حسین حقانی کی وضاحت

امریکا میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلی بار بھی کمیشن کو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دیا تھا اور اگر اس بار بھی کوئی کمیشن بنا تو اسے ایسے ہی اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز آئی‘ میں بات کرتے ہوئے حسین حقانی نے پیپلز پارٹی کی جانب سے ان سے اظہار لاتعلقی سے متعلق کہا کہ ’میں پاکستان کی عملی سیاست میں شامل نہیں اور نہ ہی میں نے وہاں اسمبلی کا الیکشن لڑنا ہے، اس لیے اگر میرے دوستوں کو ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے فاصلہ رکھنے سے ان کی مقامی سیاست بہتر ہوجائے گی تو مجھے اس پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘ غدار قرار دیئے جانے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں کسی کو بھی غدار کہنے کا کلچر بن چکا ہے، ملک میں تین فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں، لوگوں کو کافر اور غدار کہنے کی فیکٹریاں ایک بلڈنگ میں ہے اور اس کے برابر میں ایک ڈرائی کلیننگ فیکٹری بھی ہے، لوگ پہلے غدار بنا دیئے جاتے ہیں پھر نہیں رہتے، اس لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔‘ امریکا سےمیرے 'روابط' اسامہ کی ہلاکت کی وجہ بنے، حسین حقانی کادعویٰ حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس کی تردید کی ضرورت ہو، لوگ خواہ مخواہ تردید کرکے پریشانیوں میں پھنستے ہیں۔‘ امریکیوں کو ویزے جاری کرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کوئی ویزا جاری نہیں کیا، مسئلہ یہ ہے کہ جب پاکستان میں امریکیوں کی بڑے امدادی پیکج دیئے جانے کے باعث تعداد بڑھانے کی بات کی گئی تو ہمارے کچھ لوگوں نے کہا کہ انہیں نہ آنے دو، کچھ کا کہنا تھا کہ اب جب امداد لے رہے ہیں تو امریکی آئیں گے، جاسوس کوئی گھنٹی بجا کر نہیں آتا، جب زیادہ تعداد میں امریکی پاکستان آگئے تو ان میں کچھ جاسوس بھی شامل تھے۔‘ پاکستان کے سابق سفیر نے کہا کہ ’ویزوں کا عمل وہی رہا، فرق صرف اتنا تھا کہ امریکیوں کو پاکستانی ویزے کا جو اجرا ایک دم رک گیا تھا انہیں کلیئر کرنے کا کہا گیا، میں نے اس کا ایک نظام بنایا اور اس میں ملٹری اتاشی کو بھی شامل کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اصل شرمندگی اس بات کی ہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا چڑھانے میں ہماری جو انٹیلی جنس سربراہ مصروف تھے وہنظر نہیں رکھ سکے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کہاں ہے اور یہ نظر بھی نہیں رکھ سکے کہ امریکیوں نے انہیں ڈھونڈ لیا ہے، اس کو کور کرنے کے لیے یہ قوالی ہر چار چھ ماہ بعد شروع ہوجاتی ہے۔‘

Comments