برصغیر میں اسلامی احیاء اور آزادی کی تحا ریک- 'روہیل کھنڈ کا بوڑھا شیر خان بہا در خان' جنگ آزادی ١٨٥٧ ( نجیب ایوبی)‎‎‎‎: قسط نمبر 13

'روہیل کھنڈ کا بوڑھا شیر خان بہا در خان' جنگ آزادی ١٨٥٧ کیلئے تصویری نتیجہ
جنگ آزادی ; ١٨٥٧انگریز نے دھلی پر حملے سےبہت پہلے ہی کمال ہوشیاری سے پنجاب (جو مکمل طور سے انگریز کی بالادستی قبول کرچکا تھا ) سے دہلی کی جانب طلب کر لی تھیں - سر جان لارنس ،نکلسن ،تھیوللس ،مٹکاف ،کیپٹن گارڈنر ،مسٹر بارکلے ،منٹگھمری نے پنجاب سے سکھ اور مقامی پنجابی دستوں کو ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کیا اور اپنی باقائدہ فوج کے ساتھ ملا کر دہلی روانہ کرتے رہے - سکھ ریاستوں نے بھی اپنی اپنی فوجیں ان گوروں کی مدد کے لئے روانہ کیں - پنجاب کے حوالے سے جان لارنس نے لکھا کہ " سکھوں کے پناہ ظلم کے بعد ان میں بغاوت کا حوصلہ ہی نہیں تھا ، دوسرے ہم ( انگریز ) نے ان کو ڈس - آ رم ( غیر مسلح ) کرکے بغاوت کا بیج ختم کردیا - مال غنیمت کا چکر چلا کر پنجابیوں کو اپنے ساتھ کرلیا - " سکھ ریاستوں نے اپنی افواج کو ان علاقوں میں گھات لگا کر بیٹھا دیا جہاں جہاں سے دیسی باغی سپاہیوں کا ممکنہ گزر ہونا تھا - اس کے نتیجے میں بہت سے دیسی سپاہی سکھوں سے مقابلے میں مارے گئے - روپے ،پیسے اور اسلحے سےبھی سکھ ریاستوں نے انگریز کا ساتھ دیا - پنجاب کی سکھ ریاستیں دراصل اپنا کھویا ہوا وقار اور وجاہت واپس لینے کی لالچ میں انگریزوں کے مددگار بنی ہوئی تھیں - ان کو سید احمد شہید اور مجاہدین نے جو ہزیمت پہنچائی تھی اس کا زخم بھی ابھی تازہ تھا -
'روہیل کھنڈ کا بوڑھا شیر خان بہا در خان' جنگ آزادی ١٨٥٧ کیلئے تصویری نتیجہ

محمد شفیع کی تصنیف " 1857- واقعات و حقائق - پہلی جنگ آزادی میں نہایت تفصیل سے ان حالات کا ذکر کرتے ہیں انگریز کی افواج پیدل دستوں پر مشتمل تھی جس کی قیادت سر ہنری برنارڈ کے پاس تھی - یہ فوجی دستے جہاں جہاں سے گزرتے وہاں آگ و خون کا بازار گرم کرتے - ہر جوان و بوڑھے کو پھانسی پر لٹکاتے اور خواتین کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھتے - انگریز اور سکھ دونوں ہی اس درندگی میں اپنی مثالیں رقم کرر ہے تھے - بالآخر یہ فوجیں کمینگی کی حدود کو چھوتے ہوئے دہلی کے قریب علی پور گاؤں پہنچ کر پڑاؤ ڈالتی ہیں سات سو سوار ، ڈھائی ہزار پیدل فوج اور بائیس بڑی توپوں کے ساتھ ایک بڑے حملے کا پروگرام بنا یا گیا - اس سے پہلے جو چند دستے دہلی پہنچ کر محل کی جانب بڑھے تھے ان کا حشر بہت برا تھا - آدھے کشمیری دروازے پر جہنم واصل ہوئے جو بچ رہے انھیں ہندو پنڈت راؤ کی حویلی میں پناہ لینی پڑی - انگریزفوج نے اب باؤلی سرائے کی جانب سے شہر کا رخ کیا - راستے میں باغی سپاہی موجود تھے ، کانٹے کا مقابلہ ہوا - مگر انگریز کی بڑی توپوں کے آگے باغی سپاہ بےبس ہوگئی - باؤلی سرائے اور اس کے عقب والی پہاڑی پر انگریز کا قبضہ مکمل ہوگیا -


چار بڑی توپیں پہاڑ پر نصب کردیں گئیں - جنگ کے ا عتبار سے یہ پہاڑی بہت اہم جگہ تھی - اب کشمیری دروازہ اور تیمار پور کا علاقہ انگریز کی مٹھی میں تھا، دیسی سپاہی بمشکل تمام اپنے آپ کو وہاں سے نکال کر اندروں دہلی پہنچنے شروع ہوگئے - پہاڑی تو قبضے میں آگئی مگر برنارڈ کے ہوش بھی ٹھکانے آئے ، اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا یہ خیال غلط تھا کہ پہلے ہی ہلے میں ہی دہلی کو فتح کرلیں گے - باغیوں کی شدید ترین مزاحمت اور اپنی فوج کے جانی نقصان نے اس کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا - ساتھ ہی ساتھ اس کو اس بات پر بھی افسوس تھا کہ جو توپیں وہ اپنے ساتھ لایا تھا وہ قلعے کی تسخیر کے لئے ناکافی تھیں - قلعے کی د بیس دیواروں کو توڑنے کے لئے اس کو مزید بڑی توپوں کی ضرورت تھی - محاذ کی خبریں سر جان لارنس کو مل رہی تھیں - چناچہ دہلی کی انگریز فوج کو تازہ دم کمک پہنچانے اور مزید اسلحے کی ترسیل کے لئے جان لارنس دن رات مصروف تھا - پٹیاله ، نابھہ ، جنید پور اور فرید کوٹ سے سپاہیوں کی بھرتی اور روانگی کی تیاریاں عروج پر تھیں - مغربی پنجاب اور سرحد پشاور سے بھی کرائے کے فوجی اپنی قیمت لگا رہے تھے - انگریز ان کو منہ مانگی قیمت پر اپنی فوج میں بھرتی کررہا تھا - توپ و تفنگ کا بندوبست تو ہوچکا تھا - معاملہ ترسیل کا تھا اور ڈر یہ کہ کہیں باغی فوجیں بھاری بھرکم اسلحے کو راستے میں ہی نہ لوٹ لیں چناچہ واحد گزر گاہ جرنیلی سڑک کو محفوظ بنانا ازحد ضروری تھا - لہٰذا جنگی حکمت عملی کے طور پر آس پاس کے تمام گاؤ ں جلا دئیے گئے ، جس جس آدمی پر پر شبہہ ہوتا کہ وہ باغیوں کے ساتھ ہے ،اس کو پھانسی پر لٹکا ادیا جاتا - اس طرح انگریز نے اپنے سپاہی اور مقامی سپاہیوں کی مدد سے جرنیلی سڑک کو محفوظ بنایا اور اس کے بعد اسلحے کو روانہ کرنا شروع کیا - جرنیلی سڑک کی حفاظت پٹیالی فوج کی ذمہ داری تھی - ان سب انتظامات کے باوجود تھانسیر سے منشی جعفر علی اپنے مجاہدین کے ساتھ دہلی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے - منشی جعفر علی تھانسیری اور مجاہدین کی جماعت کا دہلی پہنچنا تھا کہ دیسی سپاہیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی- دیگر علاقوں سے بھی مجاہدین کی جماعتیں دہلی پہنچ رہی تھیں - سو سے زائد علماء کرام اور مجاہد دہلی میں لوگوں کے خون کو گرمانے اور حوصلہ بڑھانے کا کام کرر ہے تھے - جنگی حکمت عملی ازسر نو ترتیب پارہی تھی - جنرل بخت خان اور فیروز شاہ نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے تھے - مگر محل کے اپنے اندرونی حالات انتہائی دگرگوں تھے - بڑا شہزاده مرزا مغل فوج کا سالار تھا - دیگر شہزادوں کا عالم مت پوچھیں - کہنے کو تو مختلف برگیڈ ز مختلف شہزادوں میں تقسیم تھیں مگر ان شہزادون کا کام محض نمائشی پریڈ کا جائزہ لینا ہوتا تھا - میدان جنگ کا رتی بھر تجربہ نہیں تھا - یہی وجہہ تھی جو بخت خان کی باہر نکل کر مقابلہ کرنے کی تجویز کی ہر مرتبہ نفی کی گئی -مرزا خضر سلطان ، مرزا عبدالله ، مرزا ابوبکر کا حال یہ تھا کہ کھلے بندوں باہر نکلتے جان نکلی پڑتی تھی -حالانکہ دہلی کے سلطان بہادر شاہ ظفر کے پاس ساٹھ ہزار کی فوج موجود تھی - دیسی سپاہی منشی جعفر تھانسیری کے مجاہد اس کے علاوہ - مگر جب شاہی محل ہی حوصلہ ہار دے تو فوج بیچاری کہاں تک پتہ مارے - فیروز خان اور بخت خان اپنی تدابیر لڑاتے رہے روہیل کھنڈ کا بوڑھا شیر خان بہا در خان جس کی عمر ستر سال تھی انھوں نے بریلی کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا اور انگریزوں کو روکے رکھا - محمود خان نے اپنی ہمت سے ضلع بجنور میں انگریزوں کے دانت کھٹے کئے - اپنی جری اور بہادر فوج کے ساتھ بجنور ، دھام پور نگینہ اور آدم پر پر قبضہ کیا - بہادر شاہ ظفر نے ان کی ان ہی خدمات کے عوض ان کو امیر الدولہ ، ضیاء الملک مظفر جنگ کے خطابات سے نوازا تھا - اس وقت تک دہلی کی ماتحتی میں کل سات ریاستیں تھیں جن میں جھجر ، فرخ نگر ، بلبھ گڑھ، بہادر گڑھ ، دوجانہ ،پٹودی اور لوہارو شامل تھیں - ان ریاستوں نے اپنے حالات کے حساب سے دہلی کا ساتھ دیا . والی جھجر نواب عبدالرحمان خان اور ان کے خسر عبدالصمد خان نے انگریزوں کے خلاف جہاد جاری رکھا - راجہ نادر سنگھ والی بلبھ گڑھ نے بادشاہ کا ساتھ دیا - 1857 کے بعد جھجر ، بہادر گڑھ اور فرخ نگر کی ریا ستیں ضبط کرلی گئیں اور ان کے والیوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا- - ایک جانب بادشاہ سے محبت رکھنے والی فوج کا حوصلہ و جذبہ تھا تو دوسری طرف بادشاہ سلامت کی اپنی مجبوریاں ! بہادر شاہ ظفر کی زندگی جس دھارے پر چل رہی تھی اس کا اندازہ لگانے کے لئے احسن الاخبار کی یہ تحریر ملاحظہ فرماییں " بادشاہ کو ایک لاکھ روپیہ پنشن ملتی تھی - جبکہ اخراجات اس سے کہیں زیادہ تھے - چناچہ ہر وقت مالی پریشانی رہتی تھی - اور ساہوکاروں اور امراء سے قرض لینا پڑتا تھا - حامد علی خان . حافظ محمد داود خان ، لالہ زور وغیرہ سے قرضہ لینے کا ذکر متعدد جگہ آیا ہے - اور قرضوں کی وصولی کے لئے ان کا تقاضہ بھی مذکور ہے - اسطرح بادشاہ کی وقعت لوگوں کی نظروں میں کم ہوتی تھی - نواب حامد علی خان نے عدالت دیوانی میں مقدمے کا بھی ارادہ کیا اور بادشاہ سلامت نے ان کو رقم کی واپسی کا یقین دلایا -" اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے " ان مالی پریشانیوں کے سبب اکثر قلعہ معلی کی ملازمتیں فروخت کی جاتی تھیں - حامد علی خان کو مختاری کا عہدہ اس شرط پر دیا گیا تھا کہ وہ دس ہزار روپیہ بطور نذرانہ پیش کریں - اسی طرح ٣١ جولائی کو آغا حیدر کے داماد حسین مرزا کی درخوا پر حکم شاہی ہوتا ہے " تمہیں عہدہ نظارت سے اس وقت سرفراز کیا جاسکتا ہے جبکہ سات ہزار روپیہ نذرانہ پیش کرو -اور مرحوم آغا حیدر کے نذرانے سےدست برداری لکھو " کثیر الا ولادی کے سبب بادشاہ کو ان کی تربیت میں خاص دلچسپی نہیں تھی - حرم شاہی میں غیر محرموں کا آنا جانا ، بادشاہ کی شاعرانہ طبیعت ، اور درباری معاملات نے بادشاہ کو اولاد کی تربیت سے غافل رکھا - پروفیسر اسپیر نے ان کے بارے میں لکھا " جب یہ شہزادے تنخوا ہ میں اضافے کا مطالبہ کرتے تو کمپنی ( انگریز ) کا حکم ہوتا کہ " اگر سلاطین کا گزارہ مقرر کردہ تنخواہ میں نہیں ہوتا ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ کہیں ملازمت کرلیں " مجبوور ہوکر شہزادے قرض لیتے اور بعد میں قرض خواہوں کی طرف سے دائر مقدمات کی پیشیاں بھگتے پھرتے - بہت سے شہزادے بادشاہ کے احکامات کو نظر انداز کرکے اپنی من مانیاں کرتے پھرتے - اس شاہی خاندان میں مرزا الہی بخش جیسا ننگ ملت بھی تھا - جو اندرون خانہ انگریز سے ملا ہوا تھا - بخت خان نے شہزادوں کی ان ہی حرکات کی وجہہ سے زچ ہوکر بادشاہ سے کہہ دیا تھا کہ " اگر کوئی شہزادہ اپنی عوام کو لوٹے گا تو میں برسر عام اس کی ناک کٹوانے سے بھی گریز نہیں کروں گا " - (جاری ہے )





Comments