مقدمے کی لمحہ بہ لمحہ روداد
کراچی ایک بار پھر ایک طویل ترین جبر اور فسطا ئیت کا دور دیکھنے کے بعد بھرپور طریقے سے سیاسی انگڑائی لے رہا ہے - اس سیاسی جمود کی فضاء کو توڑنے میں کراچی کے اداروں کی سستی اور نااہلی کا دخل تو ہے ہی - مگر اس کا تمام تر کریڈٹ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کو جاتا ہے - جنہوں نے محض ایک سے دیڑھ سال کے مختصر عرصے میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت اور سربراہ پبلک ایڈ کمیٹی سیف الدین ایڈوکیٹ کی رہنمائی میں کراچی کے دو ڈھائی کروڑ عوام کےدیرینہ بنیادی مسلے کے -الیکٹرک کی مبینہ بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں اور لوٹ مار کے خلاف بروقت اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا -
گزشتہ دنوں 7- اپریل کو اس سلسلے میں جماعت اسلامی کراچی نے کے - الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر بھرپور عوامی قوت کا انوکھا دھرنا دیا - جس میں متاثرین کے - الیکٹرک اور جما عت اسلامی کے کارکنوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی -
یہ دھرنا اس اعتبار سے بھی کامیاب ترین رہا کہ اس اہم ترین اشو پر جس میں کراچی کے عوام جذباتی اور مشتعل تھے -اور مشتعل ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ایک ہفتہ پہلے نرسری پر ہونے والے دھرنے کے پروگرام پر کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے وحشیانہ فائرنگ اور شیلنگ تو تھی ہی مگر جس بھونڈے طریقے سے جماعت اسلا می کراچی کے ہیڈ کوارٹر ادارہ نور حق کا گھیراؤ اور تمام کی تمام مرکزی قیادت کو گرفتار کیا گیا - انتظامیہ کے اس مجرمانہ اور بزدلا نہ فعل نے عوام اور باا لخصوص کارکنان جما عت اسلامی کو مزید توانا کردیا تھا -
یہی وجہ تھی کہ 7- اپریل کے دھرنے پر نہ صرف متاثرین کے -الیکٹرک بلکہ میڈیا اور انتظامیہ بھی نظریں گاڑے بیٹھی تھی -
صبح گیارہ بجے سے رات ایک بجے تک کے - الیکٹرک کا ہیڈ آفس پاک انڈیا بارڈر کا نقشہ پیش کر رہا تھا - ممکنہ تصادم اور ممکنہ ہلڑ بازی سے گھبرا کر صبح سے ہی کے -الیکٹرک کی تمام اعلی سطحی انتظامیہ ہیڈ آفس چھوڑ کر قریبی نامعلوم عمارت میں منتقل ہوچکی تھی - پولیس کی بیسیوں گاڑیوں نے ہیڈ آفس کے گرد حفاظتی حصار بنایا ہوا تھا - مگر جماعت اسلامی کی ذہین اور باشعور قیادت نے اس عظیم دھرنے کو انتہائی پر امن رکھ کر تمام سیاسی قوتوں کو " امن اور سیاسی تہذیب و پختگی " کا سبق سکھا یا -
دن کے گیارہ بجے سے شروع ہونے والا دھرنا اپنے اندر کئی دلچسپیاں اور جماعت اسلامی کی روایتی انوکھے پن کا مکمل غماز دکھائی دیا - انتہا ئی پر امن ہونے کے باوجود اس دھرنے میں میڈیا کے لئے اور متاثرین بجلی کے لئے بہت کچھ تھا -
اس دھرنے میں اسپا ئیڈر مین ، اور بھینسوں نے میڈیا کی برپور توجہ حاصل کی - اسی طرح بجلی اور اس کی شکایات و ظلم کے عنوان سے "بجلی مشاعرہ " اپنی جگہ نہایت کامیاب پروگرام رہا - مگر عوامی عدالت اور کے -ای کے مقدمے نے جس طرح عوام کے اس مسلے کو اجاگر کیا وہ اپنی مثال آپ تھا -
قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں " کے- الیکٹرک - عوام کی عدالت میں " کا آنکھوں دیکھا حال - امید ہے قارئین کو یہ عدالتی کاروائی کی روداد پسند آئے گی -
دھرنے کے شرکاء عصر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے - اسٹیج سے اعلان ہوا کہ کے -الیکٹرک کے خلاف عوام کی عدالت شروع ہو رہی ہے - اس اعلان کے ساتھ ہی صبح سے بیٹھے ہوئے شرکاء نے اپنا رخ اسٹیج کی جانب کر لیا جہاں ایک نہایت دیدہ زیب عدالت کا سیٹ تیار تھا - جس کے عقب میں جہازی سائز بینر (جس پر کے الیکٹرک - عوام کی عدالت میں تحریر تھا ) آویزاں تھا -
عدالت لگ چکی تھی - معزز ججز کی جیوری جناب اسد اللہ بھٹو صاحب( نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ) ، جناب محمد حسین محنتی ( نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ) اور جناب ڈاکٹر اسامہ بن رضی صاحب ( نائب امیر جماعت اسلامی -کراچی ) پر مشتمل تھی - معزز جیوری عدالت میں اپنی نشست پر بیٹھ چکی تھی معزز عدالت نے عدالتی کاروائی کے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا -
بائیں جانب لگے ہوئے کٹہرے میں وکیل استغاثہ ( نجیب ایوبی - جنرل سکریٹری -پبلک ایڈ کراچی جما عت اسلامی ) موجود تھے جنہوں نے عدالت کو اپنا تعارف اور وکالت نامہ دکھاتے ہوئے سامنے کے- الیکٹرک کی بلڈنگ کی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے کہا
"معزز جیوری میں آپ کی عدالت میں اس سفید ہاتھی یعنی کے -الیکٹرک کے خلاف کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام ، صارفین و متا ثرین کا مقدمہ لیکر حاضر ہوا ہوں - میں کراچی کا بیٹا نجیب ایوبی ہوں - جو کہوں گا سچ کہوں گا - سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گا اس حلف کے بعد
وکالت نامہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے دھرنے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ مجھے اپنی نمائندگی اور وکالت کا حق دیتے ہیں ؟ "
شرکاء نے کے الیکٹرک کے ظلم کے خلاف یک آواز ہوکر فلک شگاف نعروں کی صورت میں وکیل استغا ثہ کو وکالت کا حق دے دیا -
جیوری : آپ کو عوام کی یہ عدالت بحثیت وکیل وکالت کا حق دیتی ہے - کاروائی آگے بڑھائی جائے اور مقدمہ پیش کیا جائے -
وکیل استغا ثہ: معزز جیوری ، آج میں ایک ایسے مجرم کے خلاف مقدمہ لیکر آپ کی عدالت میں حاضر ہوا ہوں جس نے نہ صرف کراچی کے شہریوں سے دو سو ارب روپے جعل سازی اور فراڈ کے ذریعے حاصل کئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کے قومی خزانے کو بھی مستقل نقصان پہنچا رہا ہے
جیوری: آپ ایک ایک کرکے اپنا نکتہ نظر اور جرائم کی فہرست عدالت کے گوش گزار کریں
وکیل استغا ثہ: اونربل بنچ کے سامنے میرا پہلا الزام یہ ہے کہ اس ادارے نے شہریوں سے دو سو ارب روپےہتھیائے لئے اور اس کا انکاری بھی ہے -
جیوری: اس دھوکہ دہی کی تفصیل پیش کی جائے
وکیل استغا ثہ: عوام کو بتایا جائے کہ کراچی کے ادارے کے ای ایس ای کو پرویز مشرف اور شوکت عزیز نے متحدہ کی حکومت میں محض ١٧ ارب روپے میں کیسے خریدا ١١٧ ارب روپے میں چین کی کمپنی کو کس طرح فروخت کیاجارہا ہے - سترہ ارب روپے تو صرف ادارے کے کھمبوں کی قیمت بنتی ہے - اتنی کم قیمت کیسے لگائی گئی ؟ کس کس نے کتنا حصہ وصول کیا اس کے ساتھ ساتھ میرے ملزم کے -الیکٹرک نے وہ کونسی ہیر پھیر اور فراڈ ہے جو نہیں کیا -؟
اس نے صارفین سے ڈبل بنک چارجز کے نام پر 24 ارب روپے کی رقم اب تک حاصل کی -
دوسری دھوکہ دہی یہ کی کہ جب اس کمپنی نے کراچی الیکٹرک کو خریدا تھا تو ملازمین کو نہ نکالنے کی گارنٹی دی تھی اس کے عوض صارفین سے
15 یو نٹ کے ریٹ طے کئے تھے ، مگر بعد میں چار مہینوں کے بعد ساڑھے سات ہزار ملازمین کو جبری طور پر بلا کسی معاوضے کے نکا ل باہر کیا - اور ملازمین کو نہ نکالنے کے لئے حکومت کو بلیک میل کرتے ہوئے پندرہ پیسے فی یونٹ لئے جو یہ اب بھی بل کے ساتھ لگا کر بھیج رہے ہیں - اس طرح اب تک 35 ارب کی رقم اس کمپنی نے اپنی جیبوں میں ڈالی
اس کے علاوہ ڈبل میٹر رینٹ اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 24 روپے بنائے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ رقم بھی صارفین سے وصول کی جارہی ہے
-ملٹی ٹیرف کے نام سے شہریوں سے 24 ارب روپے کا فراڈ کیا - یہی نہیں معزز عدالت ، اس ملزم نے ایک کلا بیک فارمولے کو متعا رف کرواتے ہوئے
کراچی کے معصوم شہریوں سے 17 ارب روپے کی رقم حاصل کی اور حکومت سے سا لانہ 75 ارب روپے کی سبسڈی وصول کرتے ہیں جو کہ ہماری جیبوں سے ادا کی جاتی ہے
معزز عدالت میں آپ سے درخوا ست کرتا ہوں کہ پہلے میرے ان الزمات کا جواب دیا جائے ین ان کو غلط ثابت کیا جائے - میں آپ سے انصاف کی توقع لیکر یہاں حاضر ہوا ہوں -
جیوری: کیا یہاں پر کے -الیکٹرک کی صفائی میں کوئی وکیل موجود ہے ؟
کچھ منٹ کی خاموشی مگر کوئی وکیل نہیں آیا - عدالت نے دوسری بار اعلان کیا کہ اس ملزم کا کوئی وکیل ہے جو وکیل استغا ثہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دے - پھر بھی خاموشی طاری رہی- اس بار بھی کوئی وکیل پیش نہیں ہوا -
حاضرین کی جانب سے پرزور نعرے - چور ہے ،چور ہے - کے-الیکٹرک چور ہے - تانبہ چور ، کے - الیکٹرک -
جیوری: عدالت اکا احترام ملحوظ رکجھا جائے
وکیل استغا ثہ: معزز جیوری ! میرے کلائنٹ اس ملزم کے ستائے ہوئے ہیں اپنا پیٹ کاٹ کر بجلی کا بل ادا کرتے ہیں - آج اس عوامی عدالت میں اپنا حق لینے آئے ہیں اور مقدمے کی کاروائی سن کر فرط جذبات سے مغلوب ہوکر اگر نعرے لگا رہے ہیں تو میں عدالت سے استدعا کرتا ہوں کہ ان سے ان کا جمہوری حق نہ چھینا جائے -
جیوری: آپ کی استدعا پر غور کیا جائے گا - ابھی نماز مغرب کا وقفہ ہے - تاہم عدالت ملزم کے -الیکٹرک کو پابند کرتی ہے کہ اگلی سماعت جو نماز مغرب کے بعد ہوگی اس وقت تک اپنی صفائی میں کوئی وکیل پیش کرے - اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا تو فیصلہ یکطرفہ سنا دیا جائے گا -
عدالت نماز مغرب تک برخواست کی جاتی ہے !
نعرے جن میں تیزی آگئی - چور ہے چور ہے- کے --------چور ہے ------ ساڈا حق اتھے رکھ - تانبہ چور بے غیرت !
دوبارہ سماعت نماز مغرب کے وقفے کے بعد - ایک مرتبہ پھر فلک شگاف نعرے ----
عدالت : آرڈر -آرڈر -آرڈر ! شرکاء خاموش
جیوری : وکیل استغا ثہ کیا آ پ اپنے لگایے ہوئے الزامات ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟ یا یونہی جذباتی تقریر کر رہے ہیں ؟
وکیل استغا ثہ: جناب یور آنر !
میں جذبات میں ہرگز نہیں ہوں ، میرے الزامات کی سچائی کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ اب تک میرا ملزم ( کے - الیکٹرک ) اپنے دفاع کے لئے کسی بھی وکیل کو پیش نہیں کر پایا ہے !
میرے پاس اپنے الزامات کے ثبوت کے طور پر اتنے گواہ موجود ہیں کہ پوری رات ، اگلا دن اور اس کے بعد دوسرا دن اور مزید کئی راتیں گزر جائیں گی مگر میرے گواہان اور اس محکمے کے متاثرین کو آپ نہیں سن پائیں گے -
جیوری( جج اسامہ بن رضی ) اگر گواہ ہے تو عدالت اس کا موقف جاننا چاہتی ہے - گواہ پیش کیا جائے ( حکم )
گواہ نمبر ایک : کٹہرے میں پیش ہوتا ہے
عدالت : اپنا نام اور شکایت پیش کی جائے !
گواہ : سائیں میرا نام محمد عظیم ہے ، میں سعدی ٹاؤن کا رہنے والا ہوں میرے گھر کا بل پانچ لا کھ آیا ہے - جو کہ سراسر ظلم ہے - چار بلب جلاتا ہوں اور فریج وغیرہ بھی نہیں ہے ، میرے گھر میں صرف دو پنکھے چلتے ہیں وہ بھی اس وقت جب لائٹ ہوتی ہے - پانچ لاکھ میں غریب کیسے ادا کرسکتا ہوں - دھکے کھا کھا کر ان کے پاس جاتا ہوں - مگر میری کوئی نہیں سنتا - آپ میری مدد کرو - یہ بولتے ہجنن پہلے قسط بھرو بعد ںمیں دیکھیں گے - میں پانچ لاکھ کی کیا قسط کرواؤں - ؟ مجھ کو انصاف چاہیے ! میں خود کشیو کر لوں گا میرے پاس تین ٹائم پیٹ بھرنے کو پیسے نہیں میں کہاں سے اتنی رقم کا بندوبست کروں ؟ گواہ کی آنکھوں سے آنسو جاری - آواز رندھ گئی - پھر گواہ خاموش ہوگیا
عدالت ( محمد حسین محنتی ) : وکیل استغا ثہ کو ایڈوائز کی جاتی ہے کہ بل کی کاپی عدالت کو فراہم کی جائے ( کاپی فراہم کردی گئی )
(اس سے پہلے کہ دوسرا گواہ پیش ہوتا مجمع میں شور مچ گیا - عدالت کی کاروائی کچھ دیر کے لئے رک گئی )
آرڈر آرڈر آرڈر - یہ شور کیسا ہے ؟
پیشکار : ایک آدمی آیا ہے جو اپنے آپ کو کے -الیکٹرک کا وکیل کہہ رہا ہے - آنے کی اجازت چاہتا ہے
عدالت : فوری طور پر پیش کیا جائے
( عدالت کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے - کالے کوٹ میں ملبوس ایک فرد عدالت میں حاضر ہوا )
اس کے آتے ہی عدالت میں پرجوش شرکا کے نعرے ایک مرتبہ پھر گوجنے لگتے ہیں - لوگ مشتعل ہیں- چند لڑکوں نے آگے بڑھتے ہوئے وکیل صفائی کا کوٹ کھینچ لیا - وکیل صفائی کے چہرے سے پریشانی نمایاں ہے )
عدالت ( اسد اللہ بھٹو ) : وکیل صفائی کی حاضری کو یقینی بنایا جائے
تعمیل ہوئی - پیشکار نے وکیل صفائی کو کٹہرے میں پیش کیا
عدالت : آپ کون ہیں ؟
وکیل صفائی ( خالد خان مزدور رہنماء -ڈپٹی سکریٹری جنرل این ایل ایف پاکستان ) : میں کے - ای کا وکیل ہوں - اپنے موکل کی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں
عدالت : اجازت ہے
وکیل صفائی : یور آنر مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے - مجھے تحفظ فراہم کیا جائے
عدالت : یہ عوامی عدالت حکم دیتی ہے کہ وکیل صفائی کو مکمل عوامی تحفظ فراہم کیا جائے
حکم کی تعمیل میں وکیل صفائی کو دو باڈی گارڈ فراہم کردئے گئے
وکیل صفائی بدی گارڈز کے ساتھ حاضر ہوا
عدالت : گھبراؤ نہیں تم کو تحفظ فراہم کردیا گیا ہے - اپنے موکل کی صفائی میں کچھ کہنے سے پہلے وکالت نامہ پیش کرو
وکالت نامہ پیش کیا گیا - عدالت نے بغور دیکھا -استفسار کیا
' تمہاری پریکٹس کیا ہے ؟ نام مکمل نہیں اور اس پر گھر کا پتہ بھی نامکمل ہے !"
وکیل صفائی : میرا نام خالد ہے - میں اس ادارے کا وکیل ہوں
نعرے - جھوٹا ہے ، جھوٹا ہے - یہ وکیل جھوٹا ہے --
عدالت شرکا کو خاموش رہنے کا حکم دیتی ہے
کاروائی شروع کی جائے ( حکم )
وکیل وکیل استغا ثہ: یور آنرز میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ فاضل وکیل صفائی کے کاغذات دوبارہ چیک کے جا ئیں - اسلئے کہ میری معلومات کے مطابق یہ واٹر بورڈ کا وکیل ہے - اور وہاں کا مقدمہ ہار کر کے - الیکٹرک کا وکیل بننے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس ادارے سے بھی بھاری رقم وصول کی جائے
عدالت : کاغذات چیک کرلئے جائیں گے - وکیل صفائی اپنا بیان جاری رکھیں -
وکیل صفائی : میں جس ادارے کا وکیل ہوں اس کی طرح مجھ سے بھی یہ حلف نہ اٹھوایا جائے کہ میں ہر چیز درست اور سچ پر مبنی بولوں گا - میں اپنے موکل کی طرح بے باک اور نڈر وکیل ہوں
عدالت : آپ کی دلیری کا تو سب کو اندازہ ہے - دیڑھ دلیری اور سینہ زوری کی داستانیں زبان زد عام ہیں
نعرے جس سے وکیل صفائی سہم گیا
وکیل استغا ثہ: میں عدالت سے درخوا ست کروں گا کہ میرے دوسرے گواہ کو بھی سنا جائے
جیوری : اجازت ہے
دورہ گواہ : میرا نام محمد رحیم ہے - میں اتحاد ٹاؤن کا رہنے والا ہوں پچ سال سے گھر پر تال ہے - مگر ڈھائی سے لیکر تین ہزار کا بل ہر مہینہ آتا ہے ، بولتے ہیں کہ پیسے تو بھرنے ہی ہوں گے - بل بھی آپ کے سامنے ہے جو گھر مسلمل بند ہے اس پر تین سو یونٹ کیسے دکھاتے ہیں میرے کو سمجھ نہیں آتی - جج صاب میرے ساتھ انصاف کرو -
عدالت : ( اسد الله بھٹو ) فکر نہ کرو بابا - یہ عوام کی عدالت ہے یہاں ہر ایک کے ساتھ انصاف ہوگا
استفسار عدالت وکیل صفائی کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں وضاحت پیش کرے
وکیل صفائی : یور آنر سر ! کیا مجھے بل کی کاپی فراہم کی جاسکتی ہے ؟
عدالت : ( حکم ) وکیل صفائی کو بجلی کے بل کی کاپی فراہم کی جائے
کاپی پیش کردی گئی - جس وکیل صفائی نے کو غور سے دیکھا اور عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا
میری عدالت سے استدعا ہے کہ مجھے بل کی یہ کاپی جعلی معلوم ہوتی ہے - اس کی تصدیق کروائی جاۓ
( اس سے پہلے کہ عدالت کچھ کہتی، وکیل استغا ثہ نے پوا ئنٹ آف آبجیکشن لیتے ہوئے کہا )
وکیل استغا ثہ: آبجیکشن یور آنر - نوٹ کیا جائے فاضل وکیل صفائی نے اس بل کو الٹا پڑھ رہے ہیں ! اب بھی ان کے ہاتھ میں جو بل موجود ہے وہ الٹا ہے - دوسر ی بات یہ کہ ان کی قریب کی نگاہ بھی تشویشناک حد تک خراب ہے - ان کا قریب کا نمبر 6 ہے - اور چشمہ یہ گھر پر بھول آئے ہیں - انھوںن نے نہ صرف میرے گواہ کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی بلکہ عدلیہ کی بھی توہین کی ہے
عدالت : نقل واپس کی جائے تاکہ وکیل صفائی کے اٹھا ئے گئے اعتراض کا جائزہ لیاجاسکے-
عدالت نے وکیل استغا ثہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس اگر مزید دلائل اور الزامات ہیں تو یہ عدالت ان کو سننا چاہتی ہے
(نعرے- قدم بڑھاؤ حافظ نعیم - ہم تمہارے ساتھ ہیں - تانبہ چور ---- کے -الیکٹرک !)
وکیل استغا ثہ: معزز عدلیہ میرے الزامات کی فہرست بہت طویل ہے تحم بہت ہی اختصا ر کے ساتھ چڑھ چڑھ نکات آپ کی عدالت میں پیش کرنا چاہوں گا
١- میں وکیل صفائی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس ادارے کی ولدیت بتائی جائے ! کہ اس کا مالک کون ہے ؟
٢- اس کے مالکان نے اس کمپنی کے -الیکٹرک کو کس ملک میں رجسٹر کیا ہے ؟ میری معلومات کے مطابق اس کے مالکان نے راتوں رات ایک کنسورشیم بنا کر اس کمپنی کو جزائر غرب الہند میں رجسٹرڈ کروایا تاکہ ٹیکس کی بچت کی جائے
٣- کے -الیکٹرک نے تانبہ پیچ کر کتنی رقم وصول کی ؟
٤-اور بلنگ کے نام پر ٦٠ ارب روپے حاصل کئے - جس کی تفصیل سے آگاہ کرچکا ہوں -
٥- کل ملا کر دو سو ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا
٦- پروڈکشن کپسٹیی ہونے کے باوجود کم بجلی بنا کر وفاق سے 75 ارب روپے کی سبسڈی وصول کی جاتی ہے جو ہماری جیبوں سے نکلی جاتی ہے
٧- وکیل صفائی سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس کی کمپنی نے سیاسی رشوت کے طور پر کراچی کی سیاسی جماعتوں کو کیاکیا مراعات دیں ؟
میری معلومات کے مطابق جو لوگ حکومت میں تھے ان کے رشتہ داروں کو ڈائریکٹرز اور اعلی ترین عہدوں پر لاکھوں روپے کے عوض نوکری پر لگایا گیا
٨- ریکوری انسپکٹرز کے نام پر بھتہ خور مافیا کو ٹھیکے پر رکھا -اسطرح سیاسی رشوت دی گئی
٩- ہیٹ اسٹروک میں پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں - اس کا براہ راست ذمہ دار ان کا محکمہ ہے - جس نے دانستہ بجلی بند کی اور پلانٹ نہیں چلا ئے
١٠- نیپرا نے ایک کروڑ کا جرمانہ عائد کیا، جو اب تک ادا نہیں کیاگیا
١١- کنڈ ہ لگانے کا ذمہ دار بھی ان کا اپنا ادارہ ہے - جو اس کے عوض بھا ری رقم وصول کرتا ہے -
١٢- ڈسٹری بیوشن لاسز بھی عوام کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں
١٣- اس کے مالکان کا نام ظاہر کیا جائے - اور معایدے کی نقول فراہم کی جائیں -میرے پاس اس ضمن میں تمام شواہد موجود ہیں جو عدلیہ کو دکھائے جا سکتے ہیں
١٤- حکومت نیپرا اور کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے کراچی کے عوام کو لوٹا جارہا ہے
١٥- ایک سے تین سو یونٹ والے غریب متوسط صارفین کے بلوں میں اضافہ شدہ ٹیرف لگایا گیا
١٦-
عدالت : کی آپ اپنے ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت دکھا سکتے ہیں ؟
وکیل استغا ثہ: جی میں شواہد کا پلندہ اپنے ساتھ لیا ہوں مگر چاہتا ہوں کہ وکیل صفائی میرے سوالات کا جواب دیں
عدالت : وکیل صفائی ان الزامت کے جواب میں کیا کچھ کہنا چاہیں گے ؟
وکیل صفائی : الزامات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے سراسر بددیانتی اور نقص معلومات پر مبنی ہیں
سب سے پہلے میری ولدیت کا سوال اٹھایا گیا ہے
اس کا جواب یہ ہے کہ میرے باپ دو ہیں ! ایک نے نکاح کیا دوسرے نے حلالہ کیا -
عدالت : (اسامہ رضی) جواب دینے میں سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا جائے - انتباہی نوٹ
وکیل صفائی : میں سنجیدہ ہوں جج صاحب - پہلی مرتبہ میرا باپ زرداری تھا اور حلالہ کے وقت الطاف حسین اسطرح
میرے دو باپ ہیں
جہاں تک لوٹ کھسوٹ کی بات ہے ، میرا کلائنٹ کاروباری ادارہ ہے اور کاروبار کریں کی غرض سے پاکستان آیا ہے - یہاں کا سسٹم ہی ایسا ہے کہ کسی کو کھلائے پلائے بناء منافع بخش کام کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا
یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس وقت کی حکومت ، نیپرا اوراقتدار میں شریک سیاسی جماعتوں کو اپنے پے رول پر رکھا
جس کی وجہ سے ہمیں چار سو ارب روپے حاصل ہوئے جو غیر ممالک بھجوائے گئے
(نعرے جن میں شدت آچکی تھی - رگڑے پہ رگڑا - کے کو رگڑا - دھر رگڑا -دھر رگڑا -کے ای کو دھر رگڑا ---)
عدالت : اڈیشنل جج ( عبدالرزاق ) وکیل صفائی نے جس بل پر غلط اور جعلی ہونے کا الزام لگایا ہے - عدالت نے اس کو چیک کیا ہے اس پر کے ای کی اصل مہر موجود ہے لہذٰا وکیل صفائی عدالت کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں
وکیل استغا ثہ: معزز جیوری ، میں اپیل کرتا ہوں کہ اس در یغ گوئی اور توہین عدالت کا جرم ثابت ہوجانے پر وکیل صفائی کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس کا نام اگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے
عدالت : آپ کی اپیل سن لی گئی ہے
وکیل صفائی سے آپ اپنے کلائنٹ کے دفاع میں مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟
پائنٹ آف آرڈر پر وکیل استغا ثہ نے کہا جیوری نے ان کو سن لیا ہے اب میری درخوا ست پر عمل کیا جائے
وکیل صفائی : یور آنرز میرے اوپر لگایے گئے کچھ الزامات کا تعلق اکاونٹ سے ہے جو خالصتا ٹیکنیکل معاملہ ہے - میں کچھ وقت لینا چاہتا ہوں - اور وکیل استغا ثہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات کا کیا جواز پیش کرتے ہیں کہمیرے کلائنٹ ( کے - الیکٹرک ) کے مرکزی آفس کے با ھر صبح سے کس قانون کے تحت ہراساں کرنے کے لئے بیٹھے ہیں ؟
انہوں نے ٣١ مارچ کو بھی شہر میں لاقانونیت پیدا کرنے کی کوشش کی اور آج بھی ان کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں
عدالت : محمد حسین محنتی ) وکیل استغا ثہ ان الزامات کے جواب میں آپ کچھ کہنا چاہیں گے ؟
وکیل استغا ثہ: فضل وکیل صفائی نے جو بے ڈھنگے اور بے سروپا الزامات لگائے ان کا جواب سامنے بیٹھے ہوئے ہزاروں متاثرین سے لیا جانا چاہیے
یہ ایک جمہوری ملک ہے - جس میں اجازت حاصل کرنے کے بعد دھرنا دیا گیا ہے - مظاہرین جذباتی ضرور ہیں مگر کسی نے ایک پتھر بھی نہیں پھینکا - ٣١ مارچ کو بھی انتظامیہ اور پولیس نے کے ای کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے مظاہرین پر گولی چلائی تین لڑکے اب بھی موت و زیست کی کشمکش میں ہسپتال میں پڑے ہیں - ہماری ایف آئ آر تک درج نہیں کی جارہی ہے
ہم نے ہر جمہوری اور قانونی ترقه اخیتار کیا- دیڑھ سال پہلے اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ میں اس سفید ہاتھی کے خلاف مقدمہ فائل کیا - کے الیکٹرک نے پیسے کھلا کر اور دباؤ استمعال کرتے ہوئے کیس کی سماعت رکوادی
بطور سیاسی جماعت ، ہم نیپرا کی عدالت میں گئے جہاں انھوں نے ہمیں سنا اور ہمارے حق میں فیصلہ دیا ، ڈبل میٹر رینٹ ختم کرنے اور چھوٹے صارفین کو یونٹ کی رقم میں کمی کا حکم دیا- مگر اس ادارے نے ان کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے سلب سسٹم ہی تبدیل کردیا اور چھوٹے صارفین پراضافی یونٹ چارجز لگا دئیے
یور آنر ہمیں بتایا جائے کہ اس ادارے اور حکومت و انتظامیہ کے ان غیر جمہوری غیر قانونی ہتھکنڈوں کے بعد ہم بے بس اور لاچار شہری کس کے پاس جائیں ؟ کہاں فریاد کریں ؟ کس سے پانا دکھڑا روئیں ؟
جمیت اسلامی نے ہمارے مسئلے کو اٹھایا ہے جدوجہد شروع کی ہے ہم اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں اور اپنا آئینی و جمہوری حق استمعال کرتے ہوئے پر امن دھرنا دے رہے ہیں
میرے پاس تو اتنا بڑا سبوت موجود ہے کہ کس طرح ان کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ اور بلنگ کرو ورنہ تم کو نوکری سے نکل دیا جائے گا -اگر عدالت طلب کرے گی تو میں وہ دکھانے کو تیار ہوں
عدالت ( اسد اللہ بھٹو ) ریمارکس : اور بلنگ ولا ثبوت عدالت کے سامنے لایا جائے
وکیل استغا ثہ: یور آنرز - یہ وہ اخبار ہے جس میں ڈپٹی جنرل منیجر شعیب صدیقی کی ای میل موجود ہے جس میں اہلکاروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ایورج بل جاری کرو اور کم از کم پچاس یونٹ کا ا ضافہ دکھاؤ -
کے الیکٹرک نے سگما نامی کمپنی اور ڈبل ایم نامی جعلی کمپنیوں کو تانبے کے تار اترنے اور لو کوالٹی تار لگانے کا ٹھیکہ دیا جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے اعلی عہدیدار کی ملکیت ہے
عدالت : ثبوت فراہم کیا جائے - اخبار پیش کی آجائے ؟ یہ بھی بتایا جائے کہ کونسا اخبار ہے ؟
وکیل استغا ثہ : جسارت کا خصوصی ضمیمہ بسلسلہ دھرنا اور کے -الیکٹرک کی جعل سازی - میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میں نے جو کہا سچ کہا اور جو گواہ پیش کے سچے اور کے الیکٹرک کے مظالم کا شکار ہیں -
اب بھی میرے پاس گواہان کی لمبی قطار ہے جو اپنی گواہی کے لئے بیچبن ہے - میری عدالت سے درخوست ہے کہ ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے اور کراچی کے شہریوں کو نقصان کا ازالہ لوٹے ہوئے دو سو ارب روپے کی واپسی کا حکم دیتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے -
اور وکیل صفائی کو جھوٹ - دریغ گوئی اورعدالت کی توہین کے الزام میں سزا سنائی جائے
عدالت : یہ عوام کی عدالت وکیل استغا ثہ کے تمام دلائل اور ثبوت سننے اور گواہان کی جانچ پڑتال اور ان کے بیانات کی روشنی میں ایک نتیجے پر پہنچ چکی ہے مگر چونکہ دھرنا جاری ہے اس لئے فیصلہ محفوظ کیا جاتا ہے - تاہم وکیل صفائی کو توہین عدالت اور اپنے کلائنٹ کے- الیکٹرک کے گھناونے جرائم پر پردہ ڈالنے اور اس کا جھوٹا دفاع کرنے اور عدالت کا قیمتی وقت برباد کرنے پر فوری گرفتاری کا حکم سناتی ہے اور اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فوری حکم دیتی ہے -
نعروں کی گونج میں عوامی عدالت برخواست ہوئی - مظاہرین نے فرط جذبات میں وکیل استغا ثہ کو کاندھوں پر اٹھا لیا - فلک شگاف نعروں میں عوا می عدالت اپنے اختتام کو پہنچی -
تا بنہ چور کے -الیکٹرک- اپنا حق لے کر رہیں گے - قدم بڑھاؤ حافظ نعیم - ہم تمہارے ساتھ ہیں
کراچی ایک بار پھر ایک طویل ترین جبر اور فسطا ئیت کا دور دیکھنے کے بعد بھرپور طریقے سے سیاسی انگڑائی لے رہا ہے - اس سیاسی جمود کی فضاء کو توڑنے میں کراچی کے اداروں کی سستی اور نااہلی کا دخل تو ہے ہی - مگر اس کا تمام تر کریڈٹ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کو جاتا ہے - جنہوں نے محض ایک سے دیڑھ سال کے مختصر عرصے میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت اور سربراہ پبلک ایڈ کمیٹی سیف الدین ایڈوکیٹ کی رہنمائی میں کراچی کے دو ڈھائی کروڑ عوام کےدیرینہ بنیادی مسلے کے -الیکٹرک کی مبینہ بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں اور لوٹ مار کے خلاف بروقت اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا -
گزشتہ دنوں 7- اپریل کو اس سلسلے میں جماعت اسلامی کراچی نے کے - الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر بھرپور عوامی قوت کا انوکھا دھرنا دیا - جس میں متاثرین کے - الیکٹرک اور جما عت اسلامی کے کارکنوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی -
یہ دھرنا اس اعتبار سے بھی کامیاب ترین رہا کہ اس اہم ترین اشو پر جس میں کراچی کے عوام جذباتی اور مشتعل تھے -اور مشتعل ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ایک ہفتہ پہلے نرسری پر ہونے والے دھرنے کے پروگرام پر کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے وحشیانہ فائرنگ اور شیلنگ تو تھی ہی مگر جس بھونڈے طریقے سے جماعت اسلا می کراچی کے ہیڈ کوارٹر ادارہ نور حق کا گھیراؤ اور تمام کی تمام مرکزی قیادت کو گرفتار کیا گیا - انتظامیہ کے اس مجرمانہ اور بزدلا نہ فعل نے عوام اور باا لخصوص کارکنان جما عت اسلامی کو مزید توانا کردیا تھا -
یہی وجہ تھی کہ 7- اپریل کے دھرنے پر نہ صرف متاثرین کے -الیکٹرک بلکہ میڈیا اور انتظامیہ بھی نظریں گاڑے بیٹھی تھی -
صبح گیارہ بجے سے رات ایک بجے تک کے - الیکٹرک کا ہیڈ آفس پاک انڈیا بارڈر کا نقشہ پیش کر رہا تھا - ممکنہ تصادم اور ممکنہ ہلڑ بازی سے گھبرا کر صبح سے ہی کے -الیکٹرک کی تمام اعلی سطحی انتظامیہ ہیڈ آفس چھوڑ کر قریبی نامعلوم عمارت میں منتقل ہوچکی تھی - پولیس کی بیسیوں گاڑیوں نے ہیڈ آفس کے گرد حفاظتی حصار بنایا ہوا تھا - مگر جماعت اسلامی کی ذہین اور باشعور قیادت نے اس عظیم دھرنے کو انتہائی پر امن رکھ کر تمام سیاسی قوتوں کو " امن اور سیاسی تہذیب و پختگی " کا سبق سکھا یا -
دن کے گیارہ بجے سے شروع ہونے والا دھرنا اپنے اندر کئی دلچسپیاں اور جماعت اسلامی کی روایتی انوکھے پن کا مکمل غماز دکھائی دیا - انتہا ئی پر امن ہونے کے باوجود اس دھرنے میں میڈیا کے لئے اور متاثرین بجلی کے لئے بہت کچھ تھا -
اس دھرنے میں اسپا ئیڈر مین ، اور بھینسوں نے میڈیا کی برپور توجہ حاصل کی - اسی طرح بجلی اور اس کی شکایات و ظلم کے عنوان سے "بجلی مشاعرہ " اپنی جگہ نہایت کامیاب پروگرام رہا - مگر عوامی عدالت اور کے -ای کے مقدمے نے جس طرح عوام کے اس مسلے کو اجاگر کیا وہ اپنی مثال آپ تھا -
قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں " کے- الیکٹرک - عوام کی عدالت میں " کا آنکھوں دیکھا حال - امید ہے قارئین کو یہ عدالتی کاروائی کی روداد پسند آئے گی -
دھرنے کے شرکاء عصر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے - اسٹیج سے اعلان ہوا کہ کے -الیکٹرک کے خلاف عوام کی عدالت شروع ہو رہی ہے - اس اعلان کے ساتھ ہی صبح سے بیٹھے ہوئے شرکاء نے اپنا رخ اسٹیج کی جانب کر لیا جہاں ایک نہایت دیدہ زیب عدالت کا سیٹ تیار تھا - جس کے عقب میں جہازی سائز بینر (جس پر کے الیکٹرک - عوام کی عدالت میں تحریر تھا ) آویزاں تھا -
عدالت لگ چکی تھی - معزز ججز کی جیوری جناب اسد اللہ بھٹو صاحب( نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ) ، جناب محمد حسین محنتی ( نائب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ) اور جناب ڈاکٹر اسامہ بن رضی صاحب ( نائب امیر جماعت اسلامی -کراچی ) پر مشتمل تھی - معزز جیوری عدالت میں اپنی نشست پر بیٹھ چکی تھی معزز عدالت نے عدالتی کاروائی کے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا -
بائیں جانب لگے ہوئے کٹہرے میں وکیل استغاثہ ( نجیب ایوبی - جنرل سکریٹری -پبلک ایڈ کراچی جما عت اسلامی ) موجود تھے جنہوں نے عدالت کو اپنا تعارف اور وکالت نامہ دکھاتے ہوئے سامنے کے- الیکٹرک کی بلڈنگ کی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے کہا
"معزز جیوری میں آپ کی عدالت میں اس سفید ہاتھی یعنی کے -الیکٹرک کے خلاف کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام ، صارفین و متا ثرین کا مقدمہ لیکر حاضر ہوا ہوں - میں کراچی کا بیٹا نجیب ایوبی ہوں - جو کہوں گا سچ کہوں گا - سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گا اس حلف کے بعد
وکالت نامہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے دھرنے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ مجھے اپنی نمائندگی اور وکالت کا حق دیتے ہیں ؟ "
شرکاء نے کے الیکٹرک کے ظلم کے خلاف یک آواز ہوکر فلک شگاف نعروں کی صورت میں وکیل استغا ثہ کو وکالت کا حق دے دیا -
جیوری : آپ کو عوام کی یہ عدالت بحثیت وکیل وکالت کا حق دیتی ہے - کاروائی آگے بڑھائی جائے اور مقدمہ پیش کیا جائے -
وکیل استغا ثہ: معزز جیوری ، آج میں ایک ایسے مجرم کے خلاف مقدمہ لیکر آپ کی عدالت میں حاضر ہوا ہوں جس نے نہ صرف کراچی کے شہریوں سے دو سو ارب روپے جعل سازی اور فراڈ کے ذریعے حاصل کئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کے قومی خزانے کو بھی مستقل نقصان پہنچا رہا ہے
جیوری: آپ ایک ایک کرکے اپنا نکتہ نظر اور جرائم کی فہرست عدالت کے گوش گزار کریں
وکیل استغا ثہ: اونربل بنچ کے سامنے میرا پہلا الزام یہ ہے کہ اس ادارے نے شہریوں سے دو سو ارب روپےہتھیائے لئے اور اس کا انکاری بھی ہے -
جیوری: اس دھوکہ دہی کی تفصیل پیش کی جائے
وکیل استغا ثہ: عوام کو بتایا جائے کہ کراچی کے ادارے کے ای ایس ای کو پرویز مشرف اور شوکت عزیز نے متحدہ کی حکومت میں محض ١٧ ارب روپے میں کیسے خریدا ١١٧ ارب روپے میں چین کی کمپنی کو کس طرح فروخت کیاجارہا ہے - سترہ ارب روپے تو صرف ادارے کے کھمبوں کی قیمت بنتی ہے - اتنی کم قیمت کیسے لگائی گئی ؟ کس کس نے کتنا حصہ وصول کیا اس کے ساتھ ساتھ میرے ملزم کے -الیکٹرک نے وہ کونسی ہیر پھیر اور فراڈ ہے جو نہیں کیا -؟
اس نے صارفین سے ڈبل بنک چارجز کے نام پر 24 ارب روپے کی رقم اب تک حاصل کی -
دوسری دھوکہ دہی یہ کی کہ جب اس کمپنی نے کراچی الیکٹرک کو خریدا تھا تو ملازمین کو نہ نکالنے کی گارنٹی دی تھی اس کے عوض صارفین سے
15 یو نٹ کے ریٹ طے کئے تھے ، مگر بعد میں چار مہینوں کے بعد ساڑھے سات ہزار ملازمین کو جبری طور پر بلا کسی معاوضے کے نکا ل باہر کیا - اور ملازمین کو نہ نکالنے کے لئے حکومت کو بلیک میل کرتے ہوئے پندرہ پیسے فی یونٹ لئے جو یہ اب بھی بل کے ساتھ لگا کر بھیج رہے ہیں - اس طرح اب تک 35 ارب کی رقم اس کمپنی نے اپنی جیبوں میں ڈالی
اس کے علاوہ ڈبل میٹر رینٹ اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 24 روپے بنائے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ رقم بھی صارفین سے وصول کی جارہی ہے
-ملٹی ٹیرف کے نام سے شہریوں سے 24 ارب روپے کا فراڈ کیا - یہی نہیں معزز عدالت ، اس ملزم نے ایک کلا بیک فارمولے کو متعا رف کرواتے ہوئے
کراچی کے معصوم شہریوں سے 17 ارب روپے کی رقم حاصل کی اور حکومت سے سا لانہ 75 ارب روپے کی سبسڈی وصول کرتے ہیں جو کہ ہماری جیبوں سے ادا کی جاتی ہے
معزز عدالت میں آپ سے درخوا ست کرتا ہوں کہ پہلے میرے ان الزمات کا جواب دیا جائے ین ان کو غلط ثابت کیا جائے - میں آپ سے انصاف کی توقع لیکر یہاں حاضر ہوا ہوں -
جیوری: کیا یہاں پر کے -الیکٹرک کی صفائی میں کوئی وکیل موجود ہے ؟
کچھ منٹ کی خاموشی مگر کوئی وکیل نہیں آیا - عدالت نے دوسری بار اعلان کیا کہ اس ملزم کا کوئی وکیل ہے جو وکیل استغا ثہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دے - پھر بھی خاموشی طاری رہی- اس بار بھی کوئی وکیل پیش نہیں ہوا -
حاضرین کی جانب سے پرزور نعرے - چور ہے ،چور ہے - کے-الیکٹرک چور ہے - تانبہ چور ، کے - الیکٹرک -
جیوری: عدالت اکا احترام ملحوظ رکجھا جائے
وکیل استغا ثہ: معزز جیوری ! میرے کلائنٹ اس ملزم کے ستائے ہوئے ہیں اپنا پیٹ کاٹ کر بجلی کا بل ادا کرتے ہیں - آج اس عوامی عدالت میں اپنا حق لینے آئے ہیں اور مقدمے کی کاروائی سن کر فرط جذبات سے مغلوب ہوکر اگر نعرے لگا رہے ہیں تو میں عدالت سے استدعا کرتا ہوں کہ ان سے ان کا جمہوری حق نہ چھینا جائے -
جیوری: آپ کی استدعا پر غور کیا جائے گا - ابھی نماز مغرب کا وقفہ ہے - تاہم عدالت ملزم کے -الیکٹرک کو پابند کرتی ہے کہ اگلی سماعت جو نماز مغرب کے بعد ہوگی اس وقت تک اپنی صفائی میں کوئی وکیل پیش کرے - اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا تو فیصلہ یکطرفہ سنا دیا جائے گا -
عدالت نماز مغرب تک برخواست کی جاتی ہے !
نعرے جن میں تیزی آگئی - چور ہے چور ہے- کے --------چور ہے ------ ساڈا حق اتھے رکھ - تانبہ چور بے غیرت !
دوبارہ سماعت نماز مغرب کے وقفے کے بعد - ایک مرتبہ پھر فلک شگاف نعرے ----
عدالت : آرڈر -آرڈر -آرڈر ! شرکاء خاموش
جیوری : وکیل استغا ثہ کیا آ پ اپنے لگایے ہوئے الزامات ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟ یا یونہی جذباتی تقریر کر رہے ہیں ؟
وکیل استغا ثہ: جناب یور آنر !
میں جذبات میں ہرگز نہیں ہوں ، میرے الزامات کی سچائی کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ اب تک میرا ملزم ( کے - الیکٹرک ) اپنے دفاع کے لئے کسی بھی وکیل کو پیش نہیں کر پایا ہے !
میرے پاس اپنے الزامات کے ثبوت کے طور پر اتنے گواہ موجود ہیں کہ پوری رات ، اگلا دن اور اس کے بعد دوسرا دن اور مزید کئی راتیں گزر جائیں گی مگر میرے گواہان اور اس محکمے کے متاثرین کو آپ نہیں سن پائیں گے -
جیوری( جج اسامہ بن رضی ) اگر گواہ ہے تو عدالت اس کا موقف جاننا چاہتی ہے - گواہ پیش کیا جائے ( حکم )
گواہ نمبر ایک : کٹہرے میں پیش ہوتا ہے
عدالت : اپنا نام اور شکایت پیش کی جائے !
گواہ : سائیں میرا نام محمد عظیم ہے ، میں سعدی ٹاؤن کا رہنے والا ہوں میرے گھر کا بل پانچ لا کھ آیا ہے - جو کہ سراسر ظلم ہے - چار بلب جلاتا ہوں اور فریج وغیرہ بھی نہیں ہے ، میرے گھر میں صرف دو پنکھے چلتے ہیں وہ بھی اس وقت جب لائٹ ہوتی ہے - پانچ لاکھ میں غریب کیسے ادا کرسکتا ہوں - دھکے کھا کھا کر ان کے پاس جاتا ہوں - مگر میری کوئی نہیں سنتا - آپ میری مدد کرو - یہ بولتے ہجنن پہلے قسط بھرو بعد ںمیں دیکھیں گے - میں پانچ لاکھ کی کیا قسط کرواؤں - ؟ مجھ کو انصاف چاہیے ! میں خود کشیو کر لوں گا میرے پاس تین ٹائم پیٹ بھرنے کو پیسے نہیں میں کہاں سے اتنی رقم کا بندوبست کروں ؟ گواہ کی آنکھوں سے آنسو جاری - آواز رندھ گئی - پھر گواہ خاموش ہوگیا
عدالت ( محمد حسین محنتی ) : وکیل استغا ثہ کو ایڈوائز کی جاتی ہے کہ بل کی کاپی عدالت کو فراہم کی جائے ( کاپی فراہم کردی گئی )
(اس سے پہلے کہ دوسرا گواہ پیش ہوتا مجمع میں شور مچ گیا - عدالت کی کاروائی کچھ دیر کے لئے رک گئی )
آرڈر آرڈر آرڈر - یہ شور کیسا ہے ؟
پیشکار : ایک آدمی آیا ہے جو اپنے آپ کو کے -الیکٹرک کا وکیل کہہ رہا ہے - آنے کی اجازت چاہتا ہے
عدالت : فوری طور پر پیش کیا جائے
( عدالت کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے - کالے کوٹ میں ملبوس ایک فرد عدالت میں حاضر ہوا )
اس کے آتے ہی عدالت میں پرجوش شرکا کے نعرے ایک مرتبہ پھر گوجنے لگتے ہیں - لوگ مشتعل ہیں- چند لڑکوں نے آگے بڑھتے ہوئے وکیل صفائی کا کوٹ کھینچ لیا - وکیل صفائی کے چہرے سے پریشانی نمایاں ہے )
عدالت ( اسد اللہ بھٹو ) : وکیل صفائی کی حاضری کو یقینی بنایا جائے
تعمیل ہوئی - پیشکار نے وکیل صفائی کو کٹہرے میں پیش کیا
عدالت : آپ کون ہیں ؟
وکیل صفائی ( خالد خان مزدور رہنماء -ڈپٹی سکریٹری جنرل این ایل ایف پاکستان ) : میں کے - ای کا وکیل ہوں - اپنے موکل کی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں
عدالت : اجازت ہے
وکیل صفائی : یور آنر مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے - مجھے تحفظ فراہم کیا جائے
عدالت : یہ عوامی عدالت حکم دیتی ہے کہ وکیل صفائی کو مکمل عوامی تحفظ فراہم کیا جائے
حکم کی تعمیل میں وکیل صفائی کو دو باڈی گارڈ فراہم کردئے گئے
وکیل صفائی بدی گارڈز کے ساتھ حاضر ہوا
عدالت : گھبراؤ نہیں تم کو تحفظ فراہم کردیا گیا ہے - اپنے موکل کی صفائی میں کچھ کہنے سے پہلے وکالت نامہ پیش کرو
وکالت نامہ پیش کیا گیا - عدالت نے بغور دیکھا -استفسار کیا
' تمہاری پریکٹس کیا ہے ؟ نام مکمل نہیں اور اس پر گھر کا پتہ بھی نامکمل ہے !"
وکیل صفائی : میرا نام خالد ہے - میں اس ادارے کا وکیل ہوں
نعرے - جھوٹا ہے ، جھوٹا ہے - یہ وکیل جھوٹا ہے --
عدالت شرکا کو خاموش رہنے کا حکم دیتی ہے
کاروائی شروع کی جائے ( حکم )
وکیل وکیل استغا ثہ: یور آنرز میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ فاضل وکیل صفائی کے کاغذات دوبارہ چیک کے جا ئیں - اسلئے کہ میری معلومات کے مطابق یہ واٹر بورڈ کا وکیل ہے - اور وہاں کا مقدمہ ہار کر کے - الیکٹرک کا وکیل بننے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس ادارے سے بھی بھاری رقم وصول کی جائے
عدالت : کاغذات چیک کرلئے جائیں گے - وکیل صفائی اپنا بیان جاری رکھیں -
وکیل صفائی : میں جس ادارے کا وکیل ہوں اس کی طرح مجھ سے بھی یہ حلف نہ اٹھوایا جائے کہ میں ہر چیز درست اور سچ پر مبنی بولوں گا - میں اپنے موکل کی طرح بے باک اور نڈر وکیل ہوں
عدالت : آپ کی دلیری کا تو سب کو اندازہ ہے - دیڑھ دلیری اور سینہ زوری کی داستانیں زبان زد عام ہیں
نعرے جس سے وکیل صفائی سہم گیا
وکیل استغا ثہ: میں عدالت سے درخوا ست کروں گا کہ میرے دوسرے گواہ کو بھی سنا جائے
جیوری : اجازت ہے
دورہ گواہ : میرا نام محمد رحیم ہے - میں اتحاد ٹاؤن کا رہنے والا ہوں پچ سال سے گھر پر تال ہے - مگر ڈھائی سے لیکر تین ہزار کا بل ہر مہینہ آتا ہے ، بولتے ہیں کہ پیسے تو بھرنے ہی ہوں گے - بل بھی آپ کے سامنے ہے جو گھر مسلمل بند ہے اس پر تین سو یونٹ کیسے دکھاتے ہیں میرے کو سمجھ نہیں آتی - جج صاب میرے ساتھ انصاف کرو -
عدالت : ( اسد الله بھٹو ) فکر نہ کرو بابا - یہ عوام کی عدالت ہے یہاں ہر ایک کے ساتھ انصاف ہوگا
استفسار عدالت وکیل صفائی کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں وضاحت پیش کرے
وکیل صفائی : یور آنر سر ! کیا مجھے بل کی کاپی فراہم کی جاسکتی ہے ؟
عدالت : ( حکم ) وکیل صفائی کو بجلی کے بل کی کاپی فراہم کی جائے
کاپی پیش کردی گئی - جس وکیل صفائی نے کو غور سے دیکھا اور عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا
میری عدالت سے استدعا ہے کہ مجھے بل کی یہ کاپی جعلی معلوم ہوتی ہے - اس کی تصدیق کروائی جاۓ
( اس سے پہلے کہ عدالت کچھ کہتی، وکیل استغا ثہ نے پوا ئنٹ آف آبجیکشن لیتے ہوئے کہا )
وکیل استغا ثہ: آبجیکشن یور آنر - نوٹ کیا جائے فاضل وکیل صفائی نے اس بل کو الٹا پڑھ رہے ہیں ! اب بھی ان کے ہاتھ میں جو بل موجود ہے وہ الٹا ہے - دوسر ی بات یہ کہ ان کی قریب کی نگاہ بھی تشویشناک حد تک خراب ہے - ان کا قریب کا نمبر 6 ہے - اور چشمہ یہ گھر پر بھول آئے ہیں - انھوںن نے نہ صرف میرے گواہ کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی بلکہ عدلیہ کی بھی توہین کی ہے
عدالت : نقل واپس کی جائے تاکہ وکیل صفائی کے اٹھا ئے گئے اعتراض کا جائزہ لیاجاسکے-
عدالت نے وکیل استغا ثہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس اگر مزید دلائل اور الزامات ہیں تو یہ عدالت ان کو سننا چاہتی ہے
(نعرے- قدم بڑھاؤ حافظ نعیم - ہم تمہارے ساتھ ہیں - تانبہ چور ---- کے -الیکٹرک !)
وکیل استغا ثہ: معزز عدلیہ میرے الزامات کی فہرست بہت طویل ہے تحم بہت ہی اختصا ر کے ساتھ چڑھ چڑھ نکات آپ کی عدالت میں پیش کرنا چاہوں گا
١- میں وکیل صفائی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس ادارے کی ولدیت بتائی جائے ! کہ اس کا مالک کون ہے ؟
٢- اس کے مالکان نے اس کمپنی کے -الیکٹرک کو کس ملک میں رجسٹر کیا ہے ؟ میری معلومات کے مطابق اس کے مالکان نے راتوں رات ایک کنسورشیم بنا کر اس کمپنی کو جزائر غرب الہند میں رجسٹرڈ کروایا تاکہ ٹیکس کی بچت کی جائے
٣- کے -الیکٹرک نے تانبہ پیچ کر کتنی رقم وصول کی ؟
٤-اور بلنگ کے نام پر ٦٠ ارب روپے حاصل کئے - جس کی تفصیل سے آگاہ کرچکا ہوں -
٥- کل ملا کر دو سو ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا
٦- پروڈکشن کپسٹیی ہونے کے باوجود کم بجلی بنا کر وفاق سے 75 ارب روپے کی سبسڈی وصول کی جاتی ہے جو ہماری جیبوں سے نکلی جاتی ہے
٧- وکیل صفائی سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس کی کمپنی نے سیاسی رشوت کے طور پر کراچی کی سیاسی جماعتوں کو کیاکیا مراعات دیں ؟
میری معلومات کے مطابق جو لوگ حکومت میں تھے ان کے رشتہ داروں کو ڈائریکٹرز اور اعلی ترین عہدوں پر لاکھوں روپے کے عوض نوکری پر لگایا گیا
٨- ریکوری انسپکٹرز کے نام پر بھتہ خور مافیا کو ٹھیکے پر رکھا -اسطرح سیاسی رشوت دی گئی
٩- ہیٹ اسٹروک میں پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں - اس کا براہ راست ذمہ دار ان کا محکمہ ہے - جس نے دانستہ بجلی بند کی اور پلانٹ نہیں چلا ئے
١٠- نیپرا نے ایک کروڑ کا جرمانہ عائد کیا، جو اب تک ادا نہیں کیاگیا
١١- کنڈ ہ لگانے کا ذمہ دار بھی ان کا اپنا ادارہ ہے - جو اس کے عوض بھا ری رقم وصول کرتا ہے -
١٢- ڈسٹری بیوشن لاسز بھی عوام کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں
١٣- اس کے مالکان کا نام ظاہر کیا جائے - اور معایدے کی نقول فراہم کی جائیں -میرے پاس اس ضمن میں تمام شواہد موجود ہیں جو عدلیہ کو دکھائے جا سکتے ہیں
١٤- حکومت نیپرا اور کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے کراچی کے عوام کو لوٹا جارہا ہے
١٥- ایک سے تین سو یونٹ والے غریب متوسط صارفین کے بلوں میں اضافہ شدہ ٹیرف لگایا گیا
١٦-
عدالت : کی آپ اپنے ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت دکھا سکتے ہیں ؟
وکیل استغا ثہ: جی میں شواہد کا پلندہ اپنے ساتھ لیا ہوں مگر چاہتا ہوں کہ وکیل صفائی میرے سوالات کا جواب دیں
عدالت : وکیل صفائی ان الزامت کے جواب میں کیا کچھ کہنا چاہیں گے ؟
وکیل صفائی : الزامات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے سراسر بددیانتی اور نقص معلومات پر مبنی ہیں
سب سے پہلے میری ولدیت کا سوال اٹھایا گیا ہے
اس کا جواب یہ ہے کہ میرے باپ دو ہیں ! ایک نے نکاح کیا دوسرے نے حلالہ کیا -
عدالت : (اسامہ رضی) جواب دینے میں سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا جائے - انتباہی نوٹ
وکیل صفائی : میں سنجیدہ ہوں جج صاحب - پہلی مرتبہ میرا باپ زرداری تھا اور حلالہ کے وقت الطاف حسین اسطرح
میرے دو باپ ہیں
جہاں تک لوٹ کھسوٹ کی بات ہے ، میرا کلائنٹ کاروباری ادارہ ہے اور کاروبار کریں کی غرض سے پاکستان آیا ہے - یہاں کا سسٹم ہی ایسا ہے کہ کسی کو کھلائے پلائے بناء منافع بخش کام کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا
یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس وقت کی حکومت ، نیپرا اوراقتدار میں شریک سیاسی جماعتوں کو اپنے پے رول پر رکھا
جس کی وجہ سے ہمیں چار سو ارب روپے حاصل ہوئے جو غیر ممالک بھجوائے گئے
(نعرے جن میں شدت آچکی تھی - رگڑے پہ رگڑا - کے کو رگڑا - دھر رگڑا -دھر رگڑا -کے ای کو دھر رگڑا ---)
عدالت : اڈیشنل جج ( عبدالرزاق ) وکیل صفائی نے جس بل پر غلط اور جعلی ہونے کا الزام لگایا ہے - عدالت نے اس کو چیک کیا ہے اس پر کے ای کی اصل مہر موجود ہے لہذٰا وکیل صفائی عدالت کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں
وکیل استغا ثہ: معزز جیوری ، میں اپیل کرتا ہوں کہ اس در یغ گوئی اور توہین عدالت کا جرم ثابت ہوجانے پر وکیل صفائی کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس کا نام اگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے
عدالت : آپ کی اپیل سن لی گئی ہے
وکیل صفائی سے آپ اپنے کلائنٹ کے دفاع میں مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟
پائنٹ آف آرڈر پر وکیل استغا ثہ نے کہا جیوری نے ان کو سن لیا ہے اب میری درخوا ست پر عمل کیا جائے
وکیل صفائی : یور آنرز میرے اوپر لگایے گئے کچھ الزامات کا تعلق اکاونٹ سے ہے جو خالصتا ٹیکنیکل معاملہ ہے - میں کچھ وقت لینا چاہتا ہوں - اور وکیل استغا ثہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس بات کا کیا جواز پیش کرتے ہیں کہمیرے کلائنٹ ( کے - الیکٹرک ) کے مرکزی آفس کے با ھر صبح سے کس قانون کے تحت ہراساں کرنے کے لئے بیٹھے ہیں ؟
انہوں نے ٣١ مارچ کو بھی شہر میں لاقانونیت پیدا کرنے کی کوشش کی اور آج بھی ان کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں
عدالت : محمد حسین محنتی ) وکیل استغا ثہ ان الزامات کے جواب میں آپ کچھ کہنا چاہیں گے ؟
وکیل استغا ثہ: فضل وکیل صفائی نے جو بے ڈھنگے اور بے سروپا الزامات لگائے ان کا جواب سامنے بیٹھے ہوئے ہزاروں متاثرین سے لیا جانا چاہیے
یہ ایک جمہوری ملک ہے - جس میں اجازت حاصل کرنے کے بعد دھرنا دیا گیا ہے - مظاہرین جذباتی ضرور ہیں مگر کسی نے ایک پتھر بھی نہیں پھینکا - ٣١ مارچ کو بھی انتظامیہ اور پولیس نے کے ای کو پروٹیکٹ کرنے کے لئے مظاہرین پر گولی چلائی تین لڑکے اب بھی موت و زیست کی کشمکش میں ہسپتال میں پڑے ہیں - ہماری ایف آئ آر تک درج نہیں کی جارہی ہے
ہم نے ہر جمہوری اور قانونی ترقه اخیتار کیا- دیڑھ سال پہلے اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ میں اس سفید ہاتھی کے خلاف مقدمہ فائل کیا - کے الیکٹرک نے پیسے کھلا کر اور دباؤ استمعال کرتے ہوئے کیس کی سماعت رکوادی
بطور سیاسی جماعت ، ہم نیپرا کی عدالت میں گئے جہاں انھوں نے ہمیں سنا اور ہمارے حق میں فیصلہ دیا ، ڈبل میٹر رینٹ ختم کرنے اور چھوٹے صارفین کو یونٹ کی رقم میں کمی کا حکم دیا- مگر اس ادارے نے ان کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے سلب سسٹم ہی تبدیل کردیا اور چھوٹے صارفین پراضافی یونٹ چارجز لگا دئیے
یور آنر ہمیں بتایا جائے کہ اس ادارے اور حکومت و انتظامیہ کے ان غیر جمہوری غیر قانونی ہتھکنڈوں کے بعد ہم بے بس اور لاچار شہری کس کے پاس جائیں ؟ کہاں فریاد کریں ؟ کس سے پانا دکھڑا روئیں ؟
جمیت اسلامی نے ہمارے مسئلے کو اٹھایا ہے جدوجہد شروع کی ہے ہم اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں اور اپنا آئینی و جمہوری حق استمعال کرتے ہوئے پر امن دھرنا دے رہے ہیں
میرے پاس تو اتنا بڑا سبوت موجود ہے کہ کس طرح ان کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ اور بلنگ کرو ورنہ تم کو نوکری سے نکل دیا جائے گا -اگر عدالت طلب کرے گی تو میں وہ دکھانے کو تیار ہوں
عدالت ( اسد اللہ بھٹو ) ریمارکس : اور بلنگ ولا ثبوت عدالت کے سامنے لایا جائے
وکیل استغا ثہ: یور آنرز - یہ وہ اخبار ہے جس میں ڈپٹی جنرل منیجر شعیب صدیقی کی ای میل موجود ہے جس میں اہلکاروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ایورج بل جاری کرو اور کم از کم پچاس یونٹ کا ا ضافہ دکھاؤ -
کے الیکٹرک نے سگما نامی کمپنی اور ڈبل ایم نامی جعلی کمپنیوں کو تانبے کے تار اترنے اور لو کوالٹی تار لگانے کا ٹھیکہ دیا جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے اعلی عہدیدار کی ملکیت ہے
عدالت : ثبوت فراہم کیا جائے - اخبار پیش کی آجائے ؟ یہ بھی بتایا جائے کہ کونسا اخبار ہے ؟
وکیل استغا ثہ : جسارت کا خصوصی ضمیمہ بسلسلہ دھرنا اور کے -الیکٹرک کی جعل سازی - میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میں نے جو کہا سچ کہا اور جو گواہ پیش کے سچے اور کے الیکٹرک کے مظالم کا شکار ہیں -
اب بھی میرے پاس گواہان کی لمبی قطار ہے جو اپنی گواہی کے لئے بیچبن ہے - میری عدالت سے درخوست ہے کہ ملزم کو سخت ترین سزا دی جائے اور کراچی کے شہریوں کو نقصان کا ازالہ لوٹے ہوئے دو سو ارب روپے کی واپسی کا حکم دیتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے -
اور وکیل صفائی کو جھوٹ - دریغ گوئی اورعدالت کی توہین کے الزام میں سزا سنائی جائے
عدالت : یہ عوام کی عدالت وکیل استغا ثہ کے تمام دلائل اور ثبوت سننے اور گواہان کی جانچ پڑتال اور ان کے بیانات کی روشنی میں ایک نتیجے پر پہنچ چکی ہے مگر چونکہ دھرنا جاری ہے اس لئے فیصلہ محفوظ کیا جاتا ہے - تاہم وکیل صفائی کو توہین عدالت اور اپنے کلائنٹ کے- الیکٹرک کے گھناونے جرائم پر پردہ ڈالنے اور اس کا جھوٹا دفاع کرنے اور عدالت کا قیمتی وقت برباد کرنے پر فوری گرفتاری کا حکم سناتی ہے اور اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فوری حکم دیتی ہے -
نعروں کی گونج میں عوامی عدالت برخواست ہوئی - مظاہرین نے فرط جذبات میں وکیل استغا ثہ کو کاندھوں پر اٹھا لیا - فلک شگاف نعروں میں عوا می عدالت اپنے اختتام کو پہنچی -
تا بنہ چور کے -الیکٹرک- اپنا حق لے کر رہیں گے - قدم بڑھاؤ حافظ نعیم - ہم تمہارے ساتھ ہیں


Comments
Post a Comment