ریشمی رومال تحریک - بر صغیر میں اسلامی احیاء اور آزادی کی تحا ریک ( نجیب ایوبی) قسط نمبر-‎68 عبید الله سندھی ایک انقلابی مولوی: آخری حصہ

ریشمی رومال تحریک - عبید الله سندھی ایک انقلابی مولوی آخری حصہ
بر صغیر میں اسلامی احیاء اور آزادی کی تحا ریک ( نجیب ایوبی) قسط نمبر-‎68‎ مولانا عبید سندھی کی سحر انگیز شخصیت کا خاکہ کچھ اسطرح سے ہے " درمیانہ قد ، گول چہرہ، متوازن نقش و نگار ،ذہانت کی آئینہ دار موٹی موٹی چمکدار آنکھیں ، گورا رنگ سفید داڑھی چہرے کے رنگ کے عین مطابق ، ننگا سر بالوں سے بے نیاز ، سفید کھدر کا لمبا کرتا ،سفید کھدر کی شلوار زیب تن ، جا ذب قلب و نظر شخصیت کے مالک اور بڑے متحرک ،اسلوب کلام پراعتماد ،اور شان جلالی ہر لفظ میں نمایاں- جٹ سکھ خاندان کے سیالکوٹی گھرانے میں 10 مارچ 1872 کو آنکھ کھولنے ہونے والے بوٹا سنگھ اوائل عمری میں اپنے دوست کلاس فیلو سے کتاب مستعار لیکر اپنے علم کی پیاس بجھا تے بجھاتے بوٹے سنگھ سے عبیداللہ سندھی بن گیۓ - پھر دیوبند میں شیخ کی ارادت مندی میں آنے کے بعد مولانا عبید اللہ سندھی ہو گیۓ - اپنی زندگی کے 24 برس 1915 سے 1939 تک افغانستان، سوویت یونین، ترکی اور سعودی عرب (حجاز) میں گذرے۔ 1897 سے لیکر 1944یعنی وفات تک کے پچاس سا ل انتہائی متحرک اور فعالیت میں گزارے - ان پچاس سالوں میں ایک طرف تو آپ نے سندھ کی قومی طاقتوں کو قومی نقطہ نگاہ پر مجتمع کرنے پر صرف کیا - اور دوسری جانب دیوبند کے علماء کو جہاد آزادی کے لئے ازسر نو تیار کیا - جدوجہد کے پہلے مرحلے میں دیوبند اور علی گڑھ کے عالم و فا ضل افراد کو جمعیت الانصار کی شکل میں ایک جگہ منظم کیا - دوسرے مرحلے پر کابل میں پہلے سے موجود مجاہدین جو کہ شیخ الہند کے شاگرد تھے ان کو سیاسی حوالے سے ایک شناخت دی اور انگریز کو مجبور کرکے1920 میں افغانستان کی آزادی تسلیم کروائی - اور آنے والوں دنوں میں حکومت برطانیہ سے ہندوستان کی آزادی کا بھی وعدہ لیا - مولانا عبید اللہ سندھی کی زندگی کا بہت بڑا حصہ ہجرت ،سفر اور مستقل آزادی کی جدوجہد سے عبارت ہے - 1915 میں کابل پہنچے پھر چند سال قیام کے بعد ماسکو ( روس ) چلے آئے - یہاں پہنچ کر زار روس ک اقتدار کو بکھرتے اور جدید روس کو بنتے ہوئے دیکھا - اس مشاہدے نے آپ کے ذہن پر بہت گہرے نقوش ثبت کیئے - اپنی جلاوطنی کے 24 برسوں میں عبید اللہ سندھی نے افغانستان کے حکمرانوں کی سیاسی قلابازیوں اچھی طرح جانچ لیا تھا اس کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ انقلاب پر چڑھی قومیت پرستی کی غلاف کو بھی اترتے دیکھا - اسی اثناء میں ترکی کے مصطفیٰ کمال اتاترک کی جدیدیت کا بھی مشاہدہ کیا اور اسلامی دنیا کے نقشے پر حجاز مقدس کی جگہ سعودی بادشاہت اور اس بادشاہت کی سیاسی ترجیحات اور جابرانہ طرز حکمرانی کا بھی بغور مطالعہ کیا۔ اپنے طویل تجربے اور حیرت انگیز مشاہدے کی روشنی میں اپنا موقف اسطرح پیش کیا کہ " میں نے دہریہ روس سے مقدس حجاز تک حکمرانوں کو دیکھا ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ ہمارے انقلاب کو کوئی دوسرا ملک مدد نہیں دے گا کیونکہ ہر ملک کی اپنی اپنی خارجہ پالیسیاں ہیں۔ وہ اپنی خارجہ پالیسیوں کے تحت ہی انقلابیوں کو چکر دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔ اگر ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اپنی عوام ہی پر بھروسہ کرنا ہوگا نہ کہ کسی بیرونی طاقت پر"۔ 1939 میں ہندوستان کی جدوجہد آزا دی پر مولانا عبید اللہ سندھی اتنا دلیرانہ اور بھرپور موقف ان کے 24 سالہ مشاہدات کی روشنی میں ہی سمجھا جاسکتا ہے جو انھوں نے بیرون ہندوستان حاصل کیا - گو کہ مولانا عبید اللہ آل انڈیا کانگرس کے پرزور حامی تھے مگر انہوں نے مسلم لیگ اور یونینسٹ پارٹی آف پنجاب کو بھی اپنی گڈ بک میں جگہ دے رکھی تھی - گاندھی جی کی سیاست کی کئی مواقعوں پر مخالفت بھی کی ان کا مطالبہ تھا کہ کہ وہ ہندوستان کو ایک قوم کہنے کی بجائے قوموں کا وفاق کہے۔ عبداللہ ہارون کی کوششوں سے فروری 1939 میں حکومت سندھ کی ضمانت پر انگریز حکومت نے مولانا عبید الله سندھی کو وطن واپس آنے کی اجازت دے دی تھی۔ مولانا عبید الله نے وطن واپس آکر اپنے تجربات کی روشنی اور بھر سے ملنے والے مشاہدات کو پیش نظر رکھتے ہوئے موجودہ حالات میں مولویانہ مزاج سے ہٹ کر اجتہادی انداز میں وعظ و نصیحت شروع کی تو ان پر الزمات کی بوچھاڑ ہونے لگی - یہاں سے آپ ترقی پسند مولوی اور اجتہادی بھی قرار پائے ساتھ ہی ساتھ آپ پر سندھی قوم پرست ہونے کا بھی الزام لگایا گیا - عبید الله سندھی ایک طویل عرصہ کابل ماسکو اور ترکی میں گزار آئے تھے - سوشلٹ انقلاب و نظریات ، ترکی کی پروان چڑھتی قومیت اور جدیدیت کاسلاب نے ان کی زندگی میں ایک خاص رنگ پیدا کردیا تھا - وہ اسلام کو محض روحانی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر انسان کی مکمل زند گی بشمول معیشت ،رہن سہن ، تہذیب و تمدن اور ریاست سب پر ہوی دیکھنا چاہتے تھے - معذ رت کے ساتھ اس وقت کا سکہ بند مولوی مکتب عبید الله سندھی کے ترمیم شدہ خیالات کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے - اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے اپنے مکتبہ فکر کے بہت سے زعما نے آپ کی مخالفت میں کہنا شروع کردیا - مولانا جب چوبیس برس بعد 1939 میں وطن واپس لوٹے تو انہوں نے اپنے وطن کے لوگوں کو آنن الفاظ میں اپنا پیغام دیا " میں انقلاب کے دینی فلسفے کا پیغام دینے آپ کے پاس واپس آیا ہوں -انقلاب کا میرا یہ پیغام تمہیں لادینی انقلاب کے مضر اثرات سے محفوظ رکھ سکے گا - محنت کش لوگوں کے ہاتھ میں قوت اور اقتدار آنا لازمی ہوگیا ہے - تم نے اگر محنت کشوں کے اس اقتدار کو دینی نہیں بنایا تو پھر یہ انقلاب حتمی طور پر لادینی فلسفے کے زیر اثر ہوگا " ان کی دور رس نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ مظلوموں محکوموں کے اقتدار کو اب روکا نہیں جاسکتا -اس پیغام میں درحقیقت وہ جو بات کہنا چاہ رہے تھے وہ یہ تھی کہ عا لمی منظر نامہ بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہا ہے - مزدور اور محنت کش اپنے اپنے جتھے بنا چکے ہیں - گویا اب مذھب کو محض رسوم و عبادت تک محدود نہ کیا جائے بلکہ ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تبدیلی کے ان عوامل کو دین کے دائرۂ اثر میں رکھا جائے یا اس بارے میں شعوری کوشش ضرور کی جائے - ( یہی بات اس وقت کے دینی سکہ بند عناصر کو گراں گزری -اور ان پر انقلابی اجتہادی جیسے فقرے کسے جانے لگے ) عبید الله سندھی نے متعدد مواقعوں پر ریاستی انقلاب سے پہلے اپنی زندگی اور ذات کے انقلاب پر زور دیا ہے - آپ کہتے تھے کہ ضروری ہے کہ اگر آنے والے انقلاب کے برے اثرات سے بچنا چاہتے ہو تو قومی ضمیر میں انقلاب لیکر آو- اور انقلابی سوچ و فکر سے اپنے ضمیر کا ڈھانچہ بناؤ - اسطرح تم تقلیدی انقلابی نہیں بنو گے بلکہ تمہارے باطن سے انقلاب کے سوتے پھوٹیں گے - اور پھر اس انقلاب کی شکل اور ہییت تمہارے وطن کے حالات اور اس کی روایات کے مطابق ہوگی - اور پھر اسطرح جو انقلاب رونما ہوگا مجھے یقین ہے کہ روس کی طرح لادین نہیں ہوگا " ان خیالات کے سبب ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ روس کے انقلاب سے متاثر ہوئے اور محنت کشوں کے اقتدار کی بات کرتے ہیں - میرا خیال ہے کہ یہ کم فہمی پر مبنی رائے تھی جو ان کے بارے میں قائم کی گئی - مولانا کی جگہ کوئی بھی فرد ہوتا کہ جس نے روس میں ایک انقلاب کو پروں چڑھتے دیکھا اور اسی طرح عثمانی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد جدید ترکی کی تعمیر اور عوامی مقبولیت دیکھی ہو اس کی ان انقلابات کے بارے میں زمینی حقائق پر مبنی رائے ضرور ہی بننی تھی - مگر مولانا عبید الله سندھی کی بالغ نظری تھی کہ آپ اس طرح کے عوامی دھاروں کے جذباتی انقلاب کے بد اثرات سے بھی بخوبی آگاہ تھے اور اس بچنے کے طریقوں سے بھی آگاہی دلا رہے تھے - مولانا عبید الله سندھی کو اس بات کا بھی ادراک تھا کہ اگر بیرونی عوامل کے زور پر کسی بیرونی قوت کے زیر اثر رہ کر کوئی انقلاب برپا ہو بھی جائے گا تو وہ دیرپا نہیں ہوگا - اپنے ان خیالات کو انھوں نے اپنے معتقدین کے سامنے اس طرح سے پیش کیا " اگر تمہارے محنت کش طبقے لادینی انقلاب کے ذریعے اٹھے تو اس سے تمہارے دین کا جو حشر ہوگا ، وہ تو معلوم ہی ہے - لیکن اس کا اثر تمہارے قومی وجود کیلئے بھی زیادہ مفید نہیں ہوگا -اس لادینی انقلاب کا مرکز تمہارے ملک سے باہر پرورش پا رہا ہے اگر اس بیرونی مرکز کے لادینی انقلاب کی رو میں تم بہہ گئے تو اگرچہ یہ ماں بھی لیا جائے کہ تم سیاسی طور پر آزاد اور خود مختار ہو گے -لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تم ذہنی طور پر آوروں کے مقلد ہو جاؤ گے " - انقلاب ، تبدیلی ، محکوم و مظلوم کی کشمکش اور گر د و پیش میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو دین کے ساتھ جوڑے رکھنے اور اپنے اپنے باطن میں حقیقی انقلاب برپا کرنے کی دعوت و نصیحت دینے والا کوئی عام مولوی نہیں تھا - اپنے دور کا عظیم مجاہد اور انقلابی مولانا عبید الله سندھی تھے - جو جب بوٹا سنگھ تھے تب بھی گرجدار اور مختلف مزاج تھے اور جب حلقہ بغوش اسلام ہوئے تب بھی منفرد اور سب سے جداگانہ انداز لئے ہوئے تھے - مولانا عبید الله سندھی کا انقلاب کا فلسفہ ایسے انقلاب کا پتہ دیتا تھا جو علم اور سائنس کی برکات سے بھی ما لا ما ل ہو - تعلیم و ترقی سے بھی استفا دہ کرے اور صرف مادی تبدیلی پر انحصار نہ کرے بلکہ اس انقلاب میں فرد کا کائنات اور روح کے ساتھ بھی باہمی ربط لازم ہو - (جاری ہے )





Comments

Post a Comment