوتے رہے سر سید کے خیالات کی حمایت میں اُن کے مخالفین کو جواب دیتے رہے ۔ مگر یہ تعلق زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا بعد میں انھوں نے سر سید کے خیالات سے کنارہ کشی اختیار کریقینا اس کی بنیادی وجہ سر سید کے انگریزوں کے ساتھ حد درجہ وابستگی اور وفاداری رہی ہوگی ۔
مولانا شبلی نعمانی کے تو شاگرد تھے ہی ان ہی کے توسط سے سید سلمان ندوی سے بھی ایک گہرا تعلق قائم ہوگیا - شبلی نعمانی نے مولانا آزاد کو ماہنامہ " الندوہ " میں نائب مدیر کی حیثیت سے کام کرنے کی درخواست کی جسے ابولکلام آزاد نے بخوشی قبول کیا - نامور خطیب کی حیثیت سے ان کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیل چکی تھی- اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ لاہور میں قومی سطح کے ایک جلسے کو خطاب کر نے کے لیے آزادؔ کو دعوت دی گئی ۔ غالبا 1906 کو لاہور اسٹیشن لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا - استقبالی مولانا آزادؔ کی تقریر سننے اور استقبال کرنے موجود تھے - سامعین اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب سولہ سالہ نوجوان کو ابولکلام آزاد کہہ کر پکارا گیا - بہت سوں کو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ نوجوان مولانا آزادؔ ہیں؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس جلسہ میں مولانا ابولکلام آزاد نے ڈھائی گھنٹہ متواتر روانی کے ساتھ خطاب کیا اور اُس موقع پر صدر جلسہ مولانا الطاف حسین حالیؔ نے برجستہ کہاکہ " عزیز صاحب زادے!مجھے اپنی آنکھوں اور کانوں پر تو بہر حال یقین کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن حیرت مجھے اب بھی ہے" مولانا ابولکلام آ زاد کے حوالے سے اور ان کی سیاسی میدان میں داخل ہونے کی تمام تر کیفیات و واقعات معروف اسکالر جناب ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی تقریر جو بعد میں میرا موقف کے عنوان سے شایع ہوئی (اور یو ٹیوب بصری ذخیرے میں بھی محفوظ ہے ) ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا بیان ہے '' سیاسی و ملّی مساعی ( کوششوں) کے میدان میں حضرت شیخ الہند ( مولانا محمود حسن دیو بندی رح ) کے ''خلیفہ'' کی حیثیّت مولانا ابوالکلام آزاد کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ نومبر 1920ء میں دھلی میں '' جمعیت العلماء ھند'' کا جو دوسرا سالانہ اجلاس منعقد ہوا تھا اس میں حضرت شیخ الھند جو کہ صدر جلسہ تھے کی جانب سے '' امامت ھند'' کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد کا نام تجویز ہوا تھا مولانا مدنی کا نہیں ! البتہ جہاں تک مولانا ابولکلام کا تعلق ہے میں مولانا ابوالکلام آزاد کو اپنا امام تسلیم کرتا رھا ہوں اور ڈنکے کی چوٹ پر کرتا رہونگا۔ بلکہ ان ہی کے واسطے سے اپنا دینی سلسلہء نسب شیخ الھند سے جوڑتا ہوں۔ لیکن اس صرا حت کے ساتھ کہ میرا " امام " صرف 1912 سے لیکر 1920 تک کا ابولکلام ہے - اس کے بعد کا نہیں " ( حوالہ ماہنامہ میثاق اکتوبر 1994 صفحہ نمبر 57) 1912 اور 1920 کی بھی وضاحت اس طرح کی کہ 1912 میں الہلال اور البلاغ کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کو قرآن کی بنیاد پر آذان دے کر بلایا جس کی وجہ سے شیخ الہند رح نے کہا کہ " اس نوجوان نے ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا " اور پھر 1913 میں حزب اللہ قائم کی - ہندوستان میں پہلی آواز تھی جو ابولکلام آزاد نے بہت عرصے کے بعد تازہ دم انداز میں بلند کی - قران اور جہاد کی بنیاد پر ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی جانب بلایا - ورنہ اس سے پہلے اسلام حدیث اور فقہ کے ارد گرد ہی موجود رہا - اسرار احمد مرحوم کے کہنے کے مطابق مولانا آزاد بلاشبہ عقبری ( جینئیس ) شخصیت کے حامل تھے اور ایسے لوگ باالعموم عملی آدمی نہیں ہوتے باالفاظ دیگر وہ بہت ذہین و مفکرانہ صلاحیتوں کے حامل تو ہوتے ہیں مگر ان میں مسلسل محنت کا ما دہ کم دوسروں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے - اس حوالے سے مولانا آزاد کے سیاسی رفیق کار گاندھی جی نے اسطرح کہا " مولانا آزاد بہت ذہین ہیں اور ہمارے بڑے بڑے فیصلے ان کے مشوروں سے ہوتے ہیں مگر ان کے قریب بیٹھ کر روحانیت کا اندازہ نہیں ہوتا " مولانا ابولکلام آزاد کی شخصیت کے بہت سے گوشے ایسے ہیں جن پر ان کے انتقال کے بعد بھی تعجب حیرت اور گفتگو ہوتی رہے - ان کی مذہبی شناخت اور ان کا مرتبہ ، ان کا سیاسی رجحان اور انڈین کانگریس کے ساتھ جذباتی و نظریاتی وابستگی ،آزاد وطن کی خواہش اور جدوجہد اور مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی جدوجہد سے سرمو اختلاف ان سب پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے - اس میں کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں مولانا ابولکلام آزادؔ کا بہت اہم کردار ہے - اور اس جدوجہد کی پاداش میں کئی بار پابند سلاسل بھی ہونا پڑا ۔ 1920 سے بعد کا تمام دور ان کی سیاسی جدوجہد سے عبارت ہے - جب وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو کانگریس کے حوالے کرچکے تھے - خلافت کانفرنس میں ہی اعلانیہ طور پر گاندھی جی کو رہنما تسلیم کرتے ہوئے انکے اصولوں پر کاربند ہونے کا مشورہ دیا - اب گاندھی جی کے اصول کیا تھے ؟ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے - وہ عدم تشدد کے پرچارک تھے اور وطنی سیاست پر یقین رکھتے تھے- لیکن عین ریشمی رومال تحریک گاندھی جی کی تحریک سے علیحدگی نے ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں کے تصور کو واضع کرکے رکھ دیا - - کانگریسی سیاست نے مولانا آزاد کو ایک الگ حاشیے میں فٹ کردیا تھا جہاں مولانا آزاد اپنے مذھبی و دینی تشخص کی پرواہ نا کرتے ہوئے امت مسلمہ اور وطنی سیاست کی باریکی کو نظر ا نداز کر تے دکھائی دیئے - ہندوستان کو آزاد کروانے کے عزم مصمصم میں وہ دو قومی نظریئے کے خلاف جا کھڑے ہوئے اور کھل کر اپنا موقف رکھا کہ ہندو اور مسلمان کی بنیاد پر کسی بھی علیحدہ مملکت کی کوئی ضرورت نہیں ہے - قاضی عبدالغفار کی کتاب آثار ابولکلام آزاد کے حوالے سے ایک عبارت نقل کر رہا ہوں قاضی عبدالغفار رقم طراز ہیں کہ ابولکلام آزاد کا روایتی ملا اور مروجہ اہل مذھب کے حوالےسے ایک خاص نقطہ نظر روز اول سے ہی رہا جس کا تذکرہ یوں کیا " مذھب کے دکانداروں نے جہل و اور ہوا پرستی کا نام مذھب رکھا ہے - اور روشن خیالی اور تحقیق جدید کے عقل فروشوں نے الحاد و بے قیدی کو حکمت و اجتہاد کے لباس سے سنوارا ہے - نہ مدرسے میں علم ہے نہ محراب و مسجد میں اخلاص اور نہ میکدے میں رندان بے ریا -ارباب صدق و صفا ان سب سے الگ ہیں اور سب سے پناہ مانگتے ہیں -ان کی راہ دوسری ہے " سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا عوامل تھے جنہوں نے مولانا آزاد کو جو " امام الہند " بنے والے تھے ،اچانک مذہبی میدان سے سیاسی میدان میں اس طرح داخل ہوئے کہ ان کی دی ہوئی آذان کہیں گم ہو کر رہ گئی ؟ اب چونکہ مولانا آزاد جبہ و دستار ، حلیے کہیں سے بھی سکہ بند مولوی نہیں تھے اور نہ ہی منطق اور فلسفہ وہاں کے مدارس سے پڑھا تھا لہذا ناممکن تھا کہ ان کی مذہبی حیثیت کو اس طرح تسلیم کیا جاتا جیسے کہ مولانا آزاد چاہتے تھے - اس ضمن میں کچھ تفصیل تو ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے ذریعے پہنچی ہے جو اسطرح ہے حوالہ وہی ہے جو اوپر درج کر چکا ہوں (نومبر 1920ء میں دھلی میں '' جمعیت العلماء ھند'' کا دوسرا سالانہ اجلاس ) " اس اجلاس میں مولانا احمد سعید صاحب کے خطاب سے پہلے مولانا ابولکلام آزاد نے خطاب کیا اور خوب مدلل و جذباتی انداز میں حاضرین کو ہندو ستان کے حالات سے باخبر کیا - ان کے بعد مولانا احمد سعید صاحب نے خطاب فرمایا اور دوران خطاب نہایت جذباتی انداز میں حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی قیادت کی مسند خالی ہے اور اب شیخ الہند کے بجائے" امام الہند" کی ضرورت ہے ! لہذا ابولکلام کو امام الہند ماں کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی جائے - اس موقع پر حاضرین بے تاب تھے کہ اٹھیں اور مولانا آزاد کے ہاتھ پر بیعت کریں - مگر علامہ معین الدین اجمیری اٹھے اور مولانا آزاد کی امام الہند کی حیثیت سے اختلاف کرتے ہوئے حضرت عمر )رض ) کا قول دہرایا کہ " بیعت کا اچانک ہوجانا فتنے سے خالی نہیں " دلیل بہت مضبوط تھی حاضرین کو چپ لگ گئی -اس موقع پر شیخ الہند جو بہت بیماری کی حالت میں تھے ان کی چارپائی اسٹیج کے قریب لگائی گئی - انھوں نے اس نازک وقت کہا کہ " مجھے قریب لے چلو ، میں بیعت کے بناء مرنا نہیں چاہتا " علامہ میں الدین اجمیری جو مجلس منتظمہ کے اہم رکن تھے اپنے موقف پر قائم رہے اور مزید کہا کہ " مولانا آزاد کی یہ حیثیت نہیں ہے - قیاس ہے کہ یہ وہ ممکنہ پس منظر ہو سکتا ہے جو مولانا آزاد کو مکمل طور پر کانگریسی سیاست میں لیکر آیا ہوگا - (جاری ہے )




Comments