کراچی کی صفائی مہم

کراچی کی صفائی مہم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی - نام نہاد سو روزہ مہم کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمان امیر جماعت اسلامی کراچی نے مئیر کراچی وسیم اختر کو آڑے ہاتھوں لے لیا
مئیر وسیم اختر صاحب نے یکم دسمبر2016کو کراچی کے اندر صفائی ستھرائی کر نے ،کچرے کے ڈھیر اُٹھانے اور صفائی کے انتظامات کوبہتر بنانے کے لیے شہر کے اندر 100روزہ صفائی مہم کا باقاعدہ اعلان کیا تھا ۔میڈیا اور دیگر ذرائع سے اس کی بڑی تشہیر بھی کی گئی تھی ،جگہ جگہ بینرز لگائے گئے تھے اور ابتداءمیں اور پھر گاہے بگاہے صفائی ستھرائی کی سر گرمیوں کی خبریں اور تصاویر بھی شائع کرائی جاتی رہیں ۔الیکڑانک میڈیا پر مئیر اور ڈپٹی مئیر اور دیگر بلدیاتی عہدیداروں کے دوروں کی کوریج بھی کرائی گئی اور کثیر سر مایہ اس مہم کی پبلسٹی پر لگایا گیا مگر کراچی کے شہریوں کی بڑی بد نصیبی ہے آج بھی شہر کی صورتحال جوں کی توں ہے اور کوئی واضح فرق اور تبدیلی کہیں بھی نظر نہیں آئی ۔شہر کی موجودہ حالتِ زار سے سب واقف ہیں ۔صفائی مہم کے 100دن پورے ہونے کے باوجود جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔گٹر اُبل رہے ہیں اور جگہ جگہ گندے پانی کے جوہڑ بنے ہوئے ہیں ۔تعفن و بدبو مسلسل پھیل رہی ہے اور وبائی امراض کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ کراچی کی موجودہ بلدیاتی قیادت نے اپنی توانائیاں سب سے زیادہ اس مہم پر لگائی ہیں کہ ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں اور برسوں کی بگڑی صورتحال کو اتنی جلدی کیسے درست کیا جاسکتا ہے اور یہ کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جانے کی وجہ سے بلدیاتی ادارے غیر فعال ہوگئے ہیں ۔بلدیاتی قیادت کا یہ رویہ نہ صرف انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے بلکہ کراچی کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے ۔شہری طویل عرصے سے اس بات کے انتظار میں تھے کہ منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو شاید ان کے دکھوں کا مداوا ہو سکے اور کراچی جس طرح گندگی اور غلاظت کے ڈھیرکا نقشہ پیش کر رہا ہے اس سے نجات مل سکے ۔عوام کی امیدوں کووسیم اختر اور ایم کیو ایم کے رہنماﺅں نے اور بڑھا دیا تھا جب وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ان کے منتخب نمائندوں کو ذمہ داریاں سنبھالنے دیں پھر جو بھی دستیاب وسائل اور اختیارات حاصل ہیں اس سے کراچی کو چار چاند لگادیں گے ۔ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ سے قبل بھی بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور وسائل کی فراہمی کی صورتحال یہی تھی سندھ کی مخلوط حکومت میں ایم کیو ایم ،پیپلز پارٹی کے شانہ بشانہ رہی ہے اور باوجود اس کے کہ نعمت اللہ خان کے دور میں صوبائی حکومت کی طرف سے مسلسل رکاوٹیں ڈالی گئیں ،ان کو کام کر نے سے روکا گیا ۔ایم کیوایم کی قیادت سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے خلاف پیش پیش رہی لیکن اس کے باوجود خان صاحب نے اور ان کی پوری ٹیم نے شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے مثالی کردار ادا کیا اور ان کے دور میں جو تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے اور جس طرح عوامی خدمت کے کام کیے گئے آج بھی لوگ اس کی مثالیں دیتے ہیں ۔ ان کے شدید مخالفین بھی کراچی کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو سراہتے ہیں اور ان کی خدمت و دیانت اور اہلیت کا اعتراف کرتے ہیں نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے بلدیہ کراچی کے بجٹ کو 4ارب روپے سے بڑھا کر 40ارب روپے سے زیادہ تک پہنچادیا تھا اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے بھی ان کے ساتھ تعاون کیا کیونکہ ان کو یقین اور اعتماد تھا کہ سارا سر مایہ ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ خرچ کیا جائے گا ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بلدیاتی قیادت ایک طرف تو اختیارات کا رونا رو رہی ہے اور دوسری طرف ساری تنخواہیں ،گاڑیوں کی سہولیات اور دیگر مراعات حاصل بھی کی جارہی ہیں لیکن کراچی کے عوام کے بلدیاتی مسائل حل نہیں ہو رہے ۔شہر کی حالتِ زار بلدیاتی قیادت کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔بلدیہ عظمیٰ کراچی اور مختلف ڈی ایم سیز کے پاس وسائل اور عملہ موجود ہے ۔ایم کیو ایم نے اپنے مختلف ادوار ِ حکومت میں واٹر بورڈ اور بلدیاتی اداروں میں بڑے پیمانے پر اپنے کارکنوں کو بھرتی کیا ۔ان کو جلسوں اور پارٹی کے پروگراموں میں تو بلایا جاتا ہے مگر صفائی ستھرائی جو ان کا اصل کام ہے وہ ان سے نہیں کرایا جاتا ۔مسلسل فنڈز اور اختیارات کی کمی کا رونا رویا جارہا ہے جبکہ KMCاور DMCکے فنڈز اور وسائل KMCاور DMCکو ہی تفویض کیے گئے ہیں ۔کاموں کے تناسب سے اسی طرح موجود ہیں جس طرح اس سے قبل ہوتے تھے ۔سڑکوں اور نالوں کی صفائی اور ستھرائی ،ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی مرمت ،پارکس ،اسکول اور صحت سے متعلق جو ادارے KMCکے پاس ہیں ان کے لیے وسائل اور اختیارات بھی اس ہی قدر بجٹ میں موجود ہیں ۔KMCکا موجودہ بجٹ 22ارب روپے ہے جو KMCکے تفویض شدہ کاموں کے لیے زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ہے اور اس پر مزید وسائل ایم کیو ایم کے ہزاروں بھرتی شدہ کارکن ہیں جن سے اگر کام لیا جائے تو بہت بہتری آسکتی ہے ۔ کراچی اور سندھ کے اندر بلدیاتی انتخابات نہ کراکے عوام کے ساتھ شدید ظلم و زیادتی کی گئی اور ان کو ان کے جمہوری اور قانونی حق سے محروم رکھا گیا ۔مگر سوال یہ ہے کہ سندھ کی مخلوط حکومت تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر مشتمل تھی تو پھر ان دونوں پارٹیوں نے عوام کو ان کے حق سے آخر کیوں محروم رکھا ۔؟ موجودہ بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کے حکم پر کرائے گئے اگر عدالت عظمیٰ بار بار حکم نہ دیتی تو عوام اس حق سے محروم ہی رہتے ۔بلدیاتی انتخابات کے بعد عوام کو امید تھی کہ ان کے مسائل حل ہوں گے ۔شہر کی حالتِ زار بہتر ہوگی حالات بدلیں گے لیکن افسوس کہ مئیر کراچی کی اب تک کی کارکردگی نے کراچی کے عوام کو شدیدمایوس کیا ہے اور موجودہ بلدیاتی قیادت اپنی ذمہ داری پوری کر نے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔اختیارات اور وسائل نہ ہونے کا رونا روکر اور مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو مزید بے و قوف نہیں بنایا جاسکتا ۔بلدیاتی قیادت کو میگا سٹی کے لیے زبانی جمع خرچ اور نمائشی پروگرامات کر نے کے بجائے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کر نے ہوں گے ۔پارٹی اور سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر کراچی کے لیے کا م کر نا ہو گا ۔کراچی کے عوام کے لیے حقیقی طور پر کچھ کر کے دکھا نا ہو گا ۔یہ کراچی کے عوام کا حق ہے ۔ مئیر کراچی نے 100دن میں کراچی کو چمکانے کا دعویٰ کیا تھا ہم ان کو 100دن اور دیتے ہیں۔مئیر کراچی زبانی نعروں ،دعووں،پروپیگنڈے اور فوٹو سیشن کے بجائے عوام کی خدمت پر توجہ دیں۔ اگر اگلے 100دن میں بھی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ہم سڑکوں پر بھر پور احتجاج کریں گے ۔ان100دنوں میں ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنی بھرپور مہم اور کوششیں جاری رکھیں گے ۔#

Comments