بر صغیر میں اسلامی احیاء اور آزادی کی تحا ریک ( نجیب ایوبی)‎ بخت خان واپس قلعے کی حفاظت پر قسط نمبر -14-15‎

با    دشاہ کی ملاقات سے فارغ ہوکر بخت خان واپس قلعے کی حفاظت پر مامور باغی فوج کے پاس چلا آیا - فیروز خان کو وہاں کی
حکمت عملی دینے کے بعد اندرون شہر باغی سپاہیوں کی ہمت بڑھانے چلا گیا - قارئین کو بتا تا چلوں کہ
 

 

فیروز کا اصل نام فیروز 
 



شاہ تھا ، یہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا چچیرا بھائی تھا ، لیکن دیگر تمام شہزادوں سے مختلف - جنگ آزادی میں 

مختلف محاذوں پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے -آزادی کی اس جنگ میں فیروز شاہ نے جس بہادری 

کے ساتھ بخت خان کا ساتھ دیا اور تمام معاملات میں بخت خان کی پشت پر رہا اس وجہ سے اس کو بھی 


فیروز شاہ کے بجائے فیروز خان پکارا جانے لگا - شاہی محل میں شہزادوں اور شہزادیوں کا آنا جانا لگا ہوا 



تھا ہر ایک کی خواہش تھی کہ ظل سبحانی ،بادشاہ سلامت سے گھڑی بھی ملاقات ہوجائے کہ آنے 

والے وقت کا کچھ پتا نہیں ،اور نہ جانے کب جدائی کا صدمہ سہنا پڑے ، آنے والے حالات اظہر من 

الشمس تھے - قلعے کے باہر سے شدید گولہ باری ہورہی تھی - باغی سپاہی اور حفاظت پر موجود پہرے 


دار بھی خوب جوابی حملے کررہے تھے - باغیوں کی پہلی ترجیح تھی کہ فصیل میں پڑنے والوں شگافوں کو 



کسی نہ کسی طرح صبح سے پہلے پہلے پر کردیا جائے - یہ گولہ باری رات بھر جاری رہی - انگریز فوج 

مرکز سے ہدایات مل جانے کے بعد قلعے پر حتمی حملے کی تیاری کر چکی تھی - حملے کی کمان میجر ہڈسن کے 

پاس تھی - ہڈسن نے اپنا عارضی کیمپ قلعے سے کچھ فاصلے پر قائم کیا - قلعے کے اندر سے اور شاہی محل 

کی تمام صورتحال بادشاہ کے چچا مرزا الہی بخش، رجب علی اور روزنامچہ انچارج کے ذریعے ہڈسن تک 

پہنچ رہی تھیں - اندروں شہر بھی مخبروں کا جال بچھا ہوا تھا - جو ہڈسن تک باغیوں کے حالات پہنچا نے 

میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے تھے - جنرل بخت خان اور بادشاہ سلامت کے درمیان ہونے والی 

ملاقات اور اس کی تمام تر روداد بھی ہڈسن تک پہنچ چکی تھی - میجر ہڈسن ایک بھی لمحے کی تاخیر کے بنا 

قلعے پر حملہ کرنا چاہتا تھا - انگریز فوج نے حکمت عملی یہ بنائی کہ اپنی چھہ ہزار فوج کو پانچ حصوں میں 

تقسیم کیا ، ہر حصے میں ایک ہزار سپاہی دے گئے جبکہ ڈیڑھ ہزار ریزرو فوج کو ہڈسن نے اپنے ہی ساتھ 

رکھا - 14ستمبر کو صبح سویرے جنرل نکلسن کی قیادت میں ایک دستہ کشمیری دروازے کی جانب بڑھا 

جبکہ ایک دستے کو قدسیہ باغ والے راستے سے حملے کا حکم دیا جاچکا تھا - گویا باغیوں پر دو جانب سے حملے 

کا پروگرام تھا - کشمیری دروازے پر ایسی سخت مڈبھیڑ ہوئی کہ الامان

 باغی سپاہیوں نے بلا کی پھرتی 

دکھاتے ہوئے نکلسن کی فوج کو ادھیڑ کر رکھ دیا - جنرل بخت خان اس رات کشمیری دروازے کے محاذ 

پر ہی تھا - اس نے قدسیہ باغ والے راستے سے تمام باغی فوجیوں کو نامعلوم مقام کی جانب بھیج د یا تھا -  

صرف کشمیری دروازے پر لڑائی ہو رہی تھی - جنرل نکلسن نے قدسیہ باغ کا محاذ خالی دیکھ کر اپنی فتح کا 

اعلان کرنا چاہا مگر اس کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ عقب سے اچانک اس طرح کا حملہ ہوجائے گا کہ جان 

بچانی مشکل ہو جائے گی - دیسی سپاہ کے اس جوابی حملے سے انگریز فوج ہڑبڑا گئی ، مگر جنرل نکلسن کسی نہ 

کسی طرح بل کھاتی سیڑھیوں پر چڑھتا ہوا فصیل تک پہنچ گیا - اس کے پیچھے کوئی سو دو سو انگریز سپاہی 

بھی فصیل پر چڑھ آئے تھے


 جنرل نکلسن کی فوج میں بیشمار کشمیری دروازے اور قدسیہ باغ کے 

معرکے میں مارے جاچکے تھے - مگر آفرین ہے باغی سپاہیوں پر کہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے - اور 

فصیل پر انگریز فوجیوں کو چن چن کر نشانے پر لیتے رہے ، فصیل میں پڑنے والے کچھ شگاف تو انگریز کی 

لاشوں سے ہی پاٹ دئیے گئے- ایک مکمل پلٹن نے کسٹم حویلی کی جانب سے شہر میں بڑھنا شروع کیا ، 

راستے بھر اس کو عوام کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا - باغی سپاہیوں نے کشمیری دروازے سے 

انگریز کا گزرنا تقریبا ناممکن کردیا تھا - لیکن اس شدید لڑائی کے باوجود انگریز فوج باغی سپاہیوں کا گھیرا 

توڑ کر قلعے کے اندر داخل ہوئی - ایک بھی باغی سپاہی زندہ نہیں بچا تھا - وطن کی آزادی کی جدوجہد 

میں کیا ہوا وعدہ آخر وقت تک نبھایا - کشمیری دروازے کی فصیل پر باغی توپ خانہ رات بھر گولے 

اگلنے کے بعد اب خاموش ہو چکا تھا - دھانے سے گرمائش اور دھواں اب بھی محسوس کیا جاسکتا تھا -  

توپ کے ارد گرد باغی سپاہیوں کی لاشیں بکھری پڑی ہوئی تھیں - میجر ہڈسن نے تیسرے دستے کو 

سینئر افسر مسٹر ریڈ کی کمان میں سبزی منڈی کی جانب روانہ کیا تھا - تاکہ وہ کشن آباد سے ہوتے ہوئے 

پہاڑ گنج کا علاقہ قابو کریں - جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا جو جنرل نکلسن نے 

لے لیا تھا

 سبزی مندی کا تمام علاقہ باغی سپاہیوں کے قبضے میں تھا - یہاں انگریز فوج کی جو درگت بنی 

وہ ڈھکی چھپی نہیں ہے - جیسے ہی انگریز فوج یہاں سے گزری ، گھات لگایے بیٹھے باغیوں نے ان کو 

آڑے ہاتھوں لیا - مسٹر ریڈ کے گولی لگی اور باقی انگریز فوج کے پاووں اکھڑنے شروع ہوگئے - کسی 

نہ کسی طرح بھاگ کر پنڈت راو کی حویلی کی طرف گئے مگر حویلی کے اطراف باغی مورچہ لگائے موجود 

تھے - نتیجتا حویلی سے متصل باڑے میں جا چھپے - اگر اس وقت ان کی مدد کو کشمیری رجمنٹ نہ پہنچتی 

تو ایک بھی انگریز زندہ نہیں بچتا - باغی فوج نے انگریزوں سے تین توپیں چھین لیں اور آئندہ کے لئے 

محفوظ مقام پر پہنچا دیں - نکلسن نے ایک دستہ کابلی دروازے کی جانب بھیجا تاکہ کابلی دروازے اور 

اجمیری گیٹ کو قابو میں کرسکیں


 لیکن نکلسن کا اصل مقصد جا مع مسجد پر حملہ کرنا تھا - کیوں کہ اس 

کو خبر ملی تھی کہ بخت خان ، جعفر تھانسری اور بہت سے دوسرے باغی یہاں سے با غیوں کو ورغلا رہے 

ہیں - ادھر مسلمانوں کو جب جا مع مسجد پر حملے کی خبر پہنچی تو آدھا دلی اٹھ کر جا مع مسجد پہنچ چکا تھا -  

جس کے ہاتھ جو ہتھیار آیا لے کر نکل کھڑا ہوا - تلوار ، خنجر ، لاٹھی . مسجد میں بھی سینکڑوں کی تعداد 

میں مسلمان پہلے سے ہی موجود تھے - منبر سے باقائدہ جہاد کا ا علان کردیا گیا اور جان کی قسم لیکر جب 

نعرہ تکبیر بلند ہوا تو سب مسلمان نعرے کا جواب دیتے ہوئے مسجد کے شمالی دروازے سے باہر کی 

جانب دوڑے - مسجد کے باہر مٹکاف اپنی فوج کے ساتھ مستعد کھڑا تھا - متکاف نے جیسے ہی 


سینکڑوں کو تلوار اٹھا ئے فوج کی جانب آتے دیکھا تو اوپن فائر کا حکم دے دیا - پلک جھپکتے ہی کوئی دو 

ڈھائی سو مسلمان مسجد کی سیڑھیوں پر گر پڑے ، مسجد کی سیڑھیاں خون سے لال ہوچکی تھیں مگر 

مسلمان تھے کہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے فوج کی جانب بڑھتے رہے - بےقابو ہجوم دیوانہ وار انگریز 

کی جانب دوڑتا جارہا تھا - مٹکاف کی فوج الٹے پیروں پیچھے جاتی رہی - گرجا گھر کے قریب پہنچ کر 

انگریز نے دوبارہ اپنے آپ کو منظم کیا جب تک اس کا بہت نقصان ہوچکا تھا - جنرل ولسن کو جب یہ خبر 

پہنچی کہ اس کی فوج کے 66 آفیسر مارے جاچکے ہیں 1100 فوجی ہلاک و زخمی ہیں تو وہ آدھا با ؤ لا 

ہوچکا تھا - قریب تھا کہ اپنی فوج کو واپس بلالے ، مگر جن علاقوں پر انگریز نے قبضہ کرلیا تھا وہ وہاں 

سے واپس آنے کی تیار نہیں تھے - چناچہ ریزرو فوج کو بھیجا گیا اور مقبوضہ علاقوں پر قبضے کو مستحکم کیا گیا  

- پھرلگا تار چار دن دلی کے گلی کوچوں میں خون کی ہولی کھیلی جانے لگی - انگریز کو جس کے بارے میں 

ذرا سی بھی بھنک پڑتی کہ اس نے باغیوں کا ساتھ دیا ہے ، باغی ہے ، یا باغیوں کا رشتہ دار ہے اس کو دیکھتے 


ہی گولی سے اڑا دیا جاتا - لوگ گھروں کو تالا ڈال کر ندی نالوں اور کھیت کھلیانوں میں جا چھپے تھے-  

یہاں تک کہ 19ستمبر تک پورا دلی انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا - بادشاہ سلامت نے خفیہ راستوں 

سے فرار کا منصوبہ بنایا تمام شاہی خاندان ایک جگہ جمع ہوا - سوچا کہ محل سے تہہ خانے کے ذریعے 

لاہوری راستہ لیں گے - مگر اندرونی مخبری کے سبب ہڈسن نے وہاں بھی اپنے فوجی تعینات کردئیے 

تھے - جبکہ مشرقی کنارے پر جمنا کی طرف سے فرار کے لئے کشتیوں کا پل تھا ، جسے بوقت ضرورت 

استمعال کیا جاسکتا تھا ، مگر بادشاہ کو اطلا ع دی گئی کہ رات کو وہ پل توڑ دیا گیا ہے ( یہ کام مرزا الہی بخش کا 

تھا )- بادشاہ کے فرار کے تمام راستے مسدود ہوچکے تھے ، بہادر شاہ ظفر کے سمدھی مرزا الہی بخش نے 

مشورہ دیا کہ محل کسی بھی وقت انگریز کے قبضے میں آجائے گا لہٰذا مناسب ہوگا کہ محل چھوڑ دیں ، ظاہر 

ہے محل چھوڑنے کے علاوہ کوئی اور راستہ بچا بھی نہیں تھا - بادشاہ نے کہا " مگر ہم اب جائیں گے کہاں 

؟؟؟ " اس کا جواب کسی کے پاس نہ تھا . ، بادشاہ سلامت کو یاد دلایا گیا کہ جنرل بخت خان سے اگلی 

ملاقات کا وعدہ ہوا تھا اور ہمایوں کا مقبرے پر ملاقات طے پائی تھی - چناچہ بیگمات کو ساتھ لیکر علی ا 

لصبح ہمایوں کے مقبرے چلے گئے - کسی سے جنرل بخت کو پیغام بھجوایا کہ میں یہاں ہوں ، ملاقات کا 

خواہشمند ہوں - حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ ایک رات پہلے بخت خان ملاقات کا متمنی تھا اور تخلیے 

میں شرف باریابی چاہتا تھا - اور آج ظل سبحانی نے ملاقات کا وقت مانگا ہے ! جنرل بخت خان نے 

پیغام لانے والے کو کہا کہ وہ سورج نکلتے ہی ہمایوں کے مقبرے کے مشرقی دروازے سے حاضر 

ہوجائے گا - خبردار کسی اور کو اس بارے میں معلوم نہ ہونے پائے - میرے ساتھ سپاہی بھی ہوں 

گے جو بادشاہ سلامت اور بیگمات کو با حفاظت دلی سے نکال دیں گے - مگر اگلے دن سے پہلے ہی مرزا 

الہی بخش نے ہڈسن کو سارا معاملہ کہہ سنایا - ہڈسن نے اپنی فوج کو الرٹ کردیا - جنرل بخت خان 

حسب وعدہ ہمایوں کے مقبرے پہنچا - سپاہیوں کو چھپا کر اکیلے ہی مقبرے میں داخل ہوا - بادشاہ 

سلامت 
 


سے گفت گو کی ، اپنے ساتھ چلنے پر راضی کیا - مگر الہی بخش نے اس بار بھی شدید مخالفت کی یہاں تک 

کہ بادشاہ نے مجبور ہوکر 
 
جنرل بخت خان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی - اس دوران جنرل بخت خان اور مرزا کے 


درمیان طویل بحث و مبا حثہ 


ہوا - مرزا الہی بخش نے جنرل بخت خان کو پٹھان ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ تم لوگ بادشاہ سے 

پرانا بدلہ لینا چاہتے ہو اور 
 

گرفتار کروا کر اپنا قبضہ کرلو گے - جس پر قریب تھا کہ نیام سے تلواریں نکل پڑتیں - مگر بادشاہ 

سلامت نے اپنی کمزور  ، 
 


ضعیفی اور بیچارگی کا واسطہ دیتے ہوئے معاملہ سلجھایا اور بخت خان کو صاف انکار کردیا -بادشاہ ظفر کے 

تاریخی الفاظ کچھ اس


 

طرح ہیں " اے بہادر ( بخت خان ) مجھے تیری بات کا یقین ہے اور میں تیری ہر بات کو دل سے پسند 


کرتا ہوں ، مگر میرے 
 

جسم کی قوت نے جواب دے دیا ہے - مجھے میرے حال پر چھوڑ دو - اور بسم اللہ کرو - یہاں سے جاؤ 

اور کچھ کرکے دکھاؤ -
 

میں نہیں ، میرے خاندان میں سےنہ سہی مگر تم یا ہندوستان میں سے کوئی ہندوستان کی لاج رکھ لے -  

ہماری فکر نہ کرو -  
 



اپنے فرض کو انجام دو
 
 جاری ہے 

-

Comments