-1857 کی جنگ آزادی(" ملزم کو عدالت کے روبرو حاضر کیا جائے ") قسط نمبر 20

گزشتہ قسطوں کا خلاصہ
"
برصغیر میں مجدد الف ثانی رح نے مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں گم شدہ اسلام اور اسلای تعلیمات کو ازسر نو زندہ کیا - اکبر کے بعد اس کا پڑ پوتا اورنگزیب عالمگیر تخت نشین ہوا اورنگزیب عالمگیر کے پچاس سالہ دور اقتدار میں اسلام کی نشاط ثانیہ کا عمل بہت تیز ہوا ، لیکن جیسے ہی اورنگزیب عالمگیر کا انتقال ہوا مخلوط ہندو تہذیب کے اثرات نے اپنا سر اٹھانا شروع کردیا - اس یلغار کو شاہ ولی الله نے اپنی اصلاحی دعوت اور لٹریچر کی بدولت روکنے کی بھرپور کوشش کی - سولہویں صدی کے آغاز پر ہی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں تجارت کی غرض سے قدم رکھا ، بنگال میں ، کلکتہ اور دیگر علاقوں پر اپنا قبضہ جمانے کی کوششیں شروع کردیں ، سترھویں صدی کی ابتدا میں شاہ ولی الله کے خانوادے سے شاہ عبدا لعزیز کی شکل میں عظیم رہنما سامنے آئے ، جن کے مکتب سے دو عظیم مجاہدین شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید نے اصلاح کا بیڑا اٹھایا- بنگال میں نواب سراج الدولہ نے اور میسور میں سلطان ٹیپو نے بھرپور مزاحمت کی ، مگر میر جعفر اور میر صادق کی سازشوں کی بدولت جنگ پلاسی میں سراج الدولہاور میسور میں سلطان ٹیپو کو شکست ہوئی - اٹھارویں صدی میں سید احمد شید اور شاہ اسماعیل شہید نے مرہٹہ حکمرانوں کے خلاف جدوجہد شروع کی ، اور باقاعدہ فوج ترتیب دے کر جہاد کا آغاز کیا - سکھ راجہ رنجیت سنگھ ان کے مقابلے پر آیا - یہ مجاھدین ہندوستان کے مخلتف علاقوں سے جمع ہوئے ، سرحد میں جا کر جہاد کا آغا ز کیا - ابتدائی معرکوں میں کامیابی ہوئی اور بالا کوٹ کے آخری معرکے میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید ھوئے - تحریک مجاہدین کسی نہ کسی طرح جاری رہی تا ھم اس کا زور ٹوٹ چکا تھا - 1857 میں انگریز فوج میں سور کی چربی والے کارتوسوں کے خلاف اور تنخواہوں میں اضافے کے لئے دیسی سپاہی انگریز فوج کے خلاف ہوگئے - اور ملک بھر بھی انگریز کے خلاف بغا وت پھوٹ پڑی - باغی سپاہی دلی آگئے اور بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اپنا رہنما بنا لیا - جنرل بخت خان ، فیروز شاہ دلی میں ، جھانسی میں رانی لکشمی بائی ، کانپور میں تا نیتا توپی ، اودھ میں بیگم حضرت محل سب نے بغاوت کا علم بلند کردیا - ساڑھے چار ماہ یہ کشمکش جاری رہی ، لکشمی بائی ما ری گئی - حضرت محل نے نیپال میں پناہ لی - انگریز اب دلی پر حملہ کرچکا تھا - شہر میں گلی کوچوں میں لڑائی جاری تھی ، ستمبر کے درمیانی ہفتوں میں قلعہ کا محاصرہ کرلیا گیا - مرزا الہی بخش کی مخبری اور ورغلانے پر بہادر شاہ ظفر کو ہمایوں کے مقبرے میں پناہ لینی پڑی - ہڈسن نے بادشاہ کو گرفتار کرلیا - شاہی گرفتارشدگان میں شہزادے بھی شامل تھے - تین شہزادوں کو برہنہ کرکے قتل کردیا گیا اور ان کی لاشیں واسطے عبرت کے کوتوالی کے آگے لٹکادی گئیں - بعد میں ان شہزادوں کے سر تن سے جدا کرکے بادشاہ کے سامنے لائے گئے - بہادر شاہ ظفر کو ان کی بیگم سمیت ایک کال کوٹھری میں منتقل کردیا گیا - جس کے بعد دلی کی تباہی و بربادی کی المناک داستان رقم ہونا شر وع ہوئی- انگریز بادشاہ کے خلاف مقدمہ تیار کرچکا تھا - اس موقع پر انگریز نے اس آزادی کی جدوجہد کو بدنام کرنے کیلئے لوگوں میں سے کچھ کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا تاکہ وہ اس تحریک آزادی کو ہنگامہ اور غدر ثابت کرسکیں اور یوں انگریز باوجود ظلم کرنے کےپوتر,بیگناہ ثابت ہو سکے - اور ایسا ہی ہوا - آزادی کی اس تحریک کو غدر اور ہنگامہ تعبیر کیا گیا - انگریز فوج بدمست ہاتھی کی مانند ہندوستان میں قتل عام کرتی پھرتی تھی - پھانسیوں اور سزاؤں کا ایک سلسلہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا - افراتفری کے عالم میں جس کا جدھر منہ اٹھا نکل کھڑا ہوا - اردو کے مایہ ناز شاعر مرزا غالب نے اپنے خطوط میں دلی کی تباہی کا بھرپور نقشہ کھینچا ہے -
( مقدمے کی کاروائی -پہلا حصہ )


بادشاہ بہادر شاہ ظفر خلاف کافی حد تک ثبوت جمع ہو چکے تو بالآخر ستائیس جنوری 1857 کو مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمے کا چالان پیش کیا اور کاروائی کا آغاز کردیا گیا - ہمایوں کے مقبرے سے بادشاہ کی گرفتاری اور مقدمے کی کاروائی کے درمیان کوئی چار ماہ کا وقت لگا - اس تمام وقت بادشاہ تنگ و تاریک کوٹھری میں بند رہے - انگریز سرکار نے مقدمے سے پہلے اچھی طرح تمام ثبوت و جزئیات کا یقینا نہایت باریک بینی سے جائزہ بھی ہوگا اور بطور گواہ پیش کئے جانے والوں کی ہر ممکن تیاری بھی کروالی گئی ہوگی - مایہ ناز مؤرخ ایچ -ایل -اوگرٹ کے بیان کے مطابق یہ مقدمہ مسلسل 21 دن چلا یا گیا - سرکار کی طرف سے وکیل استغا ثہ مشہور قانون دان ایف جے ہیرٹ تھا ، جبکہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی جانب سے وکیل صفائی غلام عباس مقرر ہوئے - حال یہ تھا کہ پہلے روز بادشاہ کو صبح سویرے عدالت پہنچایا گیا - ان کے ساتھ شہزادہ جوان بخت بھی تھا - کمرہ عدالت میں وقت تک کوئی سرکاری عدالتی افسر موجود نہیں تھا - بادشاہ کوئی دو ڈھائی گھنٹے کمرے کے با ھر ورانڈ ے میں کھڑے رہے - چوراسی سالہ بوڑھا قیدی اپنے ناتواں جسم کا بوجھ ایک پاوں پر ڈالتا تو کبھی تھک کر یہی بوجھ دوسرے پاؤں پر منتقل کردیتا ، ملزمان کو بیٹھنے کا حکم نہیں تھا ، جوان بخت نے اپنا کاندھا بادشاہ کے سہارے کو دیا تاکہ بوڑھے باپ کے جسم کو کچھ سہارا ہو جائے ، مگر کچھ دیر بعد ایک انگریز افسر نے روایتی کمینگی کا مظا ہرہ کرتے ہوئے جوان بخت کو تنبیہہ کی کہ وہ ملز م ہے ، عدالت کا احترام کرے اور سیدھا کھڑا رہے - غلام عباس نے انگریز افسر نے بات کرنا چاہی مگر وضح دار بادشاہ نے ہاتھ کے اشارے سے انگریز کے سامنے کسی بھی قسم کی رعا یت لینے سے روک دیا - الله الله کرکے ساڑھے بارہ بجے عدالت کا دروازہ کھلا اور سر پر انصاف کی روایتی ٹوپی (وگ ) سجائے مجسٹریٹ اور دیگر اعلی حکام کمرہ عدالت میں تشریف لائے - ان کے آنے کے کچھ دیر بعد پیشکار نے گرجدار آواز لگائی ' ملزم شاہ محمد ظفر کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے " اس کے ساتھ ہی بہا در شاہ ظفر ہمراہ جوان بخت کے پہرے میں بیس سپاہیوں کے عدالت کے رو برو پیش کے گئے -


دو سپاہیوں نے آگے بڑھ کر بادشاہ اور جوان بخت کو لکڑی کے کٹہرے کی جانب کردیا - پہلا قد م بادشاہ سلامت نے اٹھایا اور ان کے پیچھے جوان بخت بھی کٹہرے میں چلا آیا - غلام عباس اپنی نشست پر بیٹھے رہے اس خیال سے کہ توہین عدالت نہ ہوجائے - ممبران عدالت نے بائبل پر انصاف کا عہد لیا اور تعظیم میں اپنے سروں کو جھکایا ، انگریز سپاہیوں کی اکڑی گردنیں بھی ایک لمحے کو جھکیں مگر بادشاہ اور جوا ں بخت اپنا سر اٹھا کر اس منظر کو دیکھتے رہے - اس کے بعد مقدمے کی باضابطہ کاروائی کا آغاز ہوگیا - سرکاری وکیل ایف جے ہیرٹ نے بلند آواز میں فرد جرم پڑھنی شروع کی - اس میں آخر میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ" عدالت صرف ملزم پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیق کرے کہ آیا وہ مجرم ہے کہ نہیں ؟ چونکہ ملزم کی جاں بخشی کا وعدہ ہوچکا ہے - تاہم میں درخواست گزار ہوں کہ تمام الزامات کی منصفانہ تحقیق کی جائے " ایف جے ہیرٹ کے اس بیان پر بادشاہ کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ دیکھی گئی - مگر اس سے زیادہ کوئی اور تاثر نہیں تھا - چار نکاتی فرد جرم کا متن کچھ اس طرح تھا


" ملزم شاہ محمد ظفر پر پہلا الزام یہ ہے کہ وہ کمپنی کا وظیفہ خوار ( پنشن گزار ) تھا ، پھر بھی کمپنی کے افسروں اور سپاہیوں کو بغا وت پر اکساتا رہا - دوم ؛واقعہ دس مئی کے بعد متحدہ صوبہ جات کے لوگوں ، شہزادوں اور دلی کے شہریوں ( جو برطانوی رعایا تھے ) سرکار کے خلاف ہتھیار اٹھانے پہ آمادہ کیا ، سوم ؛یہ کہ پنشن گزار ( وظیفہ خوار ) ہونے کے ناطے ملزم نے اطاعت کا حق ادا نہیں کیا - اور حکومت برطانیہ سے نمک حرامی کا مرتکب ہوا - یہی نہیں بلکہ اپنے آپ کو بادشاہ ہند بنایا اور سرکار سے لڑنے کے واسطے مسلح فوجیں روانہ کیں - چہارم ؛ اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ نامزد ملزم نے اپنی نگرانی میں قلعے میں موجود انگریز قیدیوں کو نہ صرف قتل کروایا بلکہ قاتلوں کو انعام و اکرام سےبھی نوازا ، اس کے علاوہ دیگر ریاستوں اور حاکموں کو خطوط و احکامات بھیج کر انگریزوں کے قتل پر اکسایا -"


ایف جے ہیریٹ نے تفصیلی استغا ثہ پیش کرنے کے بعد عدالت سے درخواست کی کہ ان الزامات پر ملزم کا نکتہ نظر معلوم کیا جائے اور وضاحت طلب کی جائے چناچہ عدالت نے بادشاہ سے استفسار کیا کہ وہ اپنے اوپر عائد کے جانے والے الزامات کی بابت کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ بادشاہ نے حد درجہ بے اعتنائی کے ساتھ الزامات کا جواب دینے کے بجائے عدالت کی بات ان سنی کردی اور خاموشی بہتر سمجھی . عدالت کے بار بار اصرار پر غلام عباس ( وکیل صفائی ) آگے بڑھے اس سے پہلے کہ وکیل صفائی کوئی بات کرتے بادشاہ نے ہاتھ کے اشارے سے غلام عباس کو کچھ کہنے سے روک دیا - اس کے بعد نہایت اطمینان اور سکون سے صرف دو جملوں میں عدالت سے کہا


" میں ان تمام الزامات سے اپنی برأت کا اعلان کرتا ہوں ، اور یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ مجھے بتایا جائے کہ کن اختیارات کے تحت مجھ سے یہ سوال کے جارہے ہیں ؟"


بادشاہ کے اس دلیرانہ جواب کے بعد ایف جے ہیرٹ نے اپنی سبکی محسوس کی اور عدالت کو یکے بعد دیگرے کئی دستاویزات پیش کیں - جن کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ کسی طرح بادشاہ کو مجرم قرار دیا جاسکے - جو خطوط عدالت میں پیش کئے گئے ان میں زیادہ تر وہ تھے جن میں کچھ افسروں نے اسلحے کی درخواست پیش کی تھی ، اور کچھ وہ تھے جن میں شہزادوں اور سپاہیوں کی شکایات اور ان کے ازالے کے لئے درخوست کی گئی تھی - اور ان تمام درخوا ستوں اور خطوط میں بادشاہ کو احترام کے ساتھ بادشاہ سلامت لکھا گیا تھا - ان تمام خطوط کے جواب میں بادشاہ نے خاموشی مناسب سمجھی - دوران جرح کئی مرتبہ بادشاہ اونگھتے بھی رہے - جوان بخت ان کو توجہ دلاتا اور پوری توجہ سے عدالتی کاروائی سنتا ، مگر بہادر شاہ ظفر اس بےسروپا جرح پر اسی طرح لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے رہے ، گویا کہ یہ تمام تر کاروائی محض ڈرامہ اور بلاجواز وقت کی بربا دی ہے - دیکھا جائے تو بادشاہ کا یہ رویہ درحقیقت اس جبری حکومت اور غیرقانونی کمپنی حکومت کے خلاف اظہار عدم اعتماد بھی تھا اور اظہار نفرت بھی - کاروائی کے دوران ایک وقت تو یہ بھی آیا جب بادشاہ کے خلاف ان کے ملازمین اور معتمدین خاص کو بطور گواہ پیش کیا گیا ، مگر بادشاہ سلامت نے ظرف کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا - سب کے الزام اور گواہیاں نہ صرف سنیں بلکہ زیر لب مسکراتے بھی دیکھے گئے، زبان کو پر ا گندہ نہیں ہونے دیا - جب ایسی دستاویزات پیش ہوئیں جن میں بادشاہ کی رحمدلی کے ثبوت تھے یا انگریز افسروں کی مدد اور جان بچانے کا ثبوت تھا اس پر بھی بے رخی اور بے اعتنائی کا وہی عا لم تھا جو پہلے تھا . نہ خوشی کی کیفیت تھی نہ ہی غم پر دلگرفتگی - وہ تو بس اس سوال کا جواب مانگتے تھے کہ کن اختیارات کے تحت مقدمے کی کاروائی کی جارہی ہے - ؟ ( اس سوال کا جواب بادشاہ کو آخر تک نہیں ملا ) انگریز قیدیوں کے قتل کے جھوٹے الزامات پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب مقتول انگریز قیدیوں کی ایک فہرست عدالت میں پیش کی گئی ، اس موقه پر کسی گواہ نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب بادشاہ کے ایماء پر ہوا ہے - مگر پھر اگلے دن مکند لال کو بطور گواہ پیش کیا گیا جو اپنے آپ کو بادشاہ کا معتمد خاص کہتا تھا - یہ شاہی محل کے روزنامچے کا انچارج تھا- اس نے بیان دیا کہ لکھنو کے شاہی خاندان کے لوگ دلی آئے تو بادشاہ نے ایران کے شا ہ کو مدد کے لئے لکھا تھا - کمبخت نے یہ بھی جھوٹ گھڑا کہ انگریزوں کے قتل کی اجازت مرزا مغل نے بادشاہ سے حاصل کی تھی - جب وکیل صفائی نے جرح کی کہ " تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ، یا تم اس وقت موقعہ پر موجود تھے ":تو جھوٹے نے جواب دیا کہ" میں تو نہیں تھا مگر ظاہر ہے ایسا حکم بادشاہ کے علاوہ اور کون دے سکتا ہے ؟ " (جاری ہے )





Comments